گھریلو تشدد، معاشرتی پاور شو سے تشدد تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہیلو تحریم، ارے یار تم نے اتنا اچھا لکھا کہ کچھ دیر تک میں بھی سوچتی رہی کہ تمہاری اس تحریر کا اختتامیہ ہماری سیریز کا اختتامیہ ہو نا چاہیے تھا۔ یارا فطرت بہت ہی حسین ہے۔ تم نے جو سب کچھ بتایا۔ اس کے ساتھ ایک مکمل کہانی وابستہ ہے۔ جس روز شیطان مردود کی حاضری ہوئی۔ اسے ایک دن قبل ہمیں یونیورسٹی جانا تھا۔ وہاں سے ہمیں دوست مارکیٹ لے گئی۔ اور گرمی بھی نہ پوچھو کوئی ظالم ایسے جوبن پر تھی کہ ہم بچ نہ سکے۔

عشق ہو گیا۔ یوں بھی ہمیں زندگی کو چھونے کی عادت ہی نہیں رہی۔ کسی ایسی خلد کے مکین ہیں۔ سو جناب ہم کو گھر آتے ہی وہ بخار ہوا کہ سات دن تک مبتلا عشق رہا۔ لیکن بہرحال اس روز ہم جب بہت نقاہت سے اٹھے۔ بیڈ سے ٹیک لگا کر پانی پیتے ہوئے موبائل آن کیا۔ ہم سب کی وال پہ کمنٹس کی بھرمار تھی۔ تحریر کا لنک کھولا تو غالب انکل مسکرا رہے تھے۔ ہمیں جھوم جھوم کر اپنا شعر سنانے لگے

نکلنا خلد سے آ دم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آ برو ہو کے تیرے کوچے سے ہم نکلے

ہم نے ان سے کہا ”دیکھیں غالب انکل آپ ہمیں سچ سچ بتائیں معمہ کیا ہے۔ ، تو جناب مسکراتے ہوئے چلے گئے۔ ہم نے ہم سب کا لکھا نوٹ پڑھا۔ تب سمجھ آ یا کہ ہم سب نے برسوں قبل جس شعور اور آ گہی کا بیڑا اٹھایا تھا۔ وہ اس میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اس لئے وہ اپنے قاری کو امتحان میں ڈالتے رہتے ہیں۔ اور جہاں تک ہمیں یاد ہے یہ بھی ہم سب کی تاریخ رقم ہوئی ہے۔ اور اگر میری یاداشت درست ہیں تو ڈئیر ہم سب ہم دونوں مل کر کیک کاٹیں گے۔

اور سب سے بڑھ کر ان سب قارئین کا تہہ دل سے شکریہ اور خلوص و محبت کہ انہوں نے اس تاریخ کو رقم کرنے میں ہمارا سب کا ساتھ دیا۔ یہ ہے وہ حسین فطرت کہ دیکھو یار جتنا وقت یہ شعوری جنگ لڑی جا رہی تھی۔ ہم بخار سے نڈھال پڑے رہے۔ درمیان میں تمہارے میسج بھی آتے رہے کہ آپ جاگ رہی ہیں۔ مگر فون بند تھا۔ یہ ہے فطرت کہ جو لوگ صبح رقص منافقانہ میں مبتلا تھے۔ شام تک ان کی شمع بجھ چکی تھی۔ نہ مجھ کو خبر نہ میرے فرشتوں کو خبر۔

لیکن اٹھتے ہی غالب انکل کسی کے خلد سے نکلنے کے قصے سنا رہے تھے۔ رکتے توہم آم اکٹھے کھانے کی آ فر ضرور کرتے۔ کہ اس موسم میں اسے زیادہ کیا مہمان نوازی ہو سکتی تھی۔ وہ رکتے تو ہم بھی کسی سے کہہ کر تحریر حاصل کر ہی لیتے مگر ہم نے سوچا جب فطرت سے میرے تک پیغام آ یا ہے کہ نامناسب لہجہ اور زبان ہے تو پھر جان من آم کھاؤ۔

یہ تربیتی پروجیکٹ ہے۔ اور تربیت کے دوران انچارج ہو، ماں ہو تو اس کو بھی بچوں کو دو چا ر لگا نی پڑ جاتی ہیں۔ اور کچھ ضدی ماں کے لاڈلے خود ہی اپنی کتابیں پھاڑ دیتے ہیں۔ بس کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ بس اتنا سا فرق تھا۔ کچے اور پکے برتن میں۔

خیر آج کی اہم خبر ہے کہ اسلام آ باد میں افغانستان کے سفیر کی بیٹی کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اور بے ہوش لڑکی کو بے غیرت کہیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔

پچھلے ہفتے عثمان مرزا کا تشدد کا واقعہ سامنے آیا۔ اور اسے قبل گھریلو تشدد کے حوالے سے آئین سازی پہ بات ہو رہی ہے۔ گھریلو جسمانی تشدد جس کو تشدد سمجھا ہی نہیں جاتا۔ بلکہ لطیفوں تک میں اس کو مرد کی محبت کا انداز کہا جاتا ہے۔ گھریلو ذہنی تشدد اس کے الگ کہانی ہے۔ ابھی صرف جسمانی تشدد کی بات کر رہے ہیں تو میری جان ہم اس کی آئین سازی کیوں نہیں چاہتے۔ بہت سے سو کالڈ مفکرین کی جاہلانہ رائے پڑھ کر ہمیں اندازہ ہوا کہ تم درست کہتی ہو عورت کے حقوق کی زبانی کلامی بات کرنا اور اس پہ عمل کرنا یکسر مختلف ہے۔

مردوں کی ایک بڑی تعداد نہیں چاہتی کہ جسمانی تشدد کا کوئی قانون بنے۔ عورت اور بچوں کو تحفظ ملے۔ جب بات عمل کرنے کی آتی ہے تو نعرے لگانے والے بھاگ جاتے ہیں۔ اور سب سے افسوس ناک دلیل جو کسی دانشور نے لکھی ہوئی تھی۔ کہ یہ قانون نہیں بننا چاہیے۔ کیونکہ گھر کی عورتوں اور بچوں کو مارنے سے مرد کا کیتھارسس ہو تا ہے۔ اگر یہ کیتھارسس نہیں ہو گا تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو گا۔

یہ پڑھ کر دل تو کیا کہ الو کو الٹا ٹنگوا کر اس کے سر پہ دو چار ڈنڈے ماروں۔ اور پوچھوں سر جی کیتھارسس کیسا لگ رہا ہے۔ ابھی یہ افغان وزیر کی بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنانے والوں کا کون سا کا کیتھارسس ہوا ہے؟ یا عثمان مرزا جو تشدد کرتا رہا وہ کیا تھا۔

مرد کو مردانگی دکھانے کے لئے بھی عورت کیوں دکھائی دیتی ہے؟ وہ اپنے جیسے کسی مرد کے مد مقابل کیوں نہیں آ تا۔ جنگل میں کبھی آپ نے شیروں کو لڑتے نہیں دیکھا تو نیشنل جیوگرافک پہ ان کی لڑائی دیکھئے گا۔ وہ شیرنی سے نہیں لڑتے۔ گویا جنگل کے نر کا کیتھارسس نہیں ہو رہا؟

جاناں اس خلد سے نکلے آ دم کو کیسے سمجھایا جائے کہ مادہ کبھی بازو شمشیر و بازو محبت نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثریت جوڑے ایک چھت کے نیچے اکٹھے رہ کر بھی جذبوں سے خالی، روح سے ماورا زندگی پوری کر کے مر جاتے ہیں۔ اور مرتے دم تک محبت نہیں مل سکی کا گلہ کرتے ہیں۔

جب آپ نے کلیہ ہی غلط لگایا ہوا ہے تو سوال کا جواب موت، بے زاری اداسی، تشدد تو ہو سکتا ہے۔ حل نہیں۔

اس تشددی رویے کو بچے بھی ایک روایتی اور مناسب رویہ سمجھتے ہوئے نسل در نسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مگر ہم رہیں نا رہیں۔ یاد رکھئے گا عورت اول تو درد سے چیختی نہیں اور اگر وہ اب چیخ اٹھی ہے تو نسلوں کی ہمت نے جواب دے دیا ہے۔ قانون سازی ہو یا نہ ہو۔ اب اگر آدم زاد کا تشددی رویہ نہیں بدلا تو بگاڑ ہو گا۔ معاشرے میں بھی اور گھر میں بھی۔ آپ تشدد کے حق میں کوئی بھی دلیل لے آئیں۔ اس کا وزن اس لئے کم ہو گا کہ طاقت کی دلیل صبر ہے۔ طاقت کی دلیل تشدد نہیں۔ تشدد گراوٹ کی دلیل ہے۔

آپ کو اگر لگتا ہے کہ تشدد کر کے آپ سماجی اقدار کو بچا لیں گے تو بھول ہے آپ کی۔ عورت کے دل سے جب مرد اتر جاتا ہے۔ تو جناب گھر کے اندر خامشی سے وہ ایسا انتقام لے جاتی ہے جو نسلیں یاد رکھتی ہیں۔ اول تو عورت ماں ہے وہ انتقام اور نفرت پہ اترتی نہیں، یہ فطرت ہے۔ اگر نفرت گھر کر لے تو اسے درد نہیں ہو تا۔ اگر انتقام کی آگ جل اٹھے تو کوئی سمندر بجھا نہیں سکتا، نہ دھواں اٹھتا ہے۔

یہ تشدد کا رویہ ہمارے معاشرے میں ہی نہیں ہے۔ اے مغرب زدہ لوگوں یہ پوری دنیا میں ہے۔ اور ثابت ہو چکا ہے کہ متشدد انسان ذہنی مریض ہو تا ہے۔

پچھلے کالم کا لب لباب بھی یہی تھا کہ ”کچھ مرد، اس کا لب لباب بھی یہی ہے کہ کچھ مریض گندی مچھلیوں کی طرح ہوتے ہیں۔ جو سارا تالاب گندا کرتے ہیں۔ تشدد کی بڑھتی تعداد کا مطلب ذہنی مریضوں کی بڑھتی تعداد ہے۔ جب عمل ہو گا تو رد عمل بھی ہو گا۔ لہذا تشدد کرنے والے خود کو خدا نہ ہی سمجھیں تو اچھا ہے۔ جب صنم خانے کے صنم اپنے اوپر گرتے ہیں تو خبر بھی نہیں ہوتی۔

ہمارے ہمسایہ ملک نے ایک دور میں گھریلو تشدد کے خلاف ایک مہم کا آغاز کیا تھا۔ جس میں عوامی سطح پر سمجھایا جا رہا تھا کہ اگر آپ کے ہمسائے میں کسی گھر میں عورت یا بچوں پہ تشدد ہو رہا ہو تو اس گھر کی گھنٹی بجائیں اور پوچھیں سب خیریت ہے ناں؟

اسے پہلے کہ ہمسائے گھنٹی بجائیں۔ آپ اپنے اندر کی گھنٹی بجا لیں۔ کہ اگر آپ مرد ہیں تو آپ کا ہاتھ عورت پہ نہیں اٹھ سکتا ہے اور اگر اٹھتا ہے تو با فضل خدا آپ سمجھ دار ہو ہی چکے ہیں کہ آپ کس کھاتے میں آتے ہیں۔

اگر تشدد کا اتنا ہی شوق ہے تو اس ملک کو کوئی بھولو پہلوان ہی دے دیں۔ جس نے ایک دہی والے کو ماتھے پہ باٹ مارنے پہ کچھ نہیں کہا اپنا رومال خون پہ رکھ کر آ گے چل دیا کہ وہ جانتا تھا وہ کون ہے۔

جو خود آشنا ہوتے ہیں۔ ان کو کیتھارسس کے لئے عورتوں، بچوں، جسمانی کمزوروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ میدانوں کے ہیرو ہوتے ہیں۔ ہمسائے کی گھنٹی نہیں۔

اس سیریز کے دیگر حصےگولڈن گرلز: اے پردہ دارو، خود کو یوں بے پردہ تو نہ کرو۔گولڈن گرلز: عورت مر جائے تو بتانا، ہم تب روئیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

گولڈن گرلز - رابعہ الربا اور تحریم عظیم

گولڈن گرلز کے عنوان کے تحت رابعہ الربا اور تحریم عظیم بتا رہی ہیں کہ ایک عورت اصل میں کیا چاہتی ہے، مرد اسے کیا سمجھتا ہے، معاشرہ اس کی راہ میں کیسے رکاوٹیں کھڑا کرتا ہے اور وہ عورت کیسے ان مصائب کا سامنا کر کے سونا بنتی ہے۔ ایسا سونا جس کی پہچان صرف سنار کو ہوتی ہے۔

golden-girls has 26 posts and counting.See all posts by golden-girls

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments