پچھلے دنوں وطن عزیز میں ٹیلی وژن پر چلنے والے بسکٹ کے ایک اشتہار کو لے کر خاصی گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مسئلہ بسکٹ کی کوالٹی، ذائقے یا قیمت کا نہیں تھا مگر ہماری صحافت کے ایک سرخیل کو بسکٹ بیچنے کا یہ انداز پسند نہیں آیا۔ ان کو لگا کہ اشتہار میں بسکٹ کی مٹھاس اور اس کو پیش کرنے والی محترمہ کے خد و خال اور ان کی لطافت کو گڈ مڈ کر دیا گیا ہے۔ ان کو اعتراض تھا کہ اب اس موئے بسکٹ کو کون دیکھے گا، سبھی اس رنگین اور تھرتھراتی ہوئی پیسٹری کی طرف ہی متوجہ ہوں گے۔ بس پھر کیا تھا ان کے ایمان نے جوش مارا اور انہوں نے پیمرا کو للکارا اور اس کے ایمان کو جھنجوڑا کہ وہ اس بے ہودہ اور فحاشی کے علم بردار اشتہار کو فوری طور پر بند کرے۔
خدا جانتا ہے جب تک محترم صحافی نے اس طرف توجہ نہیں دلائی تھی میں ٹی وی پر چلنے والے بسکٹ کے اس اشتہار میں صرف بسکٹ کو ہی دیکھتا تھا۔ ایک عام میڈیا صارف کی طرح میرے ذہن میں بھی یہی تھا کہ بسکٹ کا نیا اشتہار آیا ہے۔ پھر اس میں دیس کا بھی تو ذکر تھا، اب اتنے محب وطن تو ہم ہیں ہی کہ کہیں دیس کا ذکر ہو رہا ہو تو توجہ کر لیتے ہیں۔ میں داد دیتا ہوں اس مرد مجاہد کو جس نے بر وقت اپنی عقابی اور ایکسرے سے مزین نظروں سے اشتہار میں وہ عنصر دیکھ لیا، جو آگے چل کر معاشرتی انتشار، بے راہ روی اور فحاشی و عریانی کا باعث بنتا۔
Read more