کیا آپ فریڈا فرام رائخمین کی خدمات سے واقف ہیں؟
فریڈا فرام رائخمین نام سنہرے حروف سے لکھا جائے گا کیونکہ انہوں نے تحلیل نفسی اور سائیکو تھراپی کی روایات میں گرانقدر اضافے کیے۔ سگمنڈ فرائڈ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اینزائٹی میں مبتلا ان NEUROTICSکا علاج کیا جو ان کے کلینک میں آ کر ان کے کاؤچ پر لیٹ جاتے تھے اور آزاد تلازمہ خیال اور فری ایسوسی ایشن سے علاج کرواتے تھے۔ فرائڈ کے مریض ان مالدار خاندانوں کے چشم و چراغ تھے جو برسوں کی تحلیل نفسی کی فرائڈ کو فیس دیتے تھے۔
فرائڈ کے مقابلے میں فریڈا فرام رائخمین نے نفسیاتی ہسپتالوں اور پاگل خانوں کے ان غریب مریضوں کا علاج کیا جو سکزوفرینیا کے مرض میں مبتلا تھے۔ فریڈا فرام رائخمین نے نفسیاتی علاج میں ایسی تبدیلیاں کیں کہ اس سے زیادہ سے زیادہ مریض استفادہ کر سکیں۔ وہ ذہنی مریضوں کو بھی انسان سمجھتی تھیں اور ان کا تہہ دل سے احترام کرتی تھیں۔ ان کی کتاب
PRINCIPLES OF INTENSIVE PSYCHOTHERAPY
ایک ایسی کتاب ہے جسے نفسیات کے ہر اس طالب علم کو پڑھنا چاہیے جو ایک کامیاب تھراپسٹ بننا چاہتا ہے۔ میں نے خود اس کتاب سے بہت کچھ سیکھا۔
فریڈا فرام رائخمین 1889 میں جرمنی ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والدین کو علم کا بہت شوق تھا اس لیے انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے اعلیٰ تعلیم کا انتظام کیا۔ فریڈا فرام رائخمین کو علم نفسیات میں خاص دلچسپی تھی اس لیے وہ ایک ماہر نفسیات بنیں۔
ماہر نفسیات بننے کے بعد انہوں نے 1926 میں ایرک فرام سے شادی کی جو بعد میں خود بھی ایک مشہور ماہر نفسیات بنے۔ ان دو ماہرین نفسیات کی شادی سولہ سال رہی اور 1942 میں دونوں ایک دوسرے سے عزت و احترام سے جدا ہو گئے۔
جب جرمنی میں نازی حکومت کی وجہ سے یہودیوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوا تو فریڈا فرام رائخمین پہلے فرانس اور پھر امریکہ آ گئیں جہاں انہوں نے بائیس برس مریضوں کی خدمت کی۔
فریڈا فرام رائخمین نے ایک تجربہ کار استاد کی حیثیت سے اپنی کتاب میں نفسیات کے طالب عملوں اور ڈاکٹروں کو بتایا کہ ایک کامیاب تھراپسٹ میں مندرجہ ذیل خصوصیات ہونی چاہئیں
1۔ اچھا سامع GOOD LISTENER
کامیاب تھراپسٹ بڑے آرام اور سکون سے اپنے مریضوں کی کہانیاں سنتے ہیں اور ان کی باتوں پر غور کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر بھی دھیان دیتے ہیں کہ مریض کیا کہہ رہے ہیں کیا نہیں کہہ رہے اور کیا کہنا چاہتے ہیں۔ جب مریض دیکھتے ہیں کہ ان کا تھراپسٹ ان کی باتیں غور سے سن رہا ہے تو ان کا اپنے تھراپسٹ پر اعتماد بڑھتا ہے اور اس کی امید بڑھتی ہے کہ اس کا تھراپسٹ اس کے علاج میں کامیاب ہوگا۔
2۔ مریضوں کی عزت RESPECTING PATIENTS
کامیاب تھراپسٹ اپنے مریضوں کی عزت کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ انسان ہونے کے ناتے ڈاکٹر اور مریض کی زندگی کی بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ جو لوگ ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں ان کے تجربات بھی کئی حوالوں سے ڈاکٹروں کے تجربات کی طرح ہوتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ڈاکٹر بند آنکھوں سے جو خوب دیکھتا ہے ذہنی مریض کھلی آنکھوں سے وہی خواب دیکھتے ہیں اور اسے حقیقت سمجھ لیتے ہیں اسی لیے وہ ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ بعض ماہرین ذہنی بیماری کو نیند اور خواب کی بیماری سمجھتے ہیں۔
کامیاب تھراپسٹ جانتے ہیں کہ خوابوں اور ذہنی مریضوں کے عوارض سمجھنے کے لیے ہمیں ایک جداگانہ منطق کی ضرورت ہے۔
3۔ اچھی نیندNEED OF SLEEP
کامیاب تھراپسٹ اپنی روزمرہ زندگی میں اپنی نیند کا خیال رکھتا ہے کیونکہ اگر اس کی نیند پوری نہ ہوگی تو وہ تھکا تھکا اور کھویا کھویا رہے گا اور اپنے مریضوں کا تسلی بخش علاج نہ کر سکے گا۔ میرے ایک مریض نے مجھے بتایا تھا کہ اس کے پچھلے تھراپسٹ کو انٹرویو کے دوران نیند آ گئی تھی اور وہ مریض اٹھ کر چلا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد وہ کبھی واپس اس تھراپسٹ سے علاج کروانے نہیں گیا
4۔ احساس تنہائی OVERCOMING LONELINESS
کامیاب تھراپسٹ اپنے احساس تنہائی کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کی زندگی میں ان کے دوست رشتہ دار اور رفیق کار ہوتے ہیں اور وہ اپنے احساس تنہائی کو اپنے اپنے مریضوں سے پورا نہیں کرتے۔
5۔ احساس تحفظ FEELING SECURE
کامیاب تھراپسٹ اپنی ذاتی زندگی میں احساس تحفظ رکھتے ہیں۔ ان میں خود اعتمادی ہوتی ہے۔ ان کی خود اعتمادی اور احساس تحفظ ان کے مریضوں میں بھی خود اعتمادی اور احساس تحفظ پیدا کرتا ہے۔ وہ اپنے تھراپسٹ سے ایک کامیاب اور خوشحال زندگی گزارنے کے راز جانتے ہیں۔
6۔ غصے کے جذبات DEALING WITH HOSTILE FEELINGS
چونکہ بہت سے مریض اپنی زندگی سے بیزار ہوتے ہیں اس لیے بعض دفعہ وہ اپنے تھراپسٹ سے بھی شاکی اور ناراض ہو جاتے ہیں۔ کامیاب تھراپسٹ مریضوں کی شکایات تحمل اور بردباری سے سنتے ہیں اور ان کے غصے کا جواب غصے سے نہیں دیتے۔
7۔ کلچر کا فرق RESPECTING CULTURAL VALUES
اگر تھراپسٹ کا کلچر مریضوں کے کلچر سے مختلف ہو تو کامیاب تھراپسٹ اپنے مریضوں کے فلسفہ حیات کا احترام کرتے ہیں۔ فرائڈ فرماتے تھے ’تھراپسٹ کا کام مریض کی مدد کرنا ہے اسے اپنی ذہانت سے متاثر کرنا نہیں‘
8۔ سچ کی تلاش LOVE FOR TRUTH
کامیاب تھیرپیسٹ جانتے ہیں کہ سچ دو طرح کے ہوتے ہیں
سائنس کے معروضی سچ
انسانوں کے ذاتی سچ
کامیاب تھراپسٹ معروضی سچ کا بھی احترام کرتے ہیں اور ذاتی سچ کا بھی۔ جوں جوں مریض صحتمند ہوتے ہیں ان کا زندگی کے بارے میں رویہ حقیقت پسندانہ ہوتا ہے اور وہ زندگی کے مسائل سے نبرد آزما ہونا سیکھتے ہیں۔ کامیاب تھراپسٹ اس اہم سفر میں مریض کے ہمسفر بن جاتے ہیں اور ضرورت کے وقت ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ تھے فریڈا فرام رائخمین کے کامیاب تھراپسٹ کے بارے میں نظریات۔
فریڈا فرام رائخمین 1957 میں فوت ہوئیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کی خدمات کو یاد رکھنے کے لیے AMERICAN ACADEMY OF PSYCHOANALYSIS
نے FREIDA FROMM REICHMAN AWARD کا اعلان کیا جو ہر سال نفسیات کے ایک معتبر و معزز سائنسدان کو دیا جاتا ہے۔
فریڈا فرام رائخمین کے جن مریضوں کو بہت شہرت ملی ان میں رولو مے کے ساتھ ساتھ جوئین گرین برگ بھی ہیں جن کا خود سوانحی ناول
I NEVER PROMISED YOU A ROSE GARDEN
بہت مقبول ہوا۔ اس ناول میں DR FRIED کا کردار ڈاکٹر فریڈا فرام رائخمین کا ہمزاد ہے۔


