عورت مر جائے تو بتانا، ہم تب روئیں گے

رابعہ، آج کا خط کہاں سے شروع کروں۔ دل بوجھل ہے۔ دماغ سن ہے۔

دارا الحکومت میں ایک لڑکی کا بے رحمی سے قتل کیا گیا۔ پتا نہیں قاتل کے سر پر کیسا خون سوار تھا۔ اس نے لڑکی کا سر ہی جسم سے الگ کر ڈالا۔

لڑکی کے والد کا سوچتی ہوں۔ جانے کس حوصلے سے انہوں نے اپنی بیٹی کا سر کٹا جسم اور اس کے پاس رکھا اس کا سر دیکھا ہوگا۔

ان کا سوچتی ہوں جنہوں نے اسے غسل دیا ہوگا یا جنہوں نے اسے قبر میں اتارا ہوگا۔ سر الگ اور جسم الگ۔

پھر اس کا سوچتی ہوں جس نے یہ قتل کیا۔ وہ ایسا کرنے والا پہلا مرد نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی بہت سے مرد بہت سی عورتوں کا اتنی ہی بے رحمی سے قتل کر چکے ہیں۔

المیہ تو یہ ہے کہ ہم اس وقت چیختے ہیں جب ظالم ظلم کی ہر حد پار کر چکا ہوتا ہے۔ ہم اس وقت اٹھتے ہیں۔ چیختے ہیں۔ جب مظلوم ظالم کے ہر ظلم سے آزاد ہو چکا ہوتا ہے۔
رابعہ، ہم لوگ اس سے پہلے چپ چاپ تماشا کیوں دیکھتے رہتے ہیں؟
دوسرے کے گھر کا معاملہ ہوتا ہے۔ اس لیے؟ کیا ہم اس آگ کا اپنے گھر پہنچنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں؟

رابعہ، ظلم کی شروعات کہاں سے ہوتی ہے، کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ایک گول دائرہ ہے جس میں گھر، دفاتر، سڑکیں، گلیاں، کھیت، پلازے، اخبار، ٹی وی، ریڈیو، انٹرنیٹ سب آتا ہے۔

ظلم تو ہر جگہ ہو رہا ہے۔ بس بعض مظالم نارمل بنا دیے گئے ہیں۔ لڑکی کا پیدا ہونا منع ہے۔ جس کوکھ میں وہ پل رہی ہوتی ہے۔ اس کوکھ تک کسی کی دم کی ہوئی چینی پہنچائی جاتی ہے کہ کوئی معجزہ ہو اور یہ لڑکے میں تبدیل ہو جائے۔ تب کیوں نہیں بولتے؟

یہ بھی تو ظلم ہے لیکن ”نارمل“ ہے۔ اسی لڑکی کی چھ سال بعد کوڑے کے ڈھیر سے نعش ملے تو پوری قوم ایک ساتھ ظلم ہو گیا، ظلم ہو گیا کہتے ہوئے رونے لگتی ہے۔

ہر چھ سال کی لڑکی مرتی بھی نہیں ہے۔ کچھ ہماری طرح جیتی رہتی ہیں۔ انہیں چودہ سال کی عمر میں اپنے جسم پر گندا لمس محسوس ہوتا ہے۔ کوئی نہیں چیختا۔ لمس بڑھتا بڑھتا اس کی روح تک پہنچ جائے تو چیخیں مارنے لگتے ہیں۔

اس سے آگے بڑھتے ہیں۔ ایک اکیس سال کی لڑکی ہے۔ اس کے اوپر پچاس اقسام کی پابندیاں ہیں۔ نارمل۔

دوسروں کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ آؤ ہماری بیٹی پر اپنی من چاہی پابندی لگاؤ۔ رشتہ طے ہوتے ہوئے یہی تو ہوتا ہے۔ دو ماہ بعد وہ خود اپنی مرضی سے ایک پابندی لگا دیتے ہیں، تب ہم رو پڑتے ہیں۔

اچھا، یہ بھی ہمارے لیے ظلم ہے، دوسروں کے لیے تب تک ظلم نہیں ہے جب تک بات چولہا پھٹنے، دم گھٹنے یا تشدد سے جان جانے تک نہ پہنچ جائے۔ تب وہ کہتے ہیں ”اوہ، اچھا دس سال سے ظلم ہو رہا تھا؟“

یعنی عورت مر جائے تو بتانا۔ ہم تب روئیں گے۔
اب دوسری طرف آ جائیں۔

یہاں تو نارمیلسی کی ہر حد پار کی جا چکی ہے۔ جن گالیوں سے ایک دوسرے میں غیرت یا غصہ جگانے کی کوشش کی جاتی ہے، ان ہی گالیوں سے ایک دوسرے کو تکلفاً پکارا بھی جاتا ہے۔ ”ابے او۔“ پھر قہقہہ گونجتا ہے اس کا بھی جو گالی دیتا ہے اور اس کا بھی جسے گالی دی گئی ہوتی ہے۔

ایک دوسرے سے دور ہیں تو فون کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایک دوسرے کو فحش مواد بھیجا جاتا ہے۔ ”جانی نیا ہے، تو بھی چیک کر۔“

کسی کو موقع ملے تو اس فحش مواد کے کچھ حصے کو سنسان گلی میں ٹرائی کر کے بھی دیکھ لیتا ہے۔ شام میں دوست ملیں تو انہیں ”کارنامہ“ بتایا جاتا ہے۔ پھر قہقہے گونجتے ہیں۔

کوئی پکڑا جائے تو اسے بچانے کے لیے بھی یہی جاتے ہیں۔ ”یہ تو ہمارا شریف ترین دوست ہے۔ آپ اس پر شک کر رہے ہیں؟“

رابعہ، یہی ”شریف ترین دوست“ ان کے گھر دنیا کے شریف ترین طریقے سے اپنا رشتہ بھیج دے تو انہیں پتنگے لگ جاتے ہیں۔ ان کی حقیقت تو یہ ہے۔

ہماری سیریز ہی دیکھ لیجئیے۔ ہم نے جب یہ سیریز شروع کی تب مجھے بھی جنہوں نے سیریز چھوڑ کر ”اچھی عورت بننے کا مشورہ دیا، وہ بھی مرد تھے اور جنہوں نے آپ کو روکا، وہ بھی مرد تھے۔

نہ لکھو۔ نہ بولو۔ یہ کہاں ہوتا ہے۔ کیا اپنے گھر کا حال لکھ رہی ہو؟ کیوں اپنے اوپر لیبل لگوا رہی ہو۔ وہی ایک سی باتیں کرتی ہو۔ آخر کیوں چپ نہیں ہو جاتی۔

کیا یہ ایک دوسرے کو بچانے کی کوششیں نہیں ہیں؟
کیا یہ عورت کے مسائل کو نظرانداز کرنے کی کوششیں نہیں ہیں؟

عورت خود پر ہونے والے مظالم بارے لکھے تو اسے چپ کروانے آ جاتے ہیں۔ اسی عورت کا قتل ہو جائے (یہاں بھی یاد رکھیں کہ قتل بھیانک ہونا چاہیے، عورت کی شکل ایسی ہو کہ دل تڑپ اٹھے کہ اللہ اس کے ساتھ ایسا ظلم ہوا، کلاس بھی ایک اہم فیکٹر ہے ورنہ افغان سفیر کی جگہ کسی یورپی ملک کے سفیر کی بیٹی ہوتی تو پریس کانفرنس میں ہمارے وزراء کی نہ صرف باڈی لینگویج الگ ہوتی بلکہ ان کے ہاتھ بار بار پیشانی پر آیا پسینہ بھی صاف کر رہے ہوتے) تو رونا شروع کر دیتے ہیں۔

رابعہ، فرض کریں وہ شخص نور مقدم کا قتل نہ کرتا بلکہ بس کسی عوامی جگہ پر اس کے منہ پر تھپڑ مار دیتا، تب ہم کیا کرتے؟

کچھ بھی نہیں۔ یہ تو نارمل ہے۔ ایک آدھ کو نارمل نہ لگتا تو اسے ”شرم کرو“ کہہ دیتا۔ اور کیا ہوتا؟ کچھ بھی تو نہیں۔

ایسی باتیں سامنے نہیں آتیں، بس اسی وجہ سے؟ ویسے سامنے تو ہوتی ہیں بس وہی بات کہ جب تک گلہ نہ کٹے، جب تک تیزاب نہ پڑے، جب تک جسم پر گولی نہ لگے تب تک چپ رہنا ہے۔

جلیلہ حیدر کہتی ہے کہ ان کے نزدیک ہماری حیثیت ایک بکری کی بھی نہیں ہے۔ بالکل ٹھیک کہتی ہے۔ اس عید ہمیں ایک بار پھر بتایا گیا ہے کہ تم ایک جانور جتنی بھی حیثیت نہیں رکھتی۔

رابعہ، جانور کے لیے چھری تیز کی جاتی ہے۔ خیال رکھا جاتا ہے اسے تکلیف نہ ہو۔ اسے ذبح کرتے ہوئے دماغ پر سکون ہوتا ہے۔ ہونٹوں پر اللہ کا نام ہوتا ہے اور دل میں فرض کی ادائیگی کا جذبہ۔

یہاں پتا نہیں کیسی چھری تھی۔ مقصد تکلیف پہنچانا بھی نہیں بس اپنا غصہ اتارنا تھا۔ دماغ پرسکون ہوتا تو یہ نہ ہوتا۔ ہونٹوں پر شاید گالی تھی یا دھمکی اور دل میں۔

رابعہ، ایسوں کے پاس دل ہوتا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words