امریکہ ہمارا ہرجائی دوست ہے

اس وبا نے دنیا کیا بدلی کہ اب تو دنیا کا امن بھی داؤ پر لگا نظر آ رہا ہے۔ ہمارا دوست اور مہربان ملک امریکہ پاکستان سے خوش نظر نہیں آ رہا۔ ہماری سیاسی اشرافیہ کا دعویٰ ہے کہ عمران خان وزیراعظم پاکستان کی صاف گوئی نے مشکلات میں اضافہ کیا ہے پھر اہم اپوزیشن کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ کے سابقہ معاہدوں کی وجہ سے پابند ہے اور ان میں سب سے اہم فضائی حدود کا معاملہ ہے۔ جب افغانستان سے امریکہ نکل رہا ہے جبکہ افغانستان میں لڑنے والے گروہ کہہ رہے ہیں کہ وہ فرار ہو رہا ہے۔ جو کچھ بھی ہے پاکستان امریکہ کہ باور کرانے میں ناکام رہا ہے کہ اس طرح فرار ہونا امن کے لئے خطرناک ہے۔ امریکہ میں سرکار کی تبدیلی کے بعد ۔ اب امریکی افواج اصل میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں ان کے نزدیک بڑی فوج والا کوئی دوسرا ملک افغانستان میں ان کی جگہ لے سکتا ہے، بڑی فوج والے ممالک میں بھارت اور چین نمایاں ہیں اور چین اس معاملہ میں مکمل خاموش ہے۔

میرے خیال میں امریکہ نے پاکستان کی بہت مدد بھی کی ہے بظاہر تو امریکہ ہمارے ایٹمی پروگرام کے خلاف تھا مگر ان کی افواج کے اہم لوگ اور امریکی سیاست دان چاہتے تھے کہ پاکستان ایٹمی طاقت بنے اور ایٹم بم بنائے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت بن ہی نہیں سکتا، اس کی وجہ نظام اور جمہوریت تھی، مگر پاکستان کی قسمت اچھی کہ کچھ برے لوگ جو امریکہ کے پسندیدہ تھے مگر بعد میں وہ بدل گئے، خیر اس پر آگے جا کر بات ہوگی، جب پاکستان میں ایٹمی قوت کے حوالہ سے پیش رفت ہو رہی تھی تو کینیڈا نے امریکہ کی اجازت سے بجلی پیدا کرنے والا ایک پلانٹ بھی دیا، گو بعد میں بھاری پانی کے معاہدے سے بدل گیا۔ پھر ایک معاہدہ فرانس سے ہوا کہ وہ ایٹمی پلانٹ دے گا۔ مگر امریکی اور برطانوی دباؤ سے وہ معاملہ ختم ہوا اور فرانس نے خاصی بڑی رقم بھی واپس نہیں کی۔ مگر اس کے باوجود امریکی مہربانیوں کا انت نہیں ہے اور ہم سب کو امریکہ کا شکرگزار ہونا چاہیے۔

میں اس زمانہ میں پاکستان ائرلائن میں کام کرتا تھا اور مجھے معلوم ہے کہ نیویارک سے ہماری پرواز ہالینڈ کے راستے کراچی آتی تھی اس زمانہ میں ہمارے جہاز سے ہالینڈ اور امریکہ ایسے آلات اور سامان آتا رہا جو ہمارے ایٹمی پروگرام کے لئے تھا۔ امریکی کاروباری لوگ وہ سامان فروخت کرتے تھے اور اس یقین کے ساتھ کہ پاکستان ان کو اپنی نالائقی کی وجہ سے استعمال نہیں کرسکے گا اس زمانہ میں نیویارک کے سٹیشن منیجر خالد عثمان کو لگایا گیا۔ اس کو اندازہ تھا کہ سامان کی ترسیل کیسے کرنی ہے اور وہ کتنا اہم ہے پھر اس زمانہ میں نواز ٹوانہ پاکستان ائرلائن کے اعلیٰ افسر تھے اور ڈائریکٹر بھی۔ ان کا امریکی دوستوں سے رابطہ تھا اور دوسری طرف پاکستانی اعلیٰ عسکری حلقوں سے تعلق تھا اور بہت اہم اور حساس پرزے امریکہ نے پاکستان کو فروخت کیے صرف اس نظریہ سے کہ گولی کا استعمال بندوق کے ساتھ ہو گا اور پاکستان بندوق بنا نہیں سکتا۔

جب پاکستان دولخت ہوا اس وقت تک بھٹو صاحب امریکی دوستوں کے اسیر تھے مگر بعد میں امریکی اور بھارتی تعلق نے ان کو مایوس کیا اور وہ چین کے قریب نظریاتی طور پر ہو گئے مگر وہ چین کا اعتماد نہ حاصل کر سکے۔ ہماری عسکری اشرافیہ امریکہ کی تربیت یافتہ تھی مگر مشرقی پاکستان ہی امریکی کردار نے ان کو مایوس کیا مگر امریکہ پھر بھی قابل احترام رہا اور ایک وقت آیا امریکہ نے بھارت کو جنگ بند کرنے کا حکم بھی دیا۔ جب بھارت مغربی پاکستان پر یلغار کرنا چاہتا تھا اس وقت چین، ترکی، لیبیا نے پاکستان کی کافی مدد بھی کی تھی مگر پاکستان کی حیثیت امریکہ کے نزدیک اہم تھی، بھٹو مرحوم نے ایٹمی پروگرام کے بارے میں چین سے مشاورت بھی کی مگر چین خود بھی اس وقت اپنے نئے نظام کے لئے کام کر رہا تھا اور ماؤزے تنگ کا فرمان تھا کہ چین کو کم از کم پچاس سال کسی جنگ میں شریک نہیں ہو گا اور اس کے بعد چین بدلنا شروع ہوا، جنرل ضیا نے امریکی مفاد میں آ کر بھٹو کا دھڑن تختہ کیا اور مارشل لاء لگایا۔

پاکستان ائر لائن نے ایٹمی پروگرام کے سلسلہ میں بہت ہی اہم کردار ادا کیا۔ یہ ایشیا کی پہلی فضائی کمپنی تھی جو امریکہ کے لئے پرواز کرتی تھی اور اس ائرلائن کی بدولت امریکہ چین جانے والی پروازوں پر خفیہ آلات لگا کر چین کی جاسوسی کرتا تھا اور ایسا مخلص دوست امریکہ پاکستان کو کہاں مل سکتا تھا جبکہ اس زمانہ میں بھارت، روس بھائی چارہ امریکہ کے لئے خطرہ تھا، مگر بھارتی جو امریکہ میں کام کرتے تھے وہ امریکہ کی انتظامیہ کو باور کرواتے رہے کہ روس کے معاملات پر وہ امریکی دوستوں کو تمام معاملات سے باخبر رکھیں گے اور بھارتی لابی بہت مضبوط بھی تھی۔ خیر پاکستان میں ایٹمی پروگرام شروع ہوا اور ڈاکٹر قدیر خان کو موقعہ ملا کہ وہ اپنا جوہر دکھا سکیں۔ ڈاکٹر صاحب ایٹم بم کے ماہر نہیں تھے اور امریکی مطمئن تھے کہ پاکستان کو اس سلسلہ میں لمبی محنت کرنی ہوگی، بھٹو کے بعد جنرل ضیاء کو اندازہ ہوا کہ امریکہ دغا بازی کر رہا ہے پھر ڈاکٹر قدیر نے اپنی ٹیم میں ایٹم بم کے ماہرین کو شامل کیا اور ایٹمی قوت بننے کا خواب پورا ہوتا نظر آنے لگا۔

اب امریکہ کے نزدیک جنرل ضیاء خطرناک بن چکا تھا اب کوئی شک نہیں کہ جنرل ضیاء کو مروانے میں امریکہ مکمل طور پر ملوث تھا مگر وہ اب بھی دوست تھا اور پاکستانی سیاست دانوں نے امریکہ پر فرد جرم عائد نہ کرنے دی پھر افغانستان کے معاملات کی وجہ سے ایٹمی پروگرام کو امریکہ نے نظرانداز کیا، پاکستان روس کے خلاف امریکی جنگ میں افغانستان میں اہم حلیف بنا۔ اب ہماری عسکری اشرافیہ کو اندازہ ہوا کہ ایٹمی پروگرام ضروری ہے اور پھر ایٹمی بم بن گیا مگر اس کا اعلان ضروری نہ تھا دوسری طرف جمہوریت کی وجہ سے بے نظیر اور میاں نواز شریف امریکی حلقوں میں قابل اعتبار تھے۔ پھر افغانستان میں امریکی دوستوں نے غداری کی اور امریکہ پر حملہ کر دیا اس نئی صورت حال میں امریکہ پاکستان سے بدظن ہوا جب نواز شریف کا ملٹری نے دھڑن تختہ کیا تو امریکہ پاکستان سے ناراض ہو چکا تھا مگر امریکہ کو پاکستان کی ضرورت تھی جنرل مشرف کو دھمکایا گیا بے چارہ جنرل سیاسی اشرافیہ کے کہنے پر امریکہ کا حلیف بن گیا۔

کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اب امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے مگر اس کے دوست افغانستان میں قابض ہیں۔ امریکہ طالبان میں نقب لگا چکا ہے اور پاکستان کو طالبان سے خطرہ ہے پاکستان جنگ ٹال رہا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم کو اندازہ ہے اور پاکستان کی فوج کو یقین ہے کہ امریکہ بھارت کے ساتھ مل کر افغان سرحد پر خطرناک کارروائی کر سکتا ہے، چین ہمارے ساتھ ہے مگر جنگ کے لئے نہیں۔ ہماری سیاسی اشرافیہ کو امریکہ اور برطانیہ کی آشیرباد حاصل ہے ان کو اندازہ نہیں کہ امریکہ کیا چاہتا ہے؟ پاکستان کی نوکرشاہی میں امریکی کردار بہت اہم رہا ہے اسی وجہ سے آئی ایم ایف آپ سے اپنی شرائط منوا رہا ہے اور ہمارے معاشی ادارے پر آئی ایم ایف کا کنٹرول ہے۔ امریکہ ہمارا ہرجائی دوست ہے اور ہرجائی سے اچھائی توقع رکھنا مناسب نہیں۔ عمران خان پاکستان کو تبدیل تو نہیں کر سکا مگر بدل ضرور چکا ہے صرف مشکل یہ ہے کہ اس جمہوریت میں عمران خان کے بعد کون ہو گا جو نیا نظام چلا سکے اور عوام کو سکھ کی راہ دے سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words