بوائز آر بوائز

کیا عورت کا قتل اب ایک عام سی خبر بن کر رہ گئی ہے؟ اب اس پر ایک جھرجھری لینے کے بعد ہم کسی اور خبر میں گم جاتے ہیں؟ یہ وحشت یہ جنون یہ بربربیت اب روز کا معمول بن گیا ہے اتنی نفرت؟ اتنی سنگدلی؟ کیوں؟ کیا یہ تربیت کی کمی ہے۔ ماحول اور معاشرے کا قصور ہے؟ یہ کہیں سے کوئی نیا وائرس گھس آیا ہے جو اس وحشت کا باعث بن رہا ہے۔ ؟

بات تربیت سے شروع کرتے ہیں۔ یہ تربیت شروع کہاں سے ہوتی ہے؟ جی ماں کی گود سے۔ ہمارے ہاں بیٹے کی ولادت پر زیادہ خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ جب ماں گود میں بیٹے کو لیتی ہے تو ایک فاخرانہ سا انداز اس میں آ جاتا ہے۔ باپ بھی سر اٹھا کر مبارک باد وصول کرتا ہے۔ بس یہیں سے گڑبڑ شروع ہو جاتی ہے۔ ہم سنتے آ رہے ہیں کہ بوائز آر بوائز۔ یعنی لڑکے تو لڑکے ہوتے ہیں۔ اور اس جملے سے ہی ان کی غلط تربیت شروع ہو جاتی ہے۔ یہ جملہ کم سے کم میرا تو خون کھولانے کو کافی ہے۔ حالانکہ میں تین بیٹوں کی ماں ہوں۔

یہ جملہ لڑکوں کے غلط رویوں پر پردہ ڈالنے کی ایک دفاعی کوشش ہے اور یہی دفاعی کوشش بعد میں جارحانہ رویے کو ہوا دیتی۔ اکثر یہ دفاع ماں کی طرف سے آتا ہے وہ بیٹے کے لاڈ اٹھاتے ہوئے کہتی ہے کہ بھئی لڑکے تو یہ سب کرتے ہی ہیں۔ کیونکہ لڑکے تو لڑکے ہوتے ہیں

جب وہ لڑکا تھوڑا بڑا ہوتا ہے اور کھیل کھیل میں کسی کی ناک پر مکا رسید کرتا ہے اور اس کی شکایت گھر تک آتی ہے تو ماں پھر یہی کہتی ہے۔ لڑکے تو لڑکے ہوتے نا۔ بیٹا اس سے یہی مطلب لیتا ہے کہ ایسا کرنا اس کا حق ہے۔ اب یہاں بہنوں اور بھائیوں میں جو ترجیحی سلوک ہوتا ہے اس پر کیا بحث کی جائے سب جانتے ہیں کہ ایسا ہوتا ہے اور ہو رہا ہے۔ اور شاید ہوتا رہے گا۔ لڑکے تو لڑکے ہوتے ہیں کی گردان جاری رہتی ہے۔ اور لڑکا ان سب بدتمیزیوں اور بے ہودگیوں کو ایک نارمل سی بات سمجھنے لگتا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ لڑکے لڑکے ہوتے ہیں اور لڑکیاں لڑکیاں ہی ہوتی ہیں۔ ان کے شوق اور مشغلے مختلف ہوتے ہیں لیکن یہ جملہ جس ذہنیت اور جانبدار رویے کو ظاہر کرتا ہے مجھے اس پر اعتراض ہے۔ کس قدر پیار سے اور کسی قدر فخر سے یہ جملہ کہا جاتا ہے۔ اور اسی کہاوت  ”لڑکے تو لڑکے ہوتے ہیں“ کو بنیاد بنا کر ان کی گندی حرکتوں اور جملے بازیوں کو اور جنسی زیادتیوں کو بھی ایک نارمل رویہ سمجھ کر تحفظ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اور پھر اسی قسم کی تاویلیں پیش کر کے ہر قسم کے جارحانہ برتاؤ کو ہم کسی حد تک مان لیتے ہیں یا نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے کہ یہ تو لڑکوں کے ڈی این اے میں ہے۔ وہ تو ایسا ہی کریں گے۔ لڑکیاں خود کو بچا کر رکھیں۔ آپ ملک کی پچاس فیصد آبادی کو ڈرا دھمکا کر رکھیں گے کیا؟ کیا یہ ذمہ داری لڑکیوں کی ہے کہ وہ خود کو بچا کر رکھیں؟ ظلم یہ کہ مظلوم ہی کو قصوروار بھی کہا جاتا ہے۔ کتنی عجیب اور نامنصفانہ سی بات ہے کہ پچاس فیصد آبادی کے بے ہودہ رویے کو آپ ایک نارمل سی بات سمجھ لیں اور باقی پچاس فیصد کو آپ خود کو ڈھانپ کر چھپا کر اور بچ بچ کر جینے کی تلقین کرتے رہیں۔

گلیوں، سڑکوں میں کھڑے مرد سیٹیاں بجائیں، جملے کسیں، ذومعنی فقرے اچھالیں سب نارمل ہے۔ پاس کھڑے لوگ بھی اس پر ہنستے ہیں۔ کم ہی ہوں گے جو انہیں روکنے یا ٹوکنے کی کوشش کریں گے۔ یہ سوسائٹی کا نارمل رویہ ہے۔

جنسی ہراسانی صرف مشرق کا مسئلہ ہی نہیں۔ اس ذہنیت کی کوئی سرحد نہیں۔ ہر جگہ، ہر ملک اور ہر قوم میں نظر آتی ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں کیونکہ پکڑے جانے اور سزا پانے کا امکان بہت کم ہے اس لیے یہ رویہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اگر کبھی کوئی سروے دیانتداری سے کیا جائے تو آپ دیکھیں گے کہ عورت کو زندگی میں کہیں نا کہیں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ اسکول کالج ہو یا یونیورسٹی، کلاس فیلو ہو یا پروفیسر۔ کزن ہو یا دوست، دفتر کا باس ہو یا بزرگ رشتے دار جس جس کا زور چلا اس نے چلایا۔ کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پر ایک بینک ملازم کو ایک عورت کو جسمانی طور پر ہراساں کرنے کی ویڈیو عام ہوئی۔ اس پر کئی طرح کے تبصرے سامنے آئے۔ جہاں اکثریت نے عورت سے ہمدردی کا اظہار کیا وہاں یہ بھی کہا گیا کہ عورت نے یہ برداشت کیوں کیا؟ کیا وہ اس کی عادی تھی؟ اس نے پلٹ کر تھپڑ کیوں نہیں مارا؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ عورت اس اچانک حملے سے صدمے میں آ گئی۔ اس حرکت سے وہ خود شرمساری محسوس کرنے لگی۔ تھپڑ مارنا بھی چاہتی تو نہیں مار سکتی تھی۔ وہ خود بھی تماشا بن جاتی۔ معاشی مجبوری بھی اسے یہ ذلت سہنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ تو یہ پاور پلے ہے اور یہ پاور مرد کے ہاتھ میں کیونکہ دنیا مردوں کی ہے۔

تو کیا یہ مان لیا جائے کہ لڑکے ایسا ہی کریں گے کیونکہ وہ لڑکے ہیں؟ نہیں ہر گز نہیں۔ یہ بگڑے رویے بائیالوجیکل نہیں ہیں۔ یہ کلچرل ہیں۔ اس میں والدین کا ترجیحی سلوک، رشتے داروں کا اثر، ہم عمر اور ہم عصروں کی چھاپ، اساتذہ کا کردار، میڈیا کوریج کے طریقے اور وہی پرانی کہانی کہ مرد کو مرد بننا ہے۔ جذباتی نہیں مضبوط اور جذبوں سے عاری مرد ہی مرد ہے۔ جب لڑکے کو یہ سبق ملتا ہے تو وہ دوسروں کے جذبات کو ایک غیر ضروری ڈرامہ سمجھ کر نظر انداز کرتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں کبھی مذہب کو بیچ میں لا کر کبھی مشرقی اقدار کا سہارا لے کر اور کبھی عورت کی کمزوری کو وجہ بنا کر مرد کی بالا دستی کو مان لیا گیا ہے۔ مساجونسٹ رویے سوسائٹی میں ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ بازاروں میں، دکانوں میں، دفتروں میں درسگاہوں میں اور گھروں میں۔ انٹرنیٹ دیکھ لیں۔ میڈیا بھرا پڑا ہے۔ ہماری فلمیں اور ڈرامے بھی دانستہ یا نادانستہ اسی رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ اتنا ہی خطرناک مواد ہے جتنا پورن فلمیں۔ عورت کا گھر سے باہر نکل کر کام کرنا اس کے لیے عذاب بنا دیا جاتا ہے۔

یہ بات بھی جاننا ضروری ہے کہ گو جنسی زیادتی کے مجرم دونوں جنس سے ہو سکتے ہیں۔ مرد بھی اور عورت بھی۔ لیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایک بھاری اکثریت مردوں ہی کی ہے۔ تشدد کے واقعات میں بھی مرد ہی کا ہاتھ اٹھا ہوا ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی جنسی زیادتی کا کیس سامنے آتا ہے سب ہی مل کر ہائے ہائے کرتے ہیں اور زیادتی کرنے والے کو برا کہنے کے ساتھ ساتھ توجیہ بھی پیش کرتے ہیں کہ بھئی وہ عورت وہاں اس وقت گئی ہی کیوں؟ یا ایسے کپڑے پہنے گی تو ایسا تو ہوگا نا۔ اور تو اور جب ملک کا سربراہ ملک کی نصف آبادی کو یہ مشورے دے کہ وہ پردہ کریں تاکہ فحاشی رک سکے کیونکہ مرد کمزور ہے۔ یعنی بوائز آر بوائز۔ وہ اپنی مرضی سے کبھی کمزور بن جایں کبھی طاقتور۔ یہ سوچ اور یہ رویہ اتنی گہری جڑیں پکڑ چکا ہے کہ اس کا کوئی بھی فوری تدارک ممکن نہیں۔ آسان بات تو یہ ہے مرد سدھر جائیں تو یہ سیاپا ختم ہو۔ لیکن وہ مشکل ہے۔ تو بھر عورت کو ہی مضبوط ہونا پڑے گا۔ یہ مضبوطی اسے تعلیم اور معاشی خود انحصاری سے ملے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words