دلیپ کمار اور سائرہ بانو – آخری بوسے کی ٹھنڈک


ایک انسان کا اپنی خواہش، چاہت اور مرضی کے ساتھ اپنے آپ کو کسی دوسرے انسان کے مکمل سپرد کر دینا محبت کہلاتا ہے۔ محبت کی مختلف تعریفیں زمانے میں رائج رہیں۔ ادب کے دانشوروں کے نزدیک محبت کا مقام کچھ اور ہے جبکہ سائنسدانوں کے نزدیک محبت صرف ہارمونز کے رد و بدل کا نام ہے۔ کسی انسان کو بے لوث، غیرمشروط اور اپنی چاہت سے اپنانے کا نام محبت ہے۔ اگر یہی محبت، چاہت اور غیر مشروط عشق آپ کے محبوب سے بھی ملے تو پھر یہ زندگی میں سونے پر سہاگہ کا کام کرتا ہے۔

خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کو ایسی زندگی نصیب ہوتی ہے۔ ان کی زندگی میں محبت صرف محبوب کی خوشی کا نام ہوتا ہے۔ دنیا میں بے شمار لوگ محبت کے سچے دعوے کرتے رہتے ہیں۔ بے شمار لوک داستانیں بھی محبت کے نام سے منسوب ہیں جو کہ نسل در نسل لکھی، پڑھی اور سنائی جاتی ہیں۔ لوک ادب میں جتنی بھی داستانیں محبت کے نام سے سنائی جاتی ہیں ان میں عاشق اور محبوب محبت کو حاصل کرنے میں بظاہر ناکام ہی رہے۔ عموماً عام معاشروں میں جنس مخالف سے محبت کا انجام شادی ہی ہوا کرتا ہے۔ یہ بھی سچ ہے شادی کرنے والے عاشق اور محبوب کو ہی دنیا کے لوگ کامیاب محبت کرنے والے تصور کرتے ہیں۔

عاشق محبوب اور میاں بیوی کے علاوہ بھی دنیا میں کئی قسم کی محبتیں موجود ہیں۔ جن میں ماں باپ، بہن بھائی، رشتہ دار، اولاد، مال و زر اور مذہبی محبت میں خدا اور نبی سے محبت شامل ہے۔ لیکن ان تمام محبتوں میں انسان کا کہیں نہ کہیں مفاد ضرور پوشیدہ ہوتا ہے۔ انسان خدا اور نبی سے بھی محبت محض اس لئے کرتا ہے کہ اس کو آخرت میں کامیابی مل جائے۔ ماں باپ اولاد سے محبت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ بڑھاپے میں ان کا سہارا بنیں گے۔

عاشق اور محبوب کی محبت میں بھی جنسی خواہش اور مستقبل کی منصوبہ بندی شامل ہوتی ہے۔ رشتہ داروں سے محبت میں بھی مختلف قسم کے مفادات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ محترم قارئین میرا یہاں کہنے کا یہ ہرگز مقصد نہیں کہ تمام محبتیں پر خلوص نہیں ہوتی اور ان میں کوئی نہ کوئی مفاد ہوتا ہے۔ میں صرف آپ لوگوں کی توجہ صرف اس نکتہ پر مرکوز کرانا چاہ رہا ہوں کہ محبت وہی ہوتی ہے جو بے لوث اور بغیر کسی مفاد کے ہو۔

میرے سامنے دو مشہور فلمی جوڑیاں ہیں جن کی زندگی کی مثال میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ آپ ان لوگوں کی حقیقی زندگی اور شخصیت کا تجزیہ کریں اور پھر خود ہی فیصلہ کریں کہ حقیقی محبت کیا ہوتی ہے۔ بھارت سے تعلق رکھنے والی فلمی جوڑی اداکار دلیپ کمار اور سائرہ بانو جب کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے فلمی جوڑی اداکار محمد علی اور زیبا ہیں۔

11 اکتوبر 1966 میں جب دلیپ کمار کی شادی ہوئی تو ان کی عمر 44 سال اور سائرہ بانو کی عمر 22 سال تھی۔ دونوں کی عمر میں 22 سال کا فرق تھا۔ عمر کے اتنے فرق کو شاید ہمارے آج کے معاشرے میں ایک پڑھی لکھی اور خودمختار خاتون پسند نہیں کرے گی۔ دونوں کی شادی ہوئی اور دونوں نے انتہائی بھرپور ازدواجی زندگی گزاری۔ ایسا لگتا تھا کہ ان کی زندگی کی کہانی شاید جنت میں کہیں لکھی گئی ہے۔ فلم انڈسٹری میں ویسے بھی شادیوں کی ناکامی کی زیادہ کہانیاں ہیں۔

برصغیر جیسے معاشرے میں پہلے تو فلم انڈسٹری کو ویسے بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا اور اگر دونوں میاں بیوی فلم ڈسٹری سے ہوں تو ان کی نجی زندگی میڈیا اور عوام کی نگاہوں کا مرکز رہتی ہے۔ اس سخت نگرانی میں بھی اس حسین و جمیل جوڑے کا کوئی ایسا پہلو عوام اور میڈیا کے سامنے نہیں آیا جس سے یہ اندازہ ہو کہ ان کی زندگی کسی بھی جنت سے کم تھی۔ زندگی بھر اولاد سے محروم یہ جوڑا بھرپور زندگی گزارتا رہا اور دلیپ کمار کی وفات تک سائرہ بانو نے محبت کو نبھایا۔ دلیپ کمار کی بیماری کے ایام میں بھی جو تیمارداری اور محبت سائرہ بانو نے کی آپ کو کسی بھی رومانوی جوڑے میں کبھی بھی نظر نہیں آئے گی۔ ان دونوں کی زندگی نے ثابت کیا کہ یہ واقعی دکھ کے ساتھی ہیں اور کامیابی سے ان دونوں نے یہ ساتھ نبھایا۔

7 جولائی 2021 کو دلیپ کمار کی وفات پر چھپنے والی اس تصویر نے میرے دل کو گرفت میں لے لیا اور مجھے یہ مضمون لکھنے پر مجبور کیا۔ سلام ہے اس فوٹوگرافر کو جس نے اس آخری تصویر میں دونوں میاں بیوی کی محبت کے آخری لمحات کو اس انداز میں محفوظ کیا کہ یہ رہتی دنیا تک محبت کرنے والوں کے لیے ایک مثال رہے گی۔ زیر نظر تصویر میں سائرہ بانو کا دلیپ کمار کی پیشانی پر آخری بوسہ اپنے اندر ایک تاریخ رکھتا ہے جسے صرف اور صرف پیار کرنے والے نازک دل ہی محسوس کر سکتے ہیں۔

دونوں کی محبت لازوال ہے۔ ان کی زندگی میں کسی بھی دنیاوی چیز کی کمی نہ تھی۔ دلیپ کمار اپنے وقت کا ایک ہردلعزیز اور خوبصورت اداکار جس پر لاکھوں حسینائیں مر مٹنے کے لیے تیار تھیں۔ سائرہ بانو ایک شوخ و چنچل اداکارہ جو اپنی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھی۔ لاکھوں لوگ ان دونوں کو پسند کرتے تھے مگر حقیقت میں یہ ایک دوسرے پر مر مٹے تھے۔ ایک دوسرے کے لئے ان کی چاہت رہتی دنیا تک امر ہو گئی۔

حقیقت میں سچی محبت ہوتی ہی وہی ہے جس میں ایک انسان کو دنیاوی لحاظ سے سب کچھ حاصل ہو اور بے شمار انتخاب بھی موجود ہوں لیکن اس کا دل صرف ایک خاص انسان کے لیے دھڑکے جس سے اس کو کوئی دنیاوی اور مالی فائدہ کا مطلب بھی نہ ہو۔ یہی پرخلوص محبت ہوتی ہے جو امر ہوتی ہے۔

دلیپ کمار اور سائرہ بانو کی شادی شدہ زندگی کے 54 سال 8 مہینے اور 27 دن ایک ساتھ گزرے۔ ان سالوں، مہینوں اور دنوں میں کئی خوشیاں اور غم گزرے ہوں گے جن کا ان خوبصورت انسانوں نے مل کر سامنا کیا ہوگا۔ دلیپ کمار کی بیماری کا عرصہ بھی کافی طویل ہے۔ مختلف تصاویر اور میڈیا سے سے ان کی زندگی کے حالات کا پتہ چلتا رہا۔ کئی ویڈیوز اور تصاویر نظر سے گزریں جن میں سائرہ بانو اپنے پڑھا پے کے باوجود بھی ہمیشہ کی طرح محبت اور خلوص کے ساتھ دلیپ کمار کی خدمت کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ وہ ہمیشہ اپنے ہاتھوں سے دلیپ کمار کی ضرورت کی تمام چیزیں ان کو مہیا کرتی اور اپنے ہاتھوں سے ان کو کھانا کھلاتی اور ان کا منہ اور چہرہ صاف کرتے ہوئے ایک پرخلوص محبت کا اظہار کرتی۔

ایک اچھا خاصا اور صحت مند نوجوان انسان بھی بیمار کی تیمارداری کرتے کرتے اکتا جاتا ہے مگر قابل تحسین ہے سائرہ بانو جن کے رویے یا چہرے سے کبھی بھی کوئی اکتاہٹ محسوس نہیں ہوئی۔ اس ضمن میں یہ کہا جا سکتا ہے جہاں دلیپ کمار ایک بہت بڑے فنکار تھے وہ اس حوالے سے بھی ایک انتہائی خوش قسمت انسان تھے کہ ان کو سائرہ بانو جیسی باوفا اور محبت کرنے والی بیوی ملی۔ بہرحال پھر بھی یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون خوش قسمت تھا دلیپ کمار یا سائرہ بانو۔ سائرہ بانو کا نصیب اس لیے بلند تھا کے وہ انسان جس کو ساری دنیا چاہتی ہے وہ صرف اور صرف سائرہ بانو کو چاہتا تھا۔

محبت کے لیے خاص روحیں ہوتی ہیں جو دنیا میں مخصوص جسموں میں داخل کر دی جاتی ہیں۔ پھر وہ اس مادی دنیا میں اپنے روحانی ساتھی کو ڈھونڈتی رہتی ہیں۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جو اس دنیا میں ہی اپنا روحانی ساتھی ڈھونڈ لیتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments