EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

جنوبی ایشیا کی سلامتی اور جمہوری افغانستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغانستان تیزی سے بدل رہا ہے اور جو کچھ سامنے آ رہا ہے وہ حیرت انگیز ہی نہیں گہری تشویش و خوف کا باعث بن رہا ہے پاکستان اور افغانستان میں عوامی سطح پر ہی نہیں ہر حوالے سے تشویش کی لہر خوفناک حد تک بڑھ رہی ہے، حیرت انگیز نقطہ پاکستانی ذرائع ابلاغ کی عاقبت نا اندیش فکر اور خیال آرائی ہے۔ امریکی افواج کے پرا من انخلاء کے لئے دوحہ معاہدے میں طے پائے شیڈول میں رد و بدل کے بعد امریکی افواج کا انخلاء تیزی سے جاری ہے اس عرصہ میں افغان طالبان نے بہترین ”جنگی حکمت عملی“ کا مظاہرہ کیا، چین، ایران، ازبکستان تاجکستان اور بالآخر پاکستان سے متصل سرحدوں پر قبضہ کر کے انہوں نے اپنے مخالفین کے لئے فرار اور کمک کے زمینی راست/ذرائع محدود کر دیے ہیں۔

یہ اقدام انتہائی تربیت یافتہ پیشہ ور عساکر کی جنگی حکمت عملی کا عکاس ہے۔ متصل سرحدوں پر مکمل دسترس کے ذریعے ہمسایہ ممالک کو بتا دیا گیا ہے کہ اگر طالبان کو پسپا ہونا پڑا تو وہ اپنے عقبی علاقوں کی جانب جائیں گے لہذا یا تو ان کے ساتھ دوستانہ رویہ اپناو یا پھر انہیں اور ان کی سوچ و فکر کو اپنے اپنے ممالک میں قبول کرنے پر تیار رہو۔ اسی طرح کابل حکومت، شمالی اتحاد اور افغان عوام کے طالبان مخالف دھڑوں کے لئے دو راستے باقی رہ گئے ہیں یا تو وہ افغان طالبان کی اطاعت قبول کر لیں یا پھر مزاحمت کے لئے کمر بستہ ہو جائیں، افغانستان سے آمدہ اطلاعات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ طالبان مخالف دھڑے سر دھڑ کی بازی لگانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ جب طالبان نے 1996 میں قند ہار سے نکل کر پرامن افغانستان کے نعرے پر کابل کا رخ کیا تھا تب کابل حکومت مفلوج تھی داخلی سطح پر عسکری ادارہ شکست و ریخت کا شکار تھا بلکہ اپنا عملاً اپنا وجود کھو چکا تھا چنانچہ طالبان کو کابل فتح کرنے میں زیادہ دقت درپیش نہیں آئی تھی مگر اب حالات ماضی کے برعکس اور مختلف ہیں۔ جس کا اجمالی خاکہ یہ ہے کہ ماضی میں طالبان خانہ جنگی اور جنگجو سرداروں کی گرفت سے نکال کر افغانستان کو تمام شہریوں کے لئے پرامن ملک بنانے کے مدعی تھے لیکن حکمران بننے کے بعد طالبان نے جس طرز کا نظم قائم کیا وہ انتہائی آمرانہ اور تاریخی طور پر پست اور غیر لچکدار ذہنیت پر استوار تھا جسے اسلامی امارت کا مقدس لبادہ پہنا کر افغان مسلمانوں کے جذبہ ٍ ایمانی کو برانگیختہ کر کے خاموش اطاعت پر مجبور کیا گیا تھا آج کابل سمیت افغانستان کے شہروں کے تعلیم یافتہ افراد کے لئے طالبان آزمائے ہوئے حکمران ہیں جن کے انداز حاکمیت سے وہ اتفاق بھی نہیں کرتے، چنانچہ وہ ماضی کے تلخ تجربات کے احیاء و اعادہ کو قبول کر نے پر تیار نہیں۔

دوم۔ کابل حکومت گو کہ کمزور سیاسی ساکھ رکھتی ہے اور اسے پشتون افغان عوام کی وسیع پرتوں بالخصوص دیہی افغانیوں کی تائید میسر نہیں وہ اسے امریکہ کی مسلط کردہ غیر اسلامی حکومت تصور کرتے ہیں تاہم لیکن لمحہ موجود میں کابل حکومت کے پاس ماضی کے برعکس ایک تربیت یافتہ جدید اسلحہ سے لیس فوج موجود ہے بلاشبہ اس کی پیشہ ورانہ استعداد اور نورال کمزور پھر بھی کابل پر قبضہ کرنا افغان طالبان کے لئے بہت آسان نہیں ہوگا، اس تصادم میں بڑے پیمانے پر انسانی المیہ جنم لے گا افغان عوام کے علاوہ سرحد کے آر پار انسانی ہلاکتوں اور تباہی، بربادی کا خدشہ ہے

گزشتہ دنوں میرے ایک محترم صحافی دوست نے افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کو اپنے ٹی وی پروگرام میں مدعو کیا۔ اور ان سے برسراقتدار آنے کے بعد کے اہداف و مقاصد معلوم کر نے کی کوشش کی جس پر برادرم محترم کو تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے۔ چنانچہ انہوں نے 14 جولائی کو اپنے کالم میں سہیل شاہین کو مدعو کرنے کا دفاع بھی کیا ہے۔

نکتہ اعتراض جناب سہیل شاہین کو پروگرام میں مدعو کرنا نہیں بلکہ ان سے کیے گئے سوالات ہیں کیونکہ اس وقت کا بل میں انتقال اقتدار کے لئے سیاسی عمل کی بجائے متحارب فریقین میں مسلح کشمکش چل رہی ہے وہاں انتخابات نہیں ہو رہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو چاہے وہ طالبان ہوں سے یہ پوچھا جائے کہ وہ اپنی امارت بحال کر کے کیسی پالیسی اپنائیں گے؟ اس موقع پر جناب سہیل شاہین صاحب سے اس نوعیت کی گفتگو بالواسطہ طور پر افغانستان پر بزور طاقت قبضہ کرنے کی کوشش کو جائز سمجھنے اور اسے تسلیم کرنے کے مترادف عمل ہے جس پر تنقید کا ہونا جائز عمل ہے برادرم محترم کو تنقید سے نکلنے جے لیے کابل حکومت کے وزیر اطلاعات کا بھی انٹرویو کرنا چاہیے اور ان سے معلوم کرنا چاہیے کہ وہ اپنی منتخب آئینی حکومت کے بقا کے لیے کون سے سیاسی و عسکری اقدامات کرنے کا ارادہ و صلاحیت رکھتے ہیں؟

چونکہ افغان طالبان بزور بازو افغانستان میں اپنے اقتدار کی بحالی چاہتے ہیں دریں حالات ان کے سیاسی ترجمان سے کابل میں برسراقتدار آ جانے کے بعد ان کی حکمت عملی اور پالیسیوں کی بابت سوالات کرنے سے ان کے طریقہ کار کی تائید یا حمایت صاف چھلکتی ہے تنقیدی زاویئے سے یہ سوال بھی جائز طور پر ابھرتا ہے کہ برادر محترم اپنے ملک میں جمہوری آئینی اور پرامن سیاسی تبدیلی کے خواہاں ہیں جوان کا معقول اور جائز نقطہ نظر ہے مگر اپنے پڑوس میں ایسی ممکنہ حکومت کی تشکیلی کو قبول کر رہے ہیں جو نہ تو افغان آئین سے ہم آہنگ ہے نہ پرامن ہے اور نہ ہی جمہوری انداز کی حامل۔

امریکی افواج نے انخلاء سے قبل بالخصوص بگرام بیس سے نکلتے ہوئے جس طور پر افغان طالبان کو اپنا جنگی ساز و سامان گاڑیاں و دیگر اسلحہ جات عطیہ کیے ہیں ہیں کیا یہ عمل طالبان کی عسکری قوت میں اضافے اور اس افغان نیشنل آرمی کی جنگی صلاحیت کے لئے ضرر رساں نہیں جس کی تشکیل و تربیت پر امریکیوں نے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں؟

اس سوال اور پاکستان کے پالیسی ساز اداروں کے ہیجانی و غیر منطقی بیانات، اقدامات کو ملحوظ رکھا جائے تو یہ یقین کرنا ممکن ہو جاتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان طالبان کو کابل کے اقتدار تک پہنچنے کے لئے تعاون کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف امریکہ اپنے علاقائی اتحادی بھارت کے ذریعے کابل انتظامیہ کو طالبان کے مقابلے کے لئے ہزاروں ٹن گولہ بارود دلا رہا ہے تو سوال ابھرتا ہے کہ تینوں کے مقاصد و مفادات کا محور کیا ہے، ؟

اسلام آباد کسی تکلیف کے بغیر علانیہ کہہ چکا ہے کہ امریکہ اس پر چین کے ساتھ تعلقات کی نوعیت اور سطح کم کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہا ہے تا کہ چین گوادر اور سی پیک کے ذریعے خطے کے معاشی امکانات و وسائل سے مستفید نہ ہو سکے، پاکستان نے اس دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے چین کے ساتھ دوستی اور ہر قسم کے تعاون کو مستحکم بنانے کا عمل جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے تو کیا امریکہ طالبان کی عسکری و سیاسی حیثیت میں اضافہ کر کے افغانستان اور خطے میں سلامتی باہمی علاقائی تعاون ترقی اور امن و استحکام کے لئے مفیف النعنی عمل کر رہا ہے؟

اس کا جواب نفی میں ہے جبکہ بھارت کا کردار بھی امریکی کردار کے عین مطابق افغانستان میں اندرونی محاذ آرائی برادر کشی بڑھا کر وسطی ایشیا کے لئے گوادر کو تجارتی گیٹ وے بننے سے روکنے کے لئے سر گرم ہے تو پاکستان طالبان کی پیشقدمی کو قبول کر کے بھی کہیں وہی کچھ تو نہیں کر رہا ہے جس کی تمنا ضرورت امریکہ کو ہے؟ اور ہمارے وزیر خارجہ جناب شاہ محمود نے بھی ارشاد فرمایا دیا ہے کہ ”طالبان وردی کے بغیر ذہین انسان ہیں“ ۔ کیا وزیر خارجہ افغان طالبان کی فکری بلوغت یا ذہانت کا کوئی تاریخی حوالہ دے کر اپنے بیان کی سچائی ثابت کر سکتے ہیں؟ یا ان کی بات کا وہی مفہوم اخذ کیا جانا چاہیے جن کا سطور بالا میں اشارہ دیا گیا ہے!

جناب شاہ محمود کے متذکرہ بیاں کا ایک مختلف منطقی نتیجہ یہ بھی تو، برامد ہوتا ہے کہ ”وردی میں ملبوس افراد ہی ذہین نہیں ہوتے“

اب سوال سیدھا سا یہ ہے کہ کیا پاکستان کابل پر طالبان کی حکمرانی کو قبول کر نے کا متحمل ہو سکتا ہے؟ یا پھر کیا ہم طالبان کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کے لئے اب بھی کوئی۔ اقدام۔ کرنے کی پوزیشن میں ہیں؟

قیاس اغلب ہے کہ بعض فکری رجحانات اور ماضی میں اپنائی گئی پالیسیوں کے پس منظر میں شاید پاکستان کابل پر طالبان کی حکومت قائم ہونے یا کرانے میں رکاوٹ پیدا نہیں کر رہا ہے۔ تو اس کے مابعد اثرات سے چشم پوشی مناسب نہیں ہوگی۔

اگر طالبان نے طاقت کے بل بوتے پر کابل کا اقتدار حاصل کیا تو اس کے امکانی خدشات میں سے اولین طور پر افغانستان کی نسلی لسانی قومیتی تقسیم کا خدشہ برآمد ہو سکتا ہے طالبان ڈیورنڈ لائن کے پار ایک پشتون قومی /مذہبی اسلامی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو ڈیورنڈ لائن کے اس جانب آباد پشتون اور مذہبی یگانگت نیز تاریخی حوالوں سے متحدہ پشتون ریاست کے لئے فضاء زیادہ شدت سے ابھرے گی پی ٹی ایم ہی نہیں دیگر پشتون قوم پرست جماعتیں بھی اس کے لئے میدان میں آئیں گے۔

جبکہ متذکرہ نئی سیاسی صورتحال میں پاکستان کی حدود میں متحرک مذہبی سیاسی جماعتیں بھی مذہبی /قومی یکتائی کی ہمنواء بن سکتی ہیں ایسا ہونا فطری بھی ہے اور سیاسی تغیرات و ملکی سرحدوں میں ہونے والے رد و بدل کی روشنی میں انوکھا بھی نہیں تاہم یہاں سوال سیاسی تصورات کے زمروں میں صف بندی کے متعلق کسی رائے کے بارے راہ ہموار کرنا نہیں بلکہ ملک کے پالیسی سازوں اس صورتحال کے متعلق سوال کرنے کی جسارت کرنی چارہ رہا ہوں کہ کیا وہ متذکرہ صدر امکانی صورتحال کو قبول کر لیں گے؟ یا کیا انہوں نے اس امکان کو پالیسی کے خد و خال وضع کرتے ہوئے نظر انداز کر دیا ہے؟ کیا وہ غفلت شعار ہیں یا نئی صورتحال کی تشکیل و تکمیل کے آرزو مند بھی؟

اگر سطور بالا میں قیاس کیے گئے خدشے کو نظر انداز نہیں کیا گیا یا نئی صف بندی و سرحدی ردو بدل قابل قبول نہیں تو پھر کیوں پاکستان کی مرکزی مقتدرہ طالبان کی پیش قدمی روکنے کے لئے آگے نہیں آ رہی ہے۔ ؟ اس مرحلے پر یہ کہنا کہ ”ہم افغانستان میں جنگ میں کسی کے ساتھ نہیں البتہ افغان امن کے لئے پر عزم ہیں یا یہ کہ افغانستان میں کون اقتدار میں ہو اس کا فیصلہ افغان عوام کرنے کے مجاز و مستحق ہیں ہماری کوئی پسند و ناپسند نہیں“ ۔

ایسے بیانات محض لفاظی ہیں جو دلپذیر تو ہوتے ہین مگر معنی و عمل میں بے توقیر اور لایعنی۔ کیونکہ جانبداری یا غیر جانبداری کا تعین اعمال کے۔ نتائج سے اخذ ہوتا ہے نعروں سے نہیں اگر لمحہ موجود ہیں ہم طالبان کو عسکری کی بجائے سیاسی کردار اپنانے پر رضا نہیں کرپا رہے یا نہیں کرنا چاہ رہے تو عملاً ہمارا کردار افغانستان کو ماضی کی طرح ایک بار پھر طالبائزائشن کی طرف دھکیل رہا ہوگا۔ تو کیا تاریخ ہمیں غیر جانبداری تسلیم کر لے گی؟

مسئلہ کے دوسرے رخ پر بھی پاکستان کے لئے گہری تشویش کے پہلو موجود ہیں آگے کھائی اور پیچھے کنواں جیسی صورت درپیش ہے۔ اگر پاکستانی مقتدرہ اخلاص کے ساتھ طالبان کو سیاسی کردار اپنانے پر مجبور کرنا چاہے تو اس کے لئے اسے اولین طور پر ملک کے سرحدی علاقوں بلکہ شہروں میں سرایت شدہ محفوظ ٹھکانوں، اور ہم خیال مائنڈ سیٹ پر قابو پانا اشد ضروری ہوگا ملک میں کئی دہائیوں سے پیٹرو ڈالر سرمایہ کاری سے قائم ہوا جہادی کلچر اور مذہبی سیاسی طبقے کی حکمرانی کی امنگوں پر مشتمل بیانیے سمیت ان تمام تصورات اور تعبیروں کو عقلی اور انتظامی سطح پر مسترد کرنا ہوگا جو انتہائی مشکل مرحلہ ہے لیکن ایسا کرنے سے پاکستانی علاقوں سے طالبان کو ملنے والی مالی، مادی و افرادی کمک بند ہو سکتی ہے تو اس کے رد عمل میں افغان طالبان ٹی ٹی پی۔ لشکر جھنگوی اور دیگر مسلح مذہبی گروہوں کو پاکستان میں پھر سے دہشت گردی کی کارروائیوں پر ابھاریں گے تاکہ ریاست اور معاشرت دونوں کو دباؤ میں لا کر طالبان کی کمک بحال کرانے پر مجبور کیا جائے یہ امکانی خدشہ بہت وقیع ہے اور یہی گہری تشویش کا باعث بھی،

سطور بالا میں اور گزشتہ متعدد تحریروں میں سی پیک پر افغانستان میں بدامنی کے منفی پہلوؤں کے متعلق بہت کچھ لکھ چکا ہوں جو خدشات ازسر نو ابھر رہے تھے وا واہمے نہیں گزشتہ روز داسو ڈیم پر کام کرنے والے چینی انجینئروں کی بس پر ہونے والی تخریب کاری ان کی ابتداء ہے پچھلے ہفتے سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان میں انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر کی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سوشل میڈیا کے ایک چینل کے نمائندوں سے ہونے والی گفتگو کے الفاظ اہم نہیں۔

اہمیت اس امر واقعہ کی ہے کہ اس اہم حساس منطقے میں تمام تر کوششوں کے باوجود مسلح مذہبی شدت پسند عناصر کی موجودگی اور ان کے نیٹ ورک کا علانیہ اظہار ہو رہا ہے طالبان صرف افغانستان میں سامنے نہیں آرہے ہیں بلکہ پاکستان میں بھی ان کی فعال موجودگی اور ہر طرح سے تیار منظم طبقے اپنی موجودگی کا برملا اظہار کر رہے ہیں۔ 14 جولائی کو کوئٹہ میں جمعیت نظریاتی نے طالبان کے جھنڈوں کے ساتھ شہر کی اہم اور حساس شاہراہوں پر جلوس کی صورت میں مارچ کیا ہے۔

پشاور میں طالبان کے حق میں نعرے بلند ہوئے۔ بلوچستان اور کے پی کے کے سرحدی علاقوں میں برسرپیکار افغان طالبان کے ساتھی شہدا کی میتیں تدفین کے لیے آئی ہیں۔

عمیق نگاہی سے حالات کا جائزہ لیا جائے تو مندرجہ ذیل امور سامنے آتے ہیں بیس سالہ جنگ کے بعد امریکہ و اتحادی افواج اگر فاتح نہیں بن سکے تو انہوں نے ہتھیار بھی نہیں پھینکے بلکہ متحارب فریقین نے باہمی تعاون سے ایک دوسرے کو محفوظ راستے دیے ہیں امریکہ۔ کابل اور طالبان کے درمیان اقتدار کی شراکت داری طے کیے بغیر اپنا جنگی ساز و سامان اگر طالبان کے حوالے کر کے رخصت ہو رہا ہے تو اس کا واضح مقصد افغانستان کو خطے کا گھناؤنا میدان جنگ بنا کر اولاً خطے میں باہمی تعاون ترقی استحکام کے امکانات مسدود ہے تو ثانیاً خانہ جنگی اور وسیع پیمانے پر غارت گری کے واقعات کے بعد خطے میں امن کی بحالی کے لئے واپس پلٹا بھی ہو سکتا ہے اور اس بار شاید وہ اقوام متحدہ سے ایسا اختیار بھی حاصل کرے جس میں بدامنی کے مرتکب عناصر اور ان کے محفوظ ٹھکانوں یا تربیت و پرورش گاہوں کو ہدف بنانا بھی شامل ہو (خدا کرے یہ خدشہ خیال خام ثابت ہو) لیکن اگر اس کا کم از کم امکان بھی موجود ہو تو پاکستان میں اب فیصلہ سازی کے مرکز میں تبدیلی ضروری ہو چکی ہے مرکز اختیار بدلے بغیر ماضی کی غلط پالیسیوں کے چنگل سے نکلنا ممکن نہیں۔ طالبان کو بھی امریکی کردار ملحوظ رکھنا چاہیے جس نے صدام حسین کو کویت پر حملہ کر کے اپنے معاملات حل کرنے کی ترغیب دی اور پھر اتحادی افواج کے ساتھ عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی ایسا نہ ہو کہ پاکستان اور افغانستان پر ویس برا وقت آئے

پاکستان کو بالخصوص افغانستان میں تذویراتی گہرائی کے گھناؤنے خواب بننے والی غلطیوں سے جان چھڑانا ضروری ہے اور اس کا مظہر افغان طالبان کے جنگجویانہ حق حاکمیت کے روبہ عمل طریقہ کار سے فاصلے ہی ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر دنیا مخمصے میں الجھے ہوئے ہمارے کردار و بیان کو تسلیم نہیں کرے گی۔

افغانستان کی آزادی خود مختاری اور جمہوری حکمرانی کا دفاع جس سیاسی فریق کو میسر آئے وہی افغانستان کا جائز آئینی جمہوری حکمران ہوگا، آمریت پاکستان سمیت افغانستان میں بھی ناقابل قبول ہے۔

پسنی میں ہونے والا دھماکہ بھی بتا رہا ہے کہ ہمارے ملک کے ہر علاقے میں بدامنی پیدا کرنے کے۔ اجزا موجود ہیں سو ایسے میں آئین قانون اور جمہوریت کے اصولوں کا پرچم سرکاری وغیرہ سرکاری سطحوں پر سر بلند رکھنا اشد ضروری ہو گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے