پاکستان کا چین کے لئے گلگت بلتستان کے رقبے کا تحفہ

پولیٹیکل جغرافیہ بھی بڑا دلچسپ موضوع ہے۔ دنیا ملکوں میں تقسیم ہے، ملکوں کے درمیان سرحدیں ہیں، مگر کہیں یہ سرحدیں تسلیم شدہ بین الاقوامی سرحدیں کہلاتی ہیں، مگر جن ملکوں کے درمیان جنگ یا آپسی تنازع ہو تو دو یا دو سے زیادہ ممالک کے درمیان حد بندی کہیں لائن آف کنٹرول کہلاتی ہے، کہیں لائن آف سیز فائر، اسی طرح متنازع علاقے بھی کبھی اٹوٹ انگ کہلاتے ہیں، کہیں شہ رگ، کہیں فلاں ملک کا زیر انتظام علاقہ،

Read more

کیا کراچی سیاسی لاوارث ہے؟

پاکستان کے سب سے بڑے بندر گاہ والے شہر کراچی کی اپنی ایک شناخت رہی ہے، کراچی، فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے زمانے تک ایک پڑھا لکھا، جدید اور ماڈرن شہر مانا جاتا تھا جو پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں سے قطعی مختلف تھا، یہاں برازیل کے ریوڈی جنرو یا انڈیا کے ممبئی کی طرح جدید فیشن، اعلی تعلیمی ادارے، میڈیا ہاؤسز، صنعتیں، ساحل، روشنیوں کا سیلاب، اسپورٹس۔ غرض جدید شہروں والا ایک شاندار ماحول ہوا کرتا تھا۔ اور جیسا کہ ساحلی شہروں میں ہوتا ہے، کراچی کی صنعتی ترقی سارے ملک سے لوگوں کو اپنی جانب کھنچنے لگی

Read more

کووڈ ویکسین اور ہم سب

اس وقت ساری دنیا کووڈ وبا کے خطرے سے سہمی ہوئی ہے، عوامی صحت اور معیشت کو شدید چلینجز کا سامنا ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ سائنسدانوں نے دن رات سخت محنت کر کے کرونا کی روک تھام کے لیے ویکسین تیار کرلی ہے مگر دنیا میں اور خاص طور پر پاکستان میں، جیسے جیسے سوشل میڈیا کا استعمال عوام میں مقبول ہو رہا ہے ویسے ویسے ہر اہم معاملے کے بارے میں سازشی نظریات سوشل میڈیا پر وائرل

Read more

ریٹائرڈ جرنیل، ان کے انکشافات اور پاکستانی سیاست

ویسے تو اس وقت لگتا ہے کہ پاکستانی سیاست ایک ٹھہرے ہوئے پانی کے تالاب کی مانند ہے جس کے گدلے پانی میں کوئی بھی انکشاف کسی قسم کا ارتعاش پیدا کرنے میں ناکام ہی رہتا ہے، تاہم جنرل مرزا اسلم بیگ کی سوانح عمری ”اقتدار کی مجبوریاں“ یقیناً تالاب کی تہہ میں خوابیدہ مگر مچھوں کی بے چینی کا باعث ضرور بنیں گی۔ پاکستان میں کوئی سویلین کچھ بھی لکھ دے، مگر اس کے درست اور مستند ہونے پر ذہن میں سوال بنا رہتا ہے مگر اس کے برعکس کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ جرنیل کی کہی ہوئی بات کو ہمارا ذہن فوری طور پر سچا، مستند اور قابل بھروسا مان لیتا ہے کیونکہ جرنیل ہماری ریاست کے طاقت کے تکونی اہرام یعنی power pyramid کی چوٹی پر براجمان رہے ہیں اور کوئی بھی معاملہ ان کی معلومات اور دسترس سے دور نہیں ہوتا یعنی ”مستند ہے ان کا فرمایا ہوا“

Read more