مشرقی نوجوان اور شادی کا سماجی ادارہ (خط # 7)
محترم ڈاکٹر خالد سہیل!
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے ۔ میں نے آپ کا گزشتہ خط پڑھا جس میں آپ نے نہ صرف مغرب اور مشرق میں خواتین کی پدرسری نظام سے آزادی کی تحریکوں کا حوالہ دیا بلکہ آپ نے اپنی جاری تحقیق سے بھی آگاہ فرمایا۔ میں نے فیمن ازم اور خواتین کی کاوش کے حوالے سے ’ہم سب‘ پر آپ کے نئے مضامین کو کل ہی پڑھا ہے۔ میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ نے اتنے آسان الفاظ میں مجھ جیسے طالبعلموں پر ان آزادی کی تحریکوں کے مختلف مراحل کو نمایاں فرمایا۔
مجھے آپ کا گزشتہ کالم بہت اچھا لگا جو خواتین کی انیسویں اور بیسویں صدی میں عورتوں کے نظریے سے بائبل لکھنے کے حوالے سے تھا۔ میرے مذہب پر مردوں کی خود قائم کردہ اجارہ داری کے حوالے سے بہت سوالات تھے جن میں سے بیشتر کے جوابات میں اس کالم میں مغربی عورتوں کی مذہب کے سماجی ادارے کے ساتھ جدوجہد میں ڈھونڈ سکی۔
سر۔ یہ ایک بہت ہی معنی خیز بحث ہو گی کہ کس طرح مردوں کے معاشرے میں روحانی کتابوں کی تشریح سے لے کر ہر رواج اور ہر رسم تک ہر چیز مردوں کے مفاد میں ڈیزائن کی گئی ہوتی ہے اور اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ پدرسری نظام جس میں مرد اپنی جینڈر کی وجہ سے تاج لیے پیدا ہوتا ہے وہیں بہت سی عورتیں جو تمام زندگی خود ٹھوکریں کھا کھا کر یہ سیکھتی ہیں کہ عورت بنی ہی اس لیے ہے۔ ایسی عورتیں اس نظام کی ہی پیداوار ہیں اور ترقی پسند عورتوں کے لئے ایک بڑا چیلنج ایسی روایتی عورتیں ہیں جو پدرسری نظام کے قلعے کی دیواروں پر روایات کی بندوقیں لیے محافظ بن کر بیٹھی ہیں۔
سر۔ آپ نے مشرق میں فہمیدہ ریاض اور کشور ناہید کی کاوش کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے پچھلے خط میں بتایا تھا کہ آپ ان شخصیات سے ملتے رہے تھے۔ دراصل مجھے ایسی خواتین کے متعلق جاننے میں بہت دلچسپی ہے۔ حال ہی میں میں نے کشور ناہید کی کتاب ’بری عورت کی کتھا‘ کے ساتھ ہی فہمیدہ ریاض کی کتاب ’میں مٹی کی مورت ہوں‘ بھی آرڈر کی تھی۔ میں اکثر رات میں ان کی کتابوں کا مطالعہ کرتی ہوں۔ مجھے بہت خوشی ہو گی اگر آپ ان شخصیات کے ساتھ اپنے تجربات بھی میرے ساتھ شیئر کریں۔
اس کے علاوہ آپ کے پچھلے خط میں آپ نے مجھ سے مشرقی خواتین اور ان کے شادی کے سماجی ادارے کے متعلق نظریات کے بارے میں دریافت کیا تھا جو کہ میرے نزدیک ایک انتہائی اہم موضوع ہے۔ یہاں ایک بیٹی کے بچپن سے ہی اس کے جہیز کی تیاری شروع کر دی جاتی ہے جیسے عورت صرف شادی کے لیے پیدا ہوتی ہے۔ اس کو مائیکے میں بات بات پر یہ کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے کہ یہ تمام شوق اگلے گھر (یعنی کہ سسرال) میں پورے کرنا۔ ابتداء سے ہی ساس اور نند لفظ سے ڈراوے شروع ہو جاتے ہیں جیسے وہ خواتین نہیں کوئی اور ہی مخلوق ہوں گی ۔
لڑکیوں کی پڑھائی بھی اچھی جگہ شادی ہو جائے، اس نیت سے کروائی جاتی ہے۔ یہاں اچھی جگہ سے مراد ہم ذات اور امیر گھر ہیں۔ مشرقی گانے اور کہانیاں سب شادی کو بہت رومینٹسائز کر کے دکھاتے ہیں۔ کم عمری سے ہی لڑکیاں خوابوں کے سلسلے بننے شروع کر دیتی ہیں۔ ”جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں“ کی تھیوری ذہن میں بسائے جہاں بیاہ دی جائیں بخوشی اس کو قبول کر لیتی ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ فیصلہ ان کے گردونواح کے با اختیار لوگوں نے نہیں بلکہ قدرت نے کیا ہے، خدا نے کیا ہے۔
ارینجڈ میرج کو شدید روحانیت اور مسرت کے ساتھ جوڑا جاتا ہے وہیں جہاں دولہا دلہن نے خود ایک دوسرے کا انتخاب کیا ہو اور اپنی پسند کا اظہار کیا ہو، انھیں نہ صرف نامناسب سمجھا جاتا ہے بلکہ ان کو بارہا کوسا جاتا ہے۔ پاکستان میں بننے والی فلمز اور ٹی وی ڈرامے سب کے پاس صرف ایک موضوع ہے اور وہ ہے ’شادی‘ ۔ کہیں ارینجڈ میرج کی رکاوٹیں اور کہیں محبت کی شادی میں دونوں فریقین کے گھر والوں کی کھڑی کی ہوئی مشکلات وغیرہ۔
کچھ دہائیوں سے انٹرٹینمنٹ کے نام پر بھی صرف یہی مسائل کی نمائندگی ہی باقی رہ گئی ہے۔ ہماری نوجوان لڑکیاں ایسے ڈرامے اور فلمیں دیکھتی ہیں پھر اردگرد کے لوگوں کی باتوں کا بھی ایسا اثر ہوتا ہے کہ ان کو شادی کوئی پرستان کا سفر معلوم ہوتی ہے جہاں متعلقہ لڑکی شہزادی ہوگی اور کوئی شہزادہ اس کی بے رنگ زندگی میں تمام رنگ بھر دے گا۔ ہاں! ساس کی صورت میں لڑکیوں کو ہمیشہ سے ایک کردار سے ڈرایا جاتا ہے مگر جہاں پیکج میں پرستان مل رہا ہو وہاں ایک آدھ ناگوار کردار بھی لڑکیوں کو قبول ہوتا ہے۔
یہاں شادی دو لوگوں میں نہیں ہوتی جن کے نظریات میں مشابہت ہو اور وہ ایک ساتھ زندگی کی آئندہ منازل کو طے کرنا چاہتے ہوں بلکہ شادی اصل میں بڑوں کی ہوتی ہے آپس میں۔ کسی مقابلے کی طرح۔ بڑے ہاتھوں میں کٹھ پتلیوں کی ڈوریں لیے بیٹھ جاتے ہیں اور بڑے فخر کے ساتھ روایتی جملے بولتے ہوئے ان ڈوروں کو کھینچتے جاتے ہیں اور اپنی مرضی سے کٹھ پتلیوں کو نچواتے ہیں۔ مقابلہ اس طرح سے ہوتا ہے کہ دوسرے تمام لوگ کرسیاں لگا کر یہ ناچ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کس بڑے کی کٹھ پتلی کس حد تک اس کے اشاروں پر ناچتی ہے؟ جو ناچتی جائیں وہ اچھی نسل کا خطاب جیت لیتے ہیں اور آئندہ کے لیے ڈوریوں والے بزرگوں کی نشست پر فائز ہو جاتے ہیں اور جو کٹھ پتلیاں اس ناچ سے انکار کر دیں وہ بہت سے حقوق سے عاق کر دی جاتی ہیں۔
سر۔ جہاں تک میرے مشاہدے کی بات ہے تو میں نے اسکول کالج اور اب یونیورسٹی میں بھی بہت سے نوجوانوں کو کچی عمر میں بڑی قسمیں کھاتے اور رومانوی و جذباتی تعلقات میں داخل ہوتے دیکھا ہے۔ ایسے بچے سماج کے خوف سے اپنے تعلق کو خفیہ رکھتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں ان موضوعات پر بات کر کے ان کو ڈھنگ سے سلجھانے کی بجائے پابندیوں اور سزاؤں سے کام لیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بچے سماجی و نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔
اس موضوع پر اگر بات کی بھی جائے تو فقط بے حیائی کی تعریف کے طور پر ان کی مثال دی جاتی ہے۔ کبھی تہہ میں اتر کر ان مسائل کو کوئی نہیں سمجھتا۔ بہت سے ٹیلینٹ رکھنے والے بچے ایسے تعلقات کی بدولت نفسیاتی مسائل کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں اور ان کا مستقبل تاریک ہوتا جاتا ہے۔ پھر بھی لوگوں کو یہ سب کسی سماجی و نفسیاتی مسئلے سے کہیں پہلے بے حیائی دکھتا ہے اور جلدی سے ایسے ہر کیس پر بے حیائی کی مہر لگا کر لوگ سمجھتے ہیں کہ حق ادا ہو گیا ہے۔ پتا نہیں وہ یہ کیوں نہیں سمجھ پاتے کہ آخر کتنے ہی کیسز پر مہر لگائیں گے؟ بالآخر تو معاملے کی جڑوں تک پہنچ کر ہی اس کو سلجھانا ہو گا۔ میں نے ’ہم سب‘ پر اپنے ایک آرٹیکل ”کوئی اس پر بھی تو بات کرو!“ میں اس موضوع کے چند عناصر پر بات کی ہے۔
سر۔ میں مکمل طور پر واقف نہیں ہوں کہ مغرب میں کم عمری کے رومانوی و جذباتی تعلقات بچوں میں کس طرح کے مسائل کا سبب بنتے ہیں لیکن پاکستان کے معاشرے اور ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں یہ سمجھتی ہوں کہ ہم کسی بھی معاشرے کا ماڈل دوسرے معاشرے پر لاگو نہیں کر سکتے۔ یہاں اگر ان ٹیبوز کو زیر بحث لانے کی بات کی جائے تو لوگ فوراً سے مغرب کے شادی اور خاندان کے سماجی اداروں کے کیڑے نکالتے ہیں کہ کیسے وہ سب ناکام ہیں۔
میں سمجھتی ہوں کہ ان ٹیبوز پر اگر بات کرنی ہو اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل پر غور کرنا ہو تو لازم ہے کہ باتوں کو ان کے سوشل کونٹیکسٹ میں پرکھا جائے کہ یہ لوگ کسی خاص بات کو معانی کیا دیتے ہیں اور یہاں پر موضوعات کس حد تک حساس ہیں اور کیسے ان عناصر کو ذہن میں رکھ کر ان کے مسائل پر بات کی جا سکتی ہے کہ ایک عام شخص کے ذہن میں بھی زیادہ نہیں تو بات کا کچھ حصہ تو اپنی جگہ بنا سکے۔
سر۔ کیا کینیڈا میں بھی نوجوانوں کے رومانوی تعلقات ایک ٹیبو ہیں؟ آپ مشرق اور مغرب میں شادی اور خاندان کے سماجی ادارے کو کسی طرح دیکھتے ہیں؟
آپ کے جواب کی منتظر
مقدس مجید
26 مئی 2021


