نال بلوچستان کا سفر


بلوچستان کا نام ہمارے میڈیا اور دیگر لوگوں نے کچھ ایسے رنگ میں پیش کیا ہے کہ عام پاکستانی جس کا تعلق بلوچستان سے نا ہو یا جس نے کبھی بلوچستان نہیں دیکھا ہو۔ اس کے لیے بلوچستان یا دہشت کی علامت ہے یا پھر جو دوسرا خیال ذہن میں آتا ہے وہ جابر و ظالم سرداروں کے زیرنگیں کچلے ہوئے پسے ہوئے لوگ جنہیں کسی قسم کا شعور نہ ہو۔

یہ اور اسی طرح کے خیالات لیے ہم بلوچستان کے ضلع خضدار کے ایک گاؤں نال کی طرف عازم سفر ہوئے۔ کراچی سے آتے ہوئے نال خضدار سے کچھ پہلے RCD شاہراہ سے بائیں جانب کوئی 28۔ 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک گاؤں ہے۔

نال ہی وہ گاؤں ہے جہاں مہذب اور شریف النفس پاکستانی سیاست کی قدآور شخصیت میر حاصل خان بزنجو کا خاندان آباد ہے۔

ہم جب نال کے لیے مڑے تو دور دور چٹیل میدانوں کا ایک سلسلہ تھا جو ہمیں بتا رہا تھا کہ ہم بلوچستان کے کسی پسماندہ علاقے میں ہیں۔ مگر جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے گئے ویسے ویسے ہم حیران ہوتے جاتے تھے۔ نال کے اطراف پہاڑ معدنیات اور ماربل سے بھرپور ہیں۔ اور یہاں بزنجو خاندان نے اپنے لوگوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے فقیدالمثال کام کیے ہیں۔ ایک چھوٹی سی ماربل ولیج بنائی ہے جہاں جدید ترین مشینیں نصب ہیں پہاڑوں سے لائے گئی بڑی بڑی چٹانوں کو کاٹ کر قیمتی ماربل ٹائلز میں تبدیل کرتے ہیں اور یہاں کے لوگوں بہترین روزگار کے موقع فراہم کرتے ہیں۔

یہاں جدید ڈرپ ایریگیشن سسٹم کے ذریعے انگور کی مختلف اقسام پیدا کی جاتی ہیں۔ حال ہی میں بزنجو فیملی نے یہاں زیتون کے باغ لگانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے اور اب سینکڑوں ایکڑ اراضی پر زیتون کے باغ تیاری کے مراحل طے کر رہے ہیں۔

یہاں بزنجو فیملی اپنے سردار جناب میر اسلم بزنجو کی قیادت میں نا صرف اس بنجر علاقے کو تیزی سے سر سبز و شاداب کر رہی ہے بلکہ یہاں کے مقامی اور غیر مقامی لوگوں کی بہترین زندگی بھی فراہم کر رہی ہے۔

ہم نے ہر جگہ بزنجو فیملی کے لوگوں کو اپنے علاقے کے لوگوں سے بہت عزت و تکریم سے سلام دعا کرتے دیکھا اور اسی طرح مقامی لوگ بھی انتہائی تعظیم کا مظاہرہ کرتے نظر آتے۔

یہاں آ کر ہمارا جابر و ظالم سرداروں والا خیال ہوا ہو گیا۔ اور ہم نے محسوس کیا کہ یہاں کے سردار اور سن کی فیملی کے لیے تعظیم تو عام ہے مگر جبر و ڈر کا کہیں شائبہ بھی نہیں۔

ہمارے میزبان سکندر بزنجو نے ہمیں تاریخی اہمیت کے حامل ہندوؤں کا مندر بھی دکھایا اور ہندو اور مسلمانوں کا بھائی چارہ یہاں مثالی تھا۔

ہم سکندر بزنجو کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمیں نال کی سیر کروائی اور میر حاصل بزنجو صاحب کی ذاتی لائبریری ان کی بیٹھک بھی دکھائی جس سے ہمیں یہاں کے علم دوستی اور عدم تشدد رویوں کو سمجھنے میں مدد ملی۔

ہم نال سے واپس آنے کے باوجود اب تک اس کے سحر میں مبتلا ہیں۔ اب تک یقین اور بے یقینی کی کیفیت ہے کہ بنجر سنگلاخ بلوچستان کے علاقے اتنے ہرے بھرے اور خوشحال بھی ہو سکتے ہیں۔

جی ہاں ضرور ہو سکتے ہیں اگر جذبہ ہو لگن ہو محنت اور محبت اسی طرح کی داستانیں جنم دیتے ہیں

ہم تہ دل سے سردار میر اسلم خان بزنجو اور ان کے خاندان کو مبارکباد دیتے ہیں اور نا صرف بلوچستان بلکہ ملک کے دوسرے علاقوں کے سردار حضرات سے درخواست کرتے ہیں کہ نال کا دورہ کریں اور اپنی لوگوں اور اپنے علاقوں کے قسمت بدلیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
یعقوب پیچی کی دیگر تحریریں