ریسرچ کانفرنسز کے نام پر کھابے

فدوی کافی عرصہ سے پاکستان میں بالعموم اور پنجاب کی پبلک و پرائیویٹ یونیورسٹیز میں بالخصوص تعلیم و تحقیق کے میدان میں ہونے والی ترقی کا جائزہ لیتا رہا ہے۔ یوں تو ہر میدان میں پاکستانی قوم واضح زبوں حالی کا شکار ہے لیکن یونیورسٹیز میں جس قسم کا اور جس درجے کا قحط الرجال دیکھنے میں آ رہا ہے اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ حال ہی میں صوبہ پنجاب کی ایک بڑی پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں

Read more

وہ آ رہے ہیں، تو کیا ہوا؟ اپنے ہی تو ہیں

میرے والد صاحب جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے سامنے پاکستان بنتے دیکھا ہے۔ لاکھوں انسانوں کی ہجرت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے انسانیت سوز واقعات کی پرچھائیاں ہم نے بھی اکثر ان کی آنکھوں میں دیکھی ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ کس طرح ہندو اور سکھ ہمارے علاقے میں رہتے تھے۔ ساتھ پڑھتے اور کھیلتے تھے۔ ہندو زیادہ تر خوشحال تھے۔ ایک تو شہر میں سارا کاروبار ان کے

Read more

میرے دیس کا بسکٹ اور سانڈے کا تیل

پچھلے دنوں وطن عزیز میں ٹیلی وژن پر چلنے والے بسکٹ کے ایک اشتہار کو لے کر خاصی گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مسئلہ بسکٹ کی کوالٹی، ذائقے یا قیمت کا نہیں تھا مگر ہماری صحافت کے ایک سرخیل کو بسکٹ بیچنے کا یہ انداز پسند نہیں آیا۔ ان کو لگا کہ اشتہار میں بسکٹ کی مٹھاس اور اس کو پیش کرنے والی محترمہ کے خد و خال اور ان کی لطافت کو گڈ مڈ کر دیا گیا ہے۔ ان کو اعتراض تھا کہ اب اس موئے بسکٹ کو کون دیکھے گا، سبھی اس رنگین اور تھرتھراتی ہوئی پیسٹری کی طرف ہی متوجہ ہوں گے۔ بس پھر کیا تھا ان کے ایمان نے جوش مارا اور انہوں نے پیمرا کو للکارا اور اس کے ایمان کو جھنجوڑا کہ وہ اس بے ہودہ اور فحاشی کے علم بردار اشتہار کو فوری طور پر بند کرے۔

خدا جانتا ہے جب تک محترم صحافی نے اس طرف توجہ نہیں دلائی تھی میں ٹی وی پر چلنے والے بسکٹ کے اس اشتہار میں صرف بسکٹ کو ہی دیکھتا تھا۔ ایک عام میڈیا صارف کی طرح میرے ذہن میں بھی یہی تھا کہ بسکٹ کا نیا اشتہار آیا ہے۔ پھر اس میں دیس کا بھی تو ذکر تھا، اب اتنے محب وطن تو ہم ہیں ہی کہ کہیں دیس کا ذکر ہو رہا ہو تو توجہ کر لیتے ہیں۔ میں داد دیتا ہوں اس مرد مجاہد کو جس نے بر وقت اپنی عقابی اور ایکسرے سے مزین نظروں سے اشتہار میں وہ عنصر دیکھ لیا، جو آگے چل کر معاشرتی انتشار، بے راہ روی اور فحاشی و عریانی کا باعث بنتا۔

Read more

حضرتِ منیر نیازی کا آنا الیکشن میں

باغ بہشت میں خوب چہل پہل ہے، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے اور وہاں کے مکین خدائے بلند و برتر کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں مگر ایک گوشے میں منظر کچھ جُدا سا ہے۔ پُراسرار خاموشی میں حضرت منیر نیازی مسند پر خاموش بیٹھے ہیں اور خلاء میں گھورے جا رہے ہیں، جامِ طہور اور خوشہ انگور ویسے کے ویسے پڑے ہیں حتیٰ کہ بی بی حور بھی دوسری جانب منہ کیے بیٹھی ہے۔ خاموشی طویل

Read more

منگو رکشے والا اور عدالتی فیصلے پر انقلاب

لاہور کے ایک ہوٹل میں لوگ ٹیلی وژن کے گرد جمع تھے اور ایک نوواردنظریاتی کی قسمت کا فیصلہ سننے کے لئے بے تاب تھے۔ کوئی جج کو بُرا بھلا کہہ رہاتھا تو کوئی قانونی پیچیدگیاں بیان کر رہا تھا، لوگوں کے چہروں پر غم یا خوشی کی بجائے تجسس اور اضطراب تھا لوگ کچھ جاننا چاہتے تھے نو ماہ تک انہوں نے اس حوالے سے صحافیوں، تجزیہ کاروں اور دوستوں کی کِل کِل کو برداشت کیا تھا۔ منگو رکشے

Read more