وہ آ رہے ہیں، تو کیا ہوا؟ اپنے ہی تو ہیں


میرے والد صاحب جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے سامنے پاکستان بنتے دیکھا ہے۔ لاکھوں انسانوں کی ہجرت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے انسانیت سوز واقعات کی پرچھائیاں ہم نے بھی اکثر ان کی آنکھوں میں دیکھی ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ کس طرح ہندو اور سکھ ہمارے علاقے میں رہتے تھے۔ ساتھ پڑھتے اور کھیلتے تھے۔ ہندو زیادہ تر خوشحال تھے۔ ایک تو شہر میں سارا کاروبار ان کے ہاتھ میں تھا اس کے علاوہ وہ ارد گرد کی زمینوں کے بھی مالک تھے۔

سکھ زیادہ تر غریب ہی تھے اور چھوٹے موٹے کام کرتے تھے۔ مسلمانوں کی حالت بھی کچھ اچھی نہ تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہندوستان کی آزادی کی جد و جہد شروع ہوئی تو مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کا مطالبہ بھی زور پکڑنے لگا۔ سیاست کی خبریں بی بی سی ریڈیو کے ذریعے ہمارے علاقوں میں بھی پہنچنے لگیں۔ شہر میں رہنے والے ہندو مال و دولت کے علاوہ علم اور شعور میں بھی دوسروں سے آگے تھے۔ انہوں نے بھانپ لیا تھا کہ اگر پاکستان بن گیا تو ان کا یہاں رہنا ناممکن ہو جائے گا۔

یہی وجہ تھی کہ جو پڑھے لکھے ہندو تھے انہوں نے 1947 سے پہلے ہی سامان باندھنا شروع کر دیا تھا۔ جو ساتھ لے جا سکتے تھے ساتھ لے گئے باقی اونے پونے داموں بیچ دیا۔ میرے والد صاحب نے بھی چند روپوں میں کچھ فرنیچر حکیم گوردت سے خریدا جس کی باقیات اب بھی موجود ہیں۔ سکھ زیادہ تر گاؤں دیہاتوں میں آباد تھے اور ہندوؤں اور مسلمانوں کی زمینوں پر کام کرتے تھے یا چھوٹے موٹے پیشوں سے منسلک تھے۔ غربت اور لا علمی نے انہیں یہ سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا کہ یہ زمین ان کے لئے تنگ ہونے والی ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ اس بھروسے پر بیٹھے رہے کہ ہمارے پاس کون سی دولت یا جائیداد ہے۔ ہمیں کسی نے کیا کہنا ہے۔

پھر بٹوارہ ہو گیا۔ پاکستان اور بھارت دو الگ الگ ملک بن گئے۔ مسلمانوں کے الگ وطن کے مطالبے میں مذہب کا عنصر نمایاں تھا۔ وہ ایک ایسا ملک چاہتے تھے جو خاص مسلمانوں کے لئے ہو اور اس کی بنیادیں اسلامی اصولوں پر قائم ہوں۔ الگ ملک حاصل کرنے کی ان کی خواہش تو پوری ہو گئی مگر وہ جو بنیادیں رکھنا چاہتے تھے وہ رکھ پائے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔

ہندوستان کی تقسیم سے دو قوموں کو دو الگ ملک تو مل گئے مگر اس سے جس انسانی المیے نے جنم لیا اس کے اثرات آج بھی جوں کے توں موجود ہیں۔ اپنے لیے الگ وطن کا مطالبہ کرنا یا اسے حاصل کرنا کوئی غلط بات نہیں ہے۔ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے عقائد اور اقدار کے مطابق زندگی بسر کرے۔ قدرت نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے اور وہ اسے آزاد ہی دیکھنا چاہتی ہے۔ مگر انسان میں شاید اتنا ظرف نہیں کہ وہ کسی کو اپنی مرضی، عقیدے، آزادی اور خوشی سے زندگی بسر کرتے ہوئے دیکھ سکے۔

تقسیم کے وقت اسی انسانی فطرت نے دوست سے دوست کا اور ہمسائے سے ہمسائے کا قتل کروا دیا۔ موقع پرست اور طالع آزما لوگوں نے اس موقعے کو اپنے فائدے کے لئے خوب استعمال کیا۔ دونوں طرف سے اشتعال اور نفرت کو خوب ہوا دی گئی۔ مسلمانوں نے پاکستان کی طرف ہجرت کی تو ہندوؤں اور سکھوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ان کی جان مال اور عزت پر حملے کیے۔ ہجرت کی یہ خونیں داستاں آج بھی تاریخ کے اوراق پر تازہ خون کی طرح رس رہی ہے۔

مسلمانوں پر حملوں اور ان کے لٹنے کی خبریں جب پاکستانی علاقوں میں پہنچیں تو یہاں بھی اشتعال اور نفرت کی فضا پیدا ہو گئی۔ بدلے کی آگ بھڑکنے لگی۔ ہندو اور سکھ آبادیوں پر حملے کرنے کے لئے جتھے بننے لگے۔ تلواریں، بھالے اور ڈنڈے تیار ہونے لگے۔ والد صاحب بتاتے ہیں کہ ہمارے علاقے کے زمینداروں، بزرگوں اور علماء نے ان جتھے بنانے والوں کو نہ صرف روکا بلکہ ان کی سرزنش بھی کی۔ انہیں بتایا کہ یہ لوگ ہمارے ہمسائے ہیں، صدیوں سے ساتھ رہ رہے ہیں۔

اس میں ان کا کیا قصور ہے تم انہیں کیوں مارنا چاہتے ہو؟ ان جتھوں میں زیادہ تر لفنگے، بدمعاش اور آوارہ قماش کے لوگ تھے جن کی نظریں ہندوؤں اور سکھوں کے مال اور عزت پر تھیں۔ عام لوگ ان کی صفوں میں شامل نہیں تھے۔ فضا میں ایک خوف سا تھا، پکڑو، مار دو، جانے نہ پائے کی آوازیں ہر طرف گونج رہی تھیں۔ مارنے والوں کو تو پتہ تھا کہ وہ کیوں مار رہے ہیں مگر مرنے والے نہیں جانتے تھے کہ انہیں یوں بے دردی سے کیوں مارا جا رہا ہے؟ دو ملک وجود میں آ رہے تھے جن کی بنیادیں خوف، وحشت، جنون، نفرت اور قتل و غارت پر رکھی جا رہی تھی۔

بڑے بتاتے ہیں کہ ہم نے کچھ سکھوں کو جنونیوں سے بچا کر بھوسہ رکھنے والے کمرے میں چھپا دیا۔ اگست ستمبر کے حبس کے دن تھے اور بھوسے میں کوئی اگر چھپا ہو تو وہ ویسے ہی مر جائے۔ رات کو ہم انہیں باہر نکالتے تھے حبس، خوف اور گرمی سے وہ گھڑوں پانی پی جاتے تھے۔ وہ بار بار منڈیروں سے باہر جھانکتے اور اور خوف سے دبی آواز میں کہتے کہ ”وہ آ رہے ہیں“ وہ ہمیں مار دیں گے۔

امریکہ افغانستان کو ایک غریب بیوہ کی طرح بے یار و مدد گار چھوڑ گیا ہے جس کی یتیم عوام اس خوف کا شکار ہے کہ ”وہ آ جائیں گے“ جن کا محبوب مشغلہ قتل و غارت ہے۔ جو مخالفین کے سروں سے فٹ بال کھیلتے ہیں۔ ہر وہ انسان ان کی نظروں میں کافر یا غدار ہے جو انہیں پسند نہیں یا ان جیسا نہیں دکھتا۔ وہ آ تو رہے ہیں مگر اس بار ان کے سامنے ہندو، سکھ، روسی یا امریکی نہیں اپنے ہی لوگ ہیں۔ اگر یہ اپنے ہیں تو انہیں یہ خوف کیوں ہے کہ ”وہ آرہے ہیں“

Facebook Comments HS