ریٹائرڈ جرنیل، ان کے انکشافات اور پاکستانی سیاست


ویسے تو اس وقت لگتا ہے کہ پاکستانی سیاست ایک ٹھہرے ہوئے پانی کے تالاب کی مانند ہے جس کے گدلے پانی میں کوئی بھی انکشاف کسی قسم کا ارتعاش پیدا کرنے میں ناکام ہی رہتا ہے، تاہم جنرل مرزا اسلم بیگ کی سوانح عمری ”اقتدار کی مجبوریاں“ یقیناً تالاب کی تہہ میں خوابیدہ مگر مچھوں کی بے چینی کا باعث ضرور بنیں گی۔ پاکستان میں کوئی سویلین کچھ بھی لکھ دے، مگر اس کے درست اور مستند ہونے پر ذہن میں سوال بنا رہتا ہے مگر اس کے برعکس کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ جرنیل کی کہی ہوئی بات کو ہمارا ذہن فوری طور پر سچا، مستند اور قابل بھروسا مان لیتا ہے کیونکہ جرنیل ہماری ریاست کے طاقت کے تکونی اہرام یعنی power pyramid کی چوٹی پر براجمان رہے ہیں اور کوئی بھی معاملہ ان کی معلومات اور دسترس سے دور نہیں ہوتا یعنی ”مستند ہے ان کا فرمایا ہوا“

ماضی حال میں تین جرنیلوں کی تصنیفات؛ جنرل اسد درانی کی ”اسپائی کرونیکلز“ ، جنرل شاہد عزیز کی ”یہ خاموشی کہاں تک“ اور جنرل مرزا اسلم بیگ کی ”اقتدار کی مجبوریاں“ مطالعہ پاکستان میں ایک زبردست اضافہ ہیں، ان تصانیف میں جو ہوش ربا انکشافات کیے گئے ہیں، وہ عام طور پر پبلک کے دائرہ علم سے اب تک باہر رہے ہیں اور انتہائی چونکا دینے والے ہیں۔ ان انکشافات سے ایک جانب تو فوج کے بطور ادارہ پاکستان کی ریاستی پالیسی سازی میں غالب کردار کی شہادت ملتی ہے جو کہ آئین کی رو سے پارلیمنٹ کا اور انتظامیہ ایگزیکٹو کا کام ہے، اور دوسری جانب یہ انکشافات مطالعہ پاکستان کے طلبا کے لیے جگسا پزل کے کھوئے ہوئے بلاکس کا کام کرتے ہیں

کارگل ہماری فوجی و سیاسی تاریخ کا انتہائی متنازع واقعہ ہے اور شاید ہمیشہ رہے گا جس کی وجہ سے نہ صرف انڈیا اور پاکستان کے درمیان باہمی اعتماد بری طرح متاثر ہوا بلکہ پاکستانی سیاست اتھل پتھل ہو کر رہ گئی، بلکہ یوں کہیے ہماری سیاسی تاریخ کا دھارا ہی مڑ کر رہ گیا۔ نواز شریف کی مستحکم منتخب حکومت کا زوال کا سبب یہی کارگل کا واقعہ تھا

کارگل جنگ پر جنرل اسد درانی اپنی کتاب اسپائی کرونیکلز میں کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل مشرف کا جنون تھا۔ پاکستان کے پاس کچھ علاقے تھے جو کہ سٹریٹیجک طور پر اہمیت کے حامل تھے لیکن 1971 کی جنگ کے بعد پاکستان ان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ جنرل شاہد عزیز کے مطابق ابتداء میں کارگل آپریشن کے بارے میں صرف چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف، چیف آف آرمی اسٹاف لفٹیننٹ جنرل محمد عزیز، فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جاوید حسن اور 10 کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد کو ہی علم تھا۔ کور کمانڈروں کی اکثریت اور پرنسپل اسٹاف آفیسرز کو اس بابت اندھیرے میں رکھا گیا تھا۔

جنرل عزیز کہتے ہیں کہ ”یہاں تک کہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل توقیر ضیاء کو بہت بعد میں جا کر معلوم ہوسکا جو اس وقت ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے آئی ایس آئی کے تجزیاتی ونگ میں خدمات انجام دے رہے تھے“ ۔ دوسری جانب سابق ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی دعویٰ کرتے ہیں کہ کارگل ایڈونچر سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے حواس پر چھایا ہوا تھا اور یہ ہر لحاظ سے ایک احمقانہ آپریشن تھا۔

وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے بارے میں نواز شریف بہت کم جانتے تھے۔ جب انڈیا نے زبردست فوجی رد عمل دکھایا اور بوفورز توپوں اور ہوائی حملوں سے کارگل اور قریبی پہاڑیوں پر قابض لڑاکؤں جنہیں پاکستان مجاہدین اور انڈیا۔ پاکستانی فوجی کہہ رہا تھا، کو بھاری جانی نقصان پہنچایا تو پاکستان پر دباؤ آیا اور جنرل مشرف کو وزیراعظم نواز شریف سے واشنگٹن جاکر صدر بل کلنٹن سے جنگ بندی کروانے کا کہنا پڑا

جنرل اسد درانی نے دعویٰ کیا کہ کارگل آپریشن کی بری طرح ناکامی کے بعد جنرل مشرف پر دباؤ تھا اور وہ جانتے تھے کہ نواز شریف انہیں برطرف کردیں گے۔ لہذا انہوں نے ایک ہنگامی منصوبہ تیار کیا۔ کارگل آپریشن بھارتی وزیراعظم واجپائی کے لاہور دورے کے بعد کیا گیا تھا۔ واجپائی کے اقدام سے بھارت کو فائدہ ہوا تھا کیونکہ ہر کوئی کارگل کے لئے پاکستان کو مورد الزام ٹھرا رہا تھا جو ہر طرح سے ایک احمقانہ آپریشن تھا۔

نواز شریف کی منتخب حکومت کو برطرف کرنے کے بارے میں جنرل شاہد عزیز نے انکشاف کیا کہ جنرل پرویز مشرف 12 اکتوبر 1999 ء سے قبل میاں نواز شریف کی حکومت کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے جنرل شاہد عزیز اس وقت ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز تھے جنرل مشرف نے سری لنکا جانے سے قبل 10 کور کمانڈرز جنرل محمود سی جی ایس جنرل عزیز خان اور ڈی جی ایم او یعنی انہیں یہ ذمہ داری سونپ دی تھی، میاں نواز شریف کو برطرف کرنے پی ٹی وی اسلام آباد پر قبضے اور جنرل پرویز مشرف کو کراچی میں بحفاظت اتارنے کے پورے آپریشن کی نگرانی جنرل شاہد عزیز نے خود کی تھی، جنرل شاہد عزیز نے اعتراف کیا وہ لوگ اسے سیاسی انقلاب سمجھ رہے تھے۔

بطور ٹو اسٹار ڈی جی ایم او جنرل مشرف نے بے نظیر کے دوسرے دور حکومت میں ایک اجلاس میں کارگل ایڈونچر کی پریزنٹیشن دی تھی۔ مشرف نے بڑے یقین سے کہا تھا ”وزیراعظم، ہم یہ کر سکتے ہیں“ ، جواب میں بینظیر نے کہا کہ شاید فوجی طور پر یہ ممکن ہے اور آپ لوگ یہ کر سکتے ہو لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟ اس سوال پر اجلاس میں سناٹا چھا گیا، بینظیر نے کہا کہ بین الاقوامی برادری اسے قبول نہیں کرے گی اور آخر کار ہمیں وہاں سے واپس آنا ہوگا اور لہذا یہ سیاسی طور پر یہ پائیدار ایڈونچر نہیں ہے ”

جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ نے اپنی کتاب میں بھٹو کی پھانسی کے معاملے پر بھی روشنی ڈالی کہ پھانسی کی سزا دینے سے پہلے جنرل ضیا الحق نے آفیسرز اور جوانوں کا ردعمل معلوم کرنے کے لیے تمام کور کمانڈرز کو جائزہ لینے کا کہا، کور کمانڈروں کے اجلاس میں، میں (اسلم بیگ) نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ بھٹو کو پھانسی دینا نہایت ہی غلط فیصلہ ہوگا۔ اس کے نتائج سنگین ہوں گے، ایسی پیچیدگیاں پیدا ہو گی جنھیں سنبھالنا مشکل ہو گا۔ اس سے پنجاب اور سندھ کے لوگوں کے درمیان نفرتیں بڑھیں گی۔ بہتر ہوگا کہ بھٹو کو جلاوطن کر دیا جائے۔

ان کے مطابق فلسطین کے یاسر عرفات، سعودی عرب کے شاہ فیصل، لیبیا کے کرنل قذافی اور متحدہ عرب امارات کے حکمران بھٹو صاحب کو اپنے ممالک میں پناہ دینے کی ذمے داری لینے کے لیے تیار تھے۔ جنرل بیگ کی اس بات سے کورکمانڈر ناراض ہو گئے۔ کانفرنس ختم کردی گئی۔ ان کی رائے چیف تک پہنچا دی گئی۔ میں انتظار میں تھا کہ ان کے ساتھ اب کیا ہوگا۔ لیکن کوئی رد عمل سامنے نہ آیا اور جنرل بیگ کو اس وقت بڑی حیرانی ہوئی جب چند روز بعد انہیں چیف آف جنرل اسٹاف تعینات کر دیا گیا۔

جنرل اسلم بیگ کا یہ اعتراف ہے کہ سن 1964 ء میں جنرل ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کو زیادہ مقبولیت حاصل تھی لیکن انہیں دھاندلی کے ذریعے ہرا دیا گیا، جس سے مشرقی پاکستان کے عوام میں بددلی پھیلی، ایک طرح سے ریاستی اسٹبلشمنٹ کی جمہوریت کے خلاف جرائم کی آفیشل تصدیق ہے۔ اسی طرح سقوط مشرقی پاکستان، جس پر حمود الرحمان کمیشن کی تفصیلی رپورٹ ابھی تک سرکاری طور پر شائع ہونے کی منتظر ہے، کے بارے میں جنرل اسلم بیگ کہتے ہیں کہ جولائی 1971 ء تک فوج نے مشرقی پاکستان میں حالات کنٹرول کر لیے تھے، اس وقت جب وہ لیفٹیننٹ کرنل مرزا اسلم بیگ، تھے، نے تحریری طور پر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ نیازی کو کہا کہ اب اقتدار سول انتظامیہ کے سپرد کر کے سیاسی عمل شروع کیا جائے۔

یہ بات جنرل نیازی کو پسند نہ آئی کیوں کہ وہ طاقت کے نشے میں چور تھے۔ جنرل نیازی نے ان سے تلخ کلامی کی اور تین دن کے اندر اندر کمانڈ تبدیل ہو گئی اور مرزا اسلم بیگ کو زیرعتاب لایا گیا۔ انہیں واپس راولپنڈی بھیج دیا گیا۔ انہوں نے ایڈمرل احسن اور جنرل صاحب زادہ یعقوب علی خان کا بھی ذکر کیا ہے، جو سیاسی عمل بحال کرنے کے حامی تھے، جنرل بیگ کے مطابق جب ان کی بات نہ سنی گئی تو وہ مستعفی ہو گئے۔ یہی موقف فیض احمد فیض، حبیب جالب اور پروفیسر وارث میر سمیت بہت سے سویلینز کا تھا، جو مشرقی پاکستان میں ملٹری ایکشن کے خلاف تھے، لیکن ان سب کو غدار قرار دیا گیا، جب کہ مرزا اسلم بیگ بعد ازاں آرمی چیف بن گئے

جرنیلوں کے ہوشربا اور سنسنی خیز انکشافات ایک جانب تو سیاسی مبصرین میں پذیرائی حاصل کر رہے ہیں مگر دوسری جانب ان ریٹائرڈ فوجی افسران پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ سب کچھ جانتے ہوئے کہ کچھ فیصلے قوم و ملک کے مفاد میں نہیں ہیں، اس وقت نوکری جانے کے خوف سے کیوں خاموش رہے تھے، امید ہے کہ جرنیلوں کے ضمیر انہیں ملک اور قوم کے بارے میں غلط فیصلوں سے متعلق اپنے حلف کی حدود میں رہتے ہوئے پبلک کو بروقت آگاہ کرنے پر مجبور کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words