زراعت ایک یتیم پیشہ


بنیادی طور پر ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے۔ ملک کی تقریباً 64 فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے جس کا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق زراعت کے شعبے سے ہے۔ پاکستان کی کل آبادی میں سے تقریباً چھ کروڑ افراد محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں سے 43 فیصد کا تعلق زراعت کے شعبے سے ہے۔ ملک کی اہم فصلیں گندم، گنا، چاول اور کاٹن ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر چھوٹی چھوٹی فصلیں، سبزیاں اور پھل بھی ہوتے ہیں۔ ڈیری فارمنگ، پولٹری فارمز اور ماہی گیری کا انحصار بھی زراعت پر ہے۔

زراعت کا شعبہ جہاں پورے ملک کے عوام کو خوراک فراہم کرتا ہے، وہاں ملک کے صنعتی شعبے کو خام مال بھی مہیا کرتا ہے۔

بدقسمتی سے قیام پاکستان سے لے کر آج تک زراعت کے شعبے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ آباد زمین کا زیادہ تر حصہ جاگیروں پہ مشتمل رہا۔ سن 2000 کے اعداد و شمار کے مطابق، دیہی آبادی کا 63 فیصد بے زمین افراد تھے، جبکہ باقی 37 فیصد میں سے 61 فیصد آبادی پانچ ایکڑ یا اس سے بھی کم رقبے کی مالک تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت کم لوگ (زمیندار) زمین کے ایک بہت بڑے حصے کے مالک تھے یعنی وہ جاگیردار طبقہ تھا۔

ملک میں زراعت کے شعبے میں اصلاحات کی پہلی کوشش 1959 میں جنرل ایوب کے دور میں ہوئی تھی اور دوسری سن 1972 اور 1977 میں بھٹو صاحب کے دور میں، جس میں زمین کی ملکیت کی حد، 100 ایکڑ سیرابی اور 200 ایکڑ غیر سیرابی رکھی گئی تھی۔ اس کے علاوہ بقیہ زمین کو بے زمین کسانوں میں بانٹنا تھا۔ لیکن ان زرعی اصلاحات پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوسکا کیونکہ بہت سے جاگیردار خود اقتدار میں شراکت دار تھے اور وہ زرعی اصلاحات کو اپنے لئے چیلنج سمجھتے تھے۔ جاگیرداروں اور بڑے بڑے زمینداروں نے بڑی چالاکی کے ساتھ اس حد سے زائد زمین کو اپنے لوگوں / خاندانوں میں تقسیم کر دیا۔

بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد ، جنرل ضیا کی وفاقی شرعی عدالت نے تو یہ اعلان کیا کہ زمین کی اس طرح کی تقسیم، اسلامی نقطہ نظر سے غیر اسلامی ہے۔ ضیاء کے عہد سے لے کر آج تک، جہاں جاگیرداری نے پہلے سے زیادہ وسعت پائی ہے، وہاں جاگیردار اور وڈیرہ طبقہ، بشمول اہل و عیال سیاست میں گھس آئے ہیں کیوں کہ سیاست اب عوامی خدمت کے بجائے ایک معاشی حب بنا ہوا ہے اور ان سب کے لئے بہترین آمدنی کا ذریعہ بھی۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایک عام مزدور، ریڑھی والا، دکاندار، ڈاکٹر، کارخانہ دار سے لے کر ایک مل مالک تک سب کو اپنی مصنوعات/ خدمات کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار ہے لیکن ملک میں واحد زرعی شعبہ ہے جس میں زمیندار، آبادگار یا کسان کو اپنی جنس کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ آئیے ایک مثال لیتے ہیں۔

زندگی کی مختلف ضروریات میں استعمال ہونے والی اشیاء، مزدور کے ہاتھوں سے، ایک چھوٹی مشینری سے، فیکٹری میں یا بڑی مل میں بنائی جاتی ہیں۔ ان کی تیاری میں خام مال، مشینری، ایندھن اور دیگر ضروری سامان استعمال ہوتا ہے۔ کچھ سادہ چیزیں، جو ایک فرد یا چند افراد تشکیل دے سکتے ہیں، لیکن بہت بڑے پیمانے پر، جدید، پیچیدہ اور نفیس چیزیں پارٹنرشپ کی بنیاد پر یا کوئی کمپنی کسی فیکٹری کے ذریعے یا بڑی مل میں بنائی جاتی ہیں۔

کمپنی خام مال کی خریداری سے لے کر مال کی تیاری اور مارکیٹٰ تک پہنچانے میں، اپنی مصنوعات کی تیاری میں ہونے والے تمام تر اخراجات کا حساب کتاب لگاتی ہے۔ ان تمام اخراجات کے نتیجے میں پراڈکٹس کے جتنے بھی آئٹم بنیں گے ان سے ٹوٹل اخراجات کو تقسیم کیا جائے گا تو ایک آئٹم کی لاگت نکل آئے گی۔ فرض کریں کہ 100 چیزوں کو بنانے کے لئے ایک لاکھ روپے لاگت آتی ہے تو ایک آئٹم کی لاگت ایک ہزار روپے ہوگی۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی کمپنی اس قیمت پر اپنی مصنوعات فروخت نہیں کرے گی لیکن لاگت اور تیاری کی مدت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں اپنا منافع شامل کر کے، اسے فروخت کے لئے مارکیٹ میں لائے گی۔

اس پورے حساب کتاب کو ریکارڈ پر رکھنے کے لئے، کمپنی ہر سال اپنے پرافٹ / لاس کی اسٹیٹمنٹ تیار کرتی ہے، جس میں اپنی پراڈکٹس کے تمام اخراجات اور فروخت سے ملنے والی رقم شامل ہوتی ہے۔ پھر اس میں سے ٹیکس کی رقم منہا کی جاتی ہے، تب بھی کمپنی کو خالص منافع ہوتا ہے۔ یہ اصول کسی چھوٹی سی پن کی تیاری سے لیکرہیوی مشینری تک لاگو ہوتا ہے۔

اب آپ اندازہ کریں کہ تمام اخراجات کے علاوہ ٹیکس کی رقم بھی اس چیز کی قیمت میں شامل ہوتی ہے یعنی اصل تیل تلوں سے ہی نکالا جاتا ہے۔ یہ کارپوریٹ کمپنیاں یا بینکس، جو ایک سال میں اربوں روپے کا منافع کماتی ہیں، اس میں قطرہ قطرہ ٹیکس بھی عوام کو دینا پڑتا ہے۔

اس کے برعکس، زراعت سے تعلق رکھنے والے زمیندار یا کاشتکار اگر اس طرح کا ریکارڈ بنانا بھی چاہیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ انہیں اپنی پیداوار / جنس کی کل لاگت، افرادی قوت اور مدت کے مطابق قیمت مقرر کرنے کا اختیار ہی نہیں۔ گندم کی قیمت حکومت کی مرضی سے، کاٹن، چاول اور مرچ کی قیمت تاجروں کی مرضی سے اور گنے کی قیمت شوگر ملز مالکان طے کرتے ہیں۔ زمیندار اور کاشتکار ہمیشہ ان قوتوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کاشتکار اور زمیندار زرعی اجناس کی قیمت کے معاملے پر ہمیشہ احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ سال 2018۔ 19 میں، گنے کے کاشتکاروں نے، مناسب قیمتیں نہ ملنے پر علامہ اقبال کے اس شعر پر عمل پیرا ہو کر اپنی گنے کی فصل کو جلا دیا تھا۔

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو۔

ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ گنے کے کاشتکاروں کے لاکھوں روپے کی بقایات بھی شوگر مل مالکان دینے کو تیار نہیں ہوتے! اس کے لئے بھی ان کو احتجاج کرنا پڑتا ہے۔ آباد کار طبقہ ایک مجبور طبقہ ہے کیونکہ اس کے پاس ہولڈنگ پاور نہیں۔ اگر وہ اپنی پیداوار ہولڈ کر لیں تو ایسا کرنے سے ایک تو جنس خراب ہونے کا خطرہ ہے اور دوسرا اگلے چھ ماہ تک دو خاندانوں (زمیندار اور کسان) کی پرورش، اگلی فصل پہ لاگت اور بینکوں / سیٹھوں کو قرض کی ادائیگی کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کاشتکاروں کی اس مجبوری سے دلال، تاجر اور صنعت کار بہت فائدہ اٹھاتے ہیں۔

سبزیوں اور پھلوں کے کاشتکاروں کے ساتھ بھی عجیب قسم کی مصیبت ہے۔ جب وہ اپنی ٹرانسپورٹ کا بندوبست کر کے سبزیاں اور پھل منڈی میں لاتے ہیں تو کوئی ان سے ان کی قیمت نہیں پوچھتا بلکہ منشی کی مرضی پہ ہے کہ بولی کہاں ختم کرے۔ ٹماٹر کے 10 کلو کے تھیلے کی بولی، 40، 50 اور 100 رپئے پر ختم! یہی حال دوسری سبزیوں اور پھلوں کا بھی ہے۔ جس شخص نے 6 ماہ محنت مزدوری کی، اس کو ملے 100 روپے اور ایک ریڑھی والے یا دکاندار نے 10 کلو سے ایک دن میں 900 روپے کما لئے! یہ کہاں کا انصاف ہے؟ ہم نے تو مناسب ریٹ نہ ملنے پر ٹماٹر کی پوری فصل کو مویشیوں کا چارا بنتے دیکھا ہے یا پیاز کی فصل کو زمین سے نکالنے کے لئے کسان کو ”لینے کے دینے پڑ گئے“ اگر کسی دکاندار یا صنعت کار کو اس طرح کا نقصان اٹھانا پڑے تو اس کو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔

ہمارے ملک میں، زراعت کو ایک غیر یقینی پیشہ بنا دیا گیا ہے کیونکہ آپ ہر سال اسی سے مستقل منافع ملنے کا سوچ ہی نہیں سکتے جیسا کسی دوسرے کاروبار میں ہوتا ہے۔ یہ توکل کا کاروبار ہے جس کا دار و مدار قدرت کی مہربانی یا نا مہربانی پہ ہوتا ہے، جیسے مناسب بارشیں، غیر متوقع بارشیں، پانی کی قلت، سیلاب، فصل کی بیماریاں، سنڈیوں اور ٹڈی دل کے حملے، نقلی بیج، کھاد اور دوائیاں شامل ہیں۔ خوش قسمتی سے اگر ایک فصل کاشتکار کو چانس دیتی ہے تو دوسری فصل اس کو لٹا دیتی ہے۔

جاگیرداروں، سیاسی وڈیروں اور سرداروں کے علاوہ زراعت سے وابستہ حقیقی آبادگار اور زمیندار ایک یتیم بچے کی طرح ہیں جن پہ شفقت کا ہاتھ رکھنے کے لئے کوئی حکومت تیار نہیں۔

Facebook Comments HS