EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

آہ۔ شاہنواز بھٹو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

18 جولائی 1985 شہید شاہنواز بھٹو کا یوم شہادت۔ بھٹوز کا گوگی، ساتھیوں کا نبیل اور خاندانی نام شاہ نواز۔

وجیہہ خوبصورت جذباتی اور بہادر۔ 5 جولائی 1977 جب فوجی ڈکٹیٹر ضیاء نے جمہوریت پہ شب خون مارا۔ ایک منتخب عوامی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور بھٹو صاحب کو قید خانے میں ڈال دیا اس وقت چونکہ الیکشن کا دور تھا، مرتضٰی اور شاہنواز، بھٹو صاحب کی لاڑکانہ مہم کے انچارج تھے۔ بھٹو صاحب نے اپنے دونوں بیٹوں کو پیغام بھیجا کہ آپ باہر نکل جاؤ۔

کیوں کہ وہ ان جنرلز کی نیت بھانپ چکے تھے۔ میر و شاہنواز نے کہا کہ آپ سلاخوں کے پیچھے اور ہم آپ کو ایسی حالت میں چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ تو بھٹو صاحب نے ان کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ آپ جائیں اور باہر رہ کر جدوجہد کریں اور عالمی رائے عامہ ہموار کریں۔ یہاں آپ کی والدہ اور بہن ہیں۔ بھٹو صاحب کے حکم کے مطابق دونوں بھائی باہر گئے اقوام متحدہ میں کیس فائل کیا۔ جلسے جلوس اور ریلیاں منعقد کیں۔ بین الاقوامی لیڈروں سے ملاقاتیں کیں، بھٹو صاحب کے کیس اور جنرل ضیا کے عزائم کے بارے میں ان کو آگاہ کیا۔

ان کی کوششوں سے شاہ خالد، کرنل قذافی یاسر عرفات اور بیشتر اسلامی ممالک کے سربراہان نے جنرل ضیا پہ دباؤ ڈالا کہ بھٹو کو پھانسی نہیں دینی۔ اور ضیاء ان سے وعدہ کرتا رہا۔ بھٹو برادران نے ان عالمی رہنماؤں کو باور کرایا کہ ضیاء جھوٹا مکار ہے وہ وعدہ خلافی کرے گا۔ جس پہ شاہ خالد نے کہا کہ۔ اگر ایسی بات ہے تو ضیاء کو خانہ کعبہ بلا کر اللہ کے گھر کو گواہ بنا کر وعدہ لیں گے، ۔ اور پھر انہوں نے ایسا ہی کیا۔

جس کی گواہی جنرل اسلم بیگ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں ان الفاظ میں دی کہ ”میرے خیال میں ضیاء تو مسلمان بھی نہیں تھا، یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی اپنے آپ کو مسلمان کہے اور اللہ کے گھر میں بیٹھ کر وعدہ کرے اور مکر جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ضیاء کا خدا کے اوپر بھی کوئی خدا ہے۔ کیوں کہ اس نے اللہ کے گھر میں بیٹھ کر شاہ خالد، کرنل قذافی اور یاسر عرفات کے سامنے یہ وعدہ کیا کہ میں بھٹو کو پھانسی نہیں دوں گا۔ جس پہ ان رہنماؤں نے ان سے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ بھٹو تمہارا دشمن ہو لیکن وہ ہمارا دوست اور محسن ہے۔ آپ اسے پھانسی کی بجائے ملک بدر کر کے ہمارے حوالے کر دیں ہم اسے تا حیات اپنے پاس رکھیں گے۔ مگر اس بد بخت نے اللہ کے گھر کا بھی پاس نہیں رکھا۔“ اور بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی۔

بھٹو صاحب کی پھانسی کی خبر جب بی بی سی سی سے نشر ہوئی اس وقت یہ دونوں بھائی لندن کے ایک فلیٹ میں مقیم تھے۔ دونوں صدمے سے دوچار باپ کو آمر نے قتل کر دیا کوئی کوشش بار آور نہ ہوئی۔ ذرا تصور کریں کیا کہ کیفیت ہوگی ان بھائیوں کی۔ بقول میر کبھی میں اپنے آپ کو سنبھالو تو کبھی شاہ کو تسلی دو۔ شاہ چھوٹا تھا جذباتی تھا اور ہمارا لاڈلا تھا، کہ اچانک شاہ نے دیوار سے سر ٹکرا کر اپنے آپ کو لہو لہان کر لیا اور کہا کہ ضیا کو اب نہیں چھوڑنا ہم لڑیں گے ہر محاذ پہ لڑیں گے۔ اور میر نے کہا بس ہم نے اس لمحے فیصلہ کر لیا کہ اب بندوق کا مقابلہ بندوق سے ہوگا۔

اس کے بعد انہوں نے آزادی فلسطین کے بے باک رہنما اور بھٹو صاحب کے دوست یاسر عرفات سے رابطہ کیا ان کی نگرانی میں P۔ L۔ O کے پلیٹ فارم سے گوریلا ٹریننگ حاصل کی اور اسرائیل کے خلاف کہیں کامیاب آپریشن کیے۔ ایسے ہی ایک کامیاب آپریشن کے بعد یاسر عرفات نے تعارف کراتے ساتھیوں سے پوچھا جن کے ساتھ آپ نے یہ معرکہ سر کیا ہے، یہ کون ہیں کیا آپ انہیں جانتے ہو تو ساتھیوں نے کہا کہ یہ نبیل ہے۔ جری ہے۔ بہادر۔ نڈر اور بے خوف ہمارا کمانڈر ہے۔

اس پر یاسر عرفات نے کہا اس کے علاوہ ان کے متعلق جانتے ہو تو انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔ تو جوابا یاسر عرفات نے جب انہیں بتایا کہ یہ ہمارے محسن دوست اور شہید وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے فرزند ہیں تو وہ حیران رہ گئے کہ۔ کبھی انہوں نے اپنے رویے یا طرز عمل سے دوستوں پہ یہ ظاہر ہی نہ ہو نے دیا۔ بس اپنی ٹریننگ اور گوریلا کارروائیوں میں مگن رہے۔ اس کے بعد جب الذوالفقار کی بنیاد رکھی تو اس کے پہلے آپریشنل کمانڈر شاہنواز ہی تھے۔

اور ان کارروائیوں ہدف امریکی مفادات تھے سو ان بھٹو برادران کے خلاف ایک قسم کا ٹرائیکا امریکن C۔ I۔ A، اسرائیلی موساد اور ضیاء کی پاکستانی ایجنسیوں کی صورت بن چکا تھا۔ ضیاء شاہ کے خوف میں مبتلا تھا کہ نہ جانے کہاں دبوچ لیا جاؤ۔ ضیاء نے سازشیں جاری رکھیں۔ اور بالآخر بھٹوز کے گوگی۔ یاسر عرفات کے نبیل اور بھٹو خاندان کے شاہنواز کو موساد کے تعاون سے ان بیوی کے ذریعے ایک مہلک زہر کا استعمال کرتے ہوئے 18 جولائی 1985 کو فرانس کے شہر کینز میں رات کے وقت گھر کے اندر قتل کر دیا گیا۔

آج اس قتل کو 36 سال ہو گئے۔ مگر انقلابیوں کا شاہنواز آج بھی زندہ ہے۔ آج بھی زندہ ہے۔
جیئے بھٹو
جیئے بھٹو ازم
جیئے شہیدوں اور غازیوں کی باوقار اور لا زوال جدوجہد۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے