نور مقدم کیس: ملزم ظاہر جعفر قتل کے بارے میں دوستوں سے مشاورت کرتا رہا


سابق سفیر کی بیٹی نورمقدم کے قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر سے متعلق نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ملزم نے ساری واردات منصوبہ بندی کے تحت کی اور واردات سے چند روز قبل ملزم نے دوستوں سے مشاورت بھی کی۔

تفصیلات کے مطابق ملزم نے دوستوں سے پوچھا کہ اگر کسی کو قتل کر دوں تو کیا پکڑا جاؤں گا؟ ملزم نے دوستوں سے کہا کہ میں امریکی شہری ہوں، مجھ پر کیس نہیں بنے گا۔ قریبی ذرائع کے مطابق ملزم نے دوستوں سے کہا کہ اپنے والدین کو قتل کر دوں تو کیا مجھے پکڑا جائے گا؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے نور مقدم کو اپنے گھر بلایا اور اس کا فون بھی آف کرا دیا۔ والدین نے نور مقدم کا فون آف ملنے پر اس کے دوستوں سے رابطہ کیا تو دوست ملزم کے گھر گئے لیکن ملزم نے نور کی موجودگی سے انکار کیا جس پر دوستوں اور ملزم ظاہر جعفر کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

قریبی ذرائع کے مطابق نورمقدم کو ملزم تشدد کا نشانہ بناتا رہا تو نور نے فرار کی کوشش بھی کی۔ ملزم نے منصوبہ بندی کی تھی کہ واردات کے بعد امریکہ فرار ہو جاؤں گا۔

یاد رہے کہ ظاہرجعفر 2016 میں لڑکی پر حملے کے الزام میں برطانیہ سے ڈی پورٹ ہوا تھا۔

Facebook Comments HS