جنسی دراز دستی پر فوراً شٹ اپ کال دیں

۔ ۔

گلی کی نکڑ پر موجود سنسان پلاٹ عرصے سے نئے مکین کی راہ تک رہا تھا۔ اس دن محلے میں خبر پھیل چکی تھی کہ مالکن نے بالآخر وہ پلاٹ کسی اسلم نامی شخص کو فروخت کر دیا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں مکان تعمیر ہو گیا اور اسلم اپنی بیوی اور جوان بیٹی کے ہمراہ وہاں منتقل ہو گیا۔ نوکری کی تلاش اسلم کو اپنے آبائی علاقے سے بہت دور فیصل آباد لے گئی تھی۔

اسلم کی فیملی کو گلی والوں نے مکمل طور قبول نہیں کیا تھا۔ عید، شب برات، محرم و میلاد کی نیاز بھی ان کے گھر کم ہی جاتی تھی۔ اسلم کے گھر سے کچھ گھر چھوڑ کر مصعب کا گھر آتا تھا۔ مصعب کا خاندان وہاں کا پرانا باسی تھا۔ اسلم اور اس کی فیملی کے ساتھ محلے والوں کا رویہ مصعب کو بہت بیزار کرتا تھا۔ اس کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ سر راہ اسلم کو سلام کر لیا کرے۔ کبھی کبھار واٹر فلٹر پلانٹ پہ ملاقات ہو جاتی تو اکٹھے واپس آیا کرتے تھے۔ وہاں دیگر لوگوں کے ساتھ اسلم کا حسن سلوک دیکھ کر مصعب کے دل میں اس کے لیے عزت اور احترام کے جذبات بڑھ چکے تھے۔

یوں ہی ایک مرتبہ مصعب کہیں کام سے جا رہا تھا کہ اسلم نے روک کے اپنے دروازے پہ کھڑے کھڑے اسے چائے کی دعوت بھی تھی۔ مصعب نے اپنا عذر بتایا اور اپنی راہ لی۔ جاتے جاتے مصعب سوچ بھی رہا تھا کہ انکل نے ایک تو قمیض کی بجائے صرف بنیان پہنی ہوئی تھی اور دوسرا دروازے سے منہ باہر نکال کر یوں چائے کی دعوت دینے کا بھلا یہ کون سا طریقہ تھا۔

مصعب جو کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کیا کرتا تھا۔ اکثر صبح کے وقت وہ اور اسلم ایک ہی پبلک وین میں اپنے اپنے آفس جایا کرتے تھے۔ جب کبھی لیٹ ہو رہے ہوتے یا بارش ہوتی تو آٹو (رکشہ) بک کروا لیا کرتے تھے۔ ایک روز اسی طرح وہ آٹو پہ جا رہے تھے اور اسٹاپ آ جانے پر معمول کے مطابق مصعب نے اپنے حصے کا کرایہ ادا کرنے کے لیے پینٹ کی جیب سے بٹوا نکالنا چاہا تو اسلم نے ’آپ رہنے دیں، رہنے دیں، میں پیسے دے دوں گا‘ کہتے ہوئے اپنا ہاتھ یوں آگے بڑھایا کہ مصعب کو اسلم کا ہاتھ سامنے کی طرف اپنے پرائیویٹ باڈی پارٹس پر محسوس ہوا۔ مصعب نے اسلم کا ہاتھ پیچھے کیا، اپنا کرایہ نکالا اور ہکا بکا آٹو سے باہر نکل آیا اور گویا ماؤف دماغ کے ساتھ ڈرائیور سمیت ارد گرد کی دنیا کی نظریں خود پہ محسوس کرتے ہوئے بھاری قدموں کے ساتھ کسی طرح سے اس زمان و مکاں سے اوجھل ہونا چاہا۔

مصعب اس واقعے کو سمجھنے میں یکسر ناکام تھا۔ اس دن کام پہ بھی اسے کچھ نہیں سوجھ رہا تھا۔ وہ رہ رہ کر صبح والے واقعہ کے متعلق سوچتا چلا جا رہا تھا۔ اس کے وہم و گماں میں بھی یہ منظر کشی نہیں تھی۔ وہ دل سے اسلم کی عزت کیا کرتا تھا اور محلے والوں کے رویہ کے برعکس اسلم سے بول چال بھی رکھتا تھا۔ اگلے روز مصعب نے اپنے ایک دوست کو اعتماد میں لے کر اسے سارا قصہ سنا دیا۔ اس کے دوست نے توجہ سے بات سنی؛ اسلم کی عمر پوچھی، مصعب نے بتایا کہ پینتالیس کے لگ بھگ ہے۔

اس پہ مصعب کا دوست کہنے لگا کہ بڑی عمر کے کچھ مردوں کو یہ لت پڑی ہوتی ہے۔ گفتگو کے اختتام پر وہ دونوں اس نتیجہ پہ پہنچے کہ اس کے پاس دو آپشنز ہیں۔ ایک یہ کہ جا کے لڑائی کرے اور گلی محلے میں شور مچے اور اسلم پہ دباؤ پڑے اور تا کہ اگلی مرتبہ ایسی کوئی حرکت کرنے کا سوچے بھی نہ۔ اور دوسرا آپشن یہ تھا کہ اکیلے میں اسے شٹ اپ کال دے تا کہ معاملہ حل ہو جائے، بات بھی آگے نہ بڑھے، نہ ہی مصعب کے گھر والوں کو پتہ چلے اور نہ ہی اسلم کے گھر والوں کو محلے میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔

کچھ دن گزرنے کے بعد ایک روز صبح کے وقت جب مصعب حسب معمول اسٹاپ پہ گاڑی کا انتظار کر رہا تھا تو سامنے سے اسلم نمودار ہوا۔ مصعب نے اس صورت حال کے حوالے سے اپنے ذہن میں کئی دنوں سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ اگلے ہی لمحے اسلم نے سلام کے لیے اپنا ہاتھ مصعب کی جانب بڑھایا۔ مصعب نے ہاتھ ملانے سے انکار کرتے ہوئے انتہائی غصے کے انداز میں اپنی ٹون کو اونچا کر کے بولنا شروع کر دیا۔ ’خبردار، جو آئندہ کبھی میرے قریب بھی آئے، مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔ شرم نہیں آتی، اپنی عمر دیکھو اور اپنی حرکتیں دیکھو‘ ۔ اتنے میں اسلم بوکھلائے ہوئے انداز میں ادھر ادھر کے ماحول کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھنے لگا کہ ’ہوا کیا ہے؟‘ ۔ مصعب بولا: ’میں بتاؤں کہ ہوا کیا ہے۔ اس دن والی حرکت تمہیں یاد نہیں ہے۔ میں آخری مرتبہ کہہ رہا ہوں کہ یہاں سے چلے جاؤ، نظر نہ آؤ مجھے‘ ۔ اسلم کو تب تک سمجھ آ چکی تھی۔ اس نے وہاں سے چلے جانے میں ہی عافیت جانی۔ اس دن کی تین، چار منٹ کی چیخ و چنگھاڑ پہ مبنی شٹ اپ کال کا نتیجہ یہ نکلا کہ پھر کبھی اسلم نے مصعب کے قریب سے بھی گزرنے کا نہ سوچا!

Comments - User is solely responsible for his/her words