مولانا ابوالکلام آزاد: جب کانگریس کے ’شو بوائے‘ نے بانی پاکستان کے مزار پر حاضری دی

عقیل عباس جعفری - محقق و مورخ، کراچی

یہ 19 جولائی 1951 کی بات ہے جب انڈیا کے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے تہران سے وطن واپس جاتے ہوئے ایک دن کے لیے کراچی میں قیام کیا۔ اس قیام کے دوران انھوں نے پاکستان میں انڈیا کے ہائی کمشنر سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دینا اور فاتحہ پڑھنا چاہتے ہیں۔

انڈین ہائی کمشنر کی کوشش سے حکومت پاکستان نے ابوالکلام آزاد کی اس خواہش کو ممکن بنا دیا، چنانچہ انھوں نے بانی پاکستان کے مزار پر فاتحہ پڑھی اور پھول چڑھائے۔

مولانا ابوالکلام آزاد اور محمد علی جناح دونوں ہی 20ویں صدی میں ہندوستانی سیاست کے دو اہم رہنما تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد پاکستان کے قیام کے شدید ترین مخالف تھے جبکہ دوسری جانب محمد علی جناح تھے جن کی سیاست پاکستان کے قیام کی کوششوں کے گرد گھومتی تھی۔

محمد علی جناح آزاد سے عمر میں 12 برس بڑے تھے تاہم دونوں کی سیاست زندگی کا آغاز کم و بیش ایک ہی زمانے میں ہوا۔

جناح نے سیاست کا پہلا سبق دادا بھائی نوروجی اور گوپال کرشن گوکھلے جیسے رہنمائوں سے لیا۔ وہ سیاست میں مسلمانوں کے قائد کی حیثیت سے نہیں بلکہ خالص قومی رہنما کے روپ میں داخل ہوئے تھے اور سیاست میں مذہب کی آمیزش کے خلاف تھے بلکہ تاریخی حوالے یہ بتاتے ہیں کہ وہ مذہبی معاملات میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔

جناح کا رہن سہن مکمل طور پر مغربی تھا، ہندوستان کی تقسیم سے قبل وہ ایک لبرل اور سیکولر قومیت کی علمبردار کے طور پر جانے جاتے تھے۔

سروجنی نائیڈو نے انھیں ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کا خطاب دیا تھا، حتیٰ کہ سنہ 1920 میں انھوں نے کانگریس سے اپنا دیرینہ رشتہ اس بات پر قطع کر لیا تھا کہ وہ سیاست میں مذہبی عناصر کو استعمال کر رہی تھی۔

آزاد سنہ 1888 میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے تھے، عربی ان کی مادری زبان تھی۔ ان کے والد مولانا خیر الدین مذہبی عالم تھے، یوں مذہبی تعلیم ابوالکلام کو وراثت میں ملی۔

بارہ، چودہ برس کی عمر میں ان کی تحریریں اخبارات اور رسالوں میں شائع ہونا شروع ہو گئیں اور 25 سال کی عمر میں سنہ 1912 میں وہ ایک سیاسی رسالے ’الہلال‘ کے ایڈیٹر بن گئے تھے۔ سنہ 1920 کے لگ بھگ وہ عملی سیاست کے میدان میں داخل ہوئے اور 33 سال کی عمر میں تحریک خلافت، تحریک ترک موالات اور عدم تعاون کے روح و رواں بن گئے۔

مسلمانوں میں ان کا درجہ اتنا بڑھا کہ انھیں ’امام الہند‘ کہا جانے لگا جبکہ سیاسی میدان میں ان کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سنہ 1923 میں جب ان کی عمر 35 برس تھی وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب کر لیے گئے تھے۔

سنہ 1940 میں وہ ایک مرتبہ پھر انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوئے اور 1946 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ انھوں نے متعدد مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی تاہم اس دوران بھی وہ علمی کاموں سے غافل نہیں رہے اور مسلسل کتابیں تحریر کرتے رہے۔

آزاد ہندو مسلم اتحاد کے شدید حامی تھے اور متحدہ قومیت، ملی جلی تہذیب اور سامراج مخالف سیاست کے علمبردار تھے، یہ وہ مقام تھا جہاں سے جناح نے اپنا سیاسی سفر شروع کیا تھا۔

مگر وقت کے ساتھ جناح اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ ہندؤوں اور مسلمانوں کا ایک ساتھ رہنا مشکل ہے۔ اس بات کا نظارہ وہ سنہ 1937 میں کر چکے تھے جب ہندوستان بھر میں صوبائی حکومتیں قائم ہوئی تھیں اور ان میں سے چھ حکومتوں کا تعلق انڈین نیشنل کانگریس سے تھا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کانگریس اس موقع سے فائدہ اٹھاتی، مسلمانوں کی دل جوئی کرتی اور ہر صوبے میں انھیں اپنے ساتھ لے کر چلتی مگر ہوا یوں کہ جہاں جہاں کانگریس کی حکومتیں قائم ہوئیں اس نے ایسا نہیں کیا۔

کانگریس کی اس سیاسی عاقبت نااندیشی کے بعد مسلمان آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع ہو گئے۔ یہی وقت تھا کہ جب دوسری عالمی جنگ کے بعد کانگریس نے وزارتوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تو مسلم لیگ نے اس فیصلے پر ’یوم نجات‘ منایا اور صرف تین ماہ بعد پاکستان کے قیام کی قرارداد منظور کر لی۔

کم و بیش اسی زمانے میں ابوالکلام آزاد کانگریس کے صدر منتخب ہوئے تو جناح نے انھیں کانگریس کے ’شو بوائے‘ کا خطاب دیا۔

مولانا ابوالکلام آزاد

ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب ’انڈیا ونز فریڈم‘ میں لکھا ہے کہ سنہ 1946 میں پیش کی جانے والی وزارتی مشن کی تجاویز وہ آخری موقع تھیں جو ہندوستان کو تقسیم ہونے سے بچا سکتی تھیں۔ وزارتی مشن کے اس منصوبے کو مسلم لیگ نے کلی طور پر اور کانگریس نے جزوی طور پر منظور کر لیا تھا مگر نہرو کے ایک اخباری بیان سے سارا پانسہ پلٹ گیا۔

نہرو نے کہا تھا کہ ان کی جماعت سردست تو اس منصوبے کو مجبوراً منظور کر رہی ہے مگر بعد میں وہ اس میں تبدیلی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ نہرو کے اس بیان کے بعد مسلم لیگ نے وزارتی مشن کی منظوری کا فیصلہ واپس لے لیا۔

سنہ 1946 کے اواخر میں ہندوستان میں عبوری حکومت قائم ہوئی جس میں انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے نمائندے شامل تھے۔ انڈین نیشنل کانگریس نے اس حکومت میں آزاد کو وزارت تعلیم کا قلم دان دیا۔

مارچ 1947 میں ماؤنٹ بیٹن آخری انگریز وائسرائے کے طور پر ہندوستان آئے تو انھوں نے بڑی سہولت سے پٹیل، نہرو اور گاندھی کو ہندوستان کی تقسیم پر راضی کر لیا۔

مولانا ابوالکلام آزاد
مولانا ابوالکلام آزاد اور گاندھی

مگر یہ ابوالکلام آزاد تھے جو آخری وقت تک اس تقسیم کی مخالفت کرتے رہے۔ 15 اگست 1947 کو ہندوستان تقسیم ہو گیا اور پاکستان کا وجود عمل میں آ گیا۔ ہندوستان کی نئی کابینہ میں بھی ابوالکلام آزاد وزیر تعلیم کی حیثیت سے شامل تھے۔

عبدالقوی دسنوی نے اپنی کتاب ’حیات ابوالکلام آزاد‘ میں لکھا ہے کہ ’یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان کے مسلمانوں پر عجیب اداسی اور مایوسی کی کیفیت طاری ہو رہی تھی اور ان کی سمجھ میں یہ نہیں آ رہا تھا کہ اب تقسیم کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کا مستقبل کیا ہو گا اور انھیں اس پریشانی اور الجھن سے نجات کیونکر ملے گی۔‘

’ایسے مایوس کن حالات میں مولانا آزاد آگے بڑھے تاکہ مایوسی کی فضا میں امید کی کرن سے روشنی پیدا کریں اور لڑکھڑاتے قدم تھم جائیں، ہجرت کا خیال دل سے نکل جائے اور یہیں زندگی گزارنے کا حوصلہ پیدا ہو جائے۔‘

پاکستان بننے کے بعد 24 اکتوبر1947 کو عید الاضحی کے موقع پر انڈین مسلمانوں کی سراسیمگی اور پریشانی کو دیکھ کر مولانا آزاد نے جامع مسجد دہلی کے سامنے میدان میں مسلمانوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جو یادگار اور تاریخ ساز تقریر کی وہ ہندوستان کے سیاسی حالات کے تناظر میں آج بھی اہمیت کی حامل ہے۔

مولانا غلام رسول مہر کی کتاب ’خطبات آزاد‘ میں شامل اس تقریر کے چند اقتباسات ہی سے اس کی دور رسی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد

مولانا نے کہا کہ ’عزیزان گرامی آپ جانتے ہیں کہ وہ کون سی زنجیر ہے جو مجھے یہاں لے آئی ہے۔ میرے لیے شاہ جہاں کی اس یادگار مسجد میں یہ اجتماع نیا نہیں۔ میں نے اس زمانہ میں بھی کہ جب اِس پر لیل و نہار کی بہت سی گردِشیں بیت چکی تھیں، تمھیں خطاب کیا تھا۔ جب تمہارے چہروں پر اضمحلال کی بجائے اطمینان تھا اور تمہارے دلوں میں شک کی بجائے اعتماد۔‘

’آج تمہارے چہروں کا اضطراب اور دلوں کی ویرانی دیکھتا ہوں تو مجھے بے اختیار پچھلے چند برس کی بھولی بسری کہانیاں یاد آ جاتی ہیں۔ تمہیں یاد ہے میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری زبان کاٹ لی۔ میں نے قلم اٹھایا اور تم نے میرے ہاتھ قلم کر دیے۔ میں نے چلنا چاہا تم نے میرے پاؤں کاٹ دیے، میں نے کروٹ لینا چاہی تو تم نے میری کمر توڑ دی۔‘

’حتیٰ کہ پچھلے سات سال کی تلخ نوا سیاست جو تمہیں آج داغ جدائی دے گئی ہے اس کے عہد شباب میں بھی میں نے تمہیں ہر خطرے کی شاہراہ پر جھنجھوڑا لیکن تم نے میری صدا سے نہ صرف اعراض کیا بلکہ منع و انکار کی ساری سنتیں تازہ کر دیں۔ نتیجہ معلوم کہ آج انھی خطروں نے تمہیں گھیر لیا ہے جن کا اندیشہ تمہیں صراط مستقیم سے دور لے گیا تھا۔‘

عبدالقوی دسنوی لکھتے ہیں کہ ’مولانا نے اسی تقریر میں یہ بھی بتایا کہ ہندوستان کی سیاست کا رخ بدل گیا ہے، مسلم لیگ کی ہندوستان میں کوئی جگہ نہیں اور اب یہ ہندوستانی مسلمانوں پر منحصر ہے کہ وہ صحت مند انداز فکر رکھتے ہیں یا نہیں۔‘

انھوں نے پرزور الفاظ میں کہا کہ ’میں تم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہمیں ہمارے سوا کوئی زیر نہیں کر سکتا۔ میں نے ہمیشہ کہا اور آج پھر کہتا ہوں کہ تذبذب کا راستہ چھوڑ دو۔ شک سے ہاتھ اٹھا لو اور بے عملی کو ترک کر دو۔ یہ تین دھار کا انوکھا خنجر لوہے کی اِس دو دھاری تلوار سے زیادہ کاری ہے جس کے گھاؤ کی کہانیاں میں نے تمہارے نوجوانوں کی زبانی سُنی ہیں۔‘

انھوں نے تنبیہ کرتے ہوئے یہ باتیں بھی کہیں ’یہ فرار کی زندگی جو تم نے ہجرت کے مقدس نام پر اختیار کی ہے، اس پر غور کرو۔ تمہیں محسوس ہو گا کہ یہ غلط ہے۔ اپنے دِلوں کو مضبوط بناؤ اور اپنے دماغوں کو سوچنے کی عادت ڈالو اور پھر دیکھو کہ تمہارے یہ فیصلے کتنے عاجلانہ ہیں۔ آخر کہاں جا رہے ہو اور کیوں جا رہے ہو؟‘

آزاد نے آگے یہ بھی کہا کہ ’یہ دیکھو۔۔۔ مسجد کے بلند مینار تم سے جھک کر سوال کرتے ہیں تم نے اپنی تاریخ کے صفحات کو کہاں گم کر دیا ہے؟ ابھی کل کی بات ہے کہ یہیں جمنا کے کنارے تمہارے قافلوں نے وضو کیا تھا اور آج تم ہو کہ یہاں رہتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ دہلی تمہارے خون کی سینچی ہوئی ہے۔‘

آزاد نے کہا ’آؤ عہد کرو کہ یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم اسی کے لیے ہیں اور اس کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔ آج زلزلوں سے ڈرتے ہو۔ کبھی تم خود ایک زلزلہ تھے۔ آج اندھیرے سے کانپتے ہو، کیا یاد نہیں رہا کہ تمہارا وجود ایک اجالا تھا۔ یہ بادلوں کے پانی کی سبیل کیا ہے کہ تم نے بھیگ جانے کے خدشے سے اپنے پائنچے چڑھا لیے ہیں۔‘

’وہ تمہارے ہی اسلاف تھے جو سمندروں میں اتر گئے۔ پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا۔ بجلیاں آئیں تو ان پر مسکرائے۔ بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا۔ صرصر اٹھی تو رخ پھیر دیا۔ آندھیاں آئیں تو ان سے کہا تمہارا راستہ یہ نہیں ہے۔ یہ ایمان کی جانکنی ہے کہ شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے آج خود اپنے ہی گریبان کے تار بیچ رہے ہیں اور خدا سے اس درجہ غافل ہو گئے ہیں کہ جیسے اس پر کبھی ایمان ہی نہیں تھا۔‘

‘عزیزو! میرے پاس تمہارے لیے کوئی نیا نسخہ نہیں۔ 14 سو برس پہلے کا نسخہ ہے۔ وہ نسخہ جس کو کائنات انسانی کا سب سے بڑا محسن لایا تھا۔ وہی نسخہ تمہاری حیات کا ضامن اور تمہارے وجود کا رکھوالا ہے۔ اسی کا اتباع تمہاری کامرانی کی دلیل ہے۔‘

دسنوی لکھتے ہیں کہ ’آزاد کی پوری تقریر نہایت فصیح و بلیغ اور پرسکون الفاظ اور پر زور اسلوب اور یقین و اعتماد کے ساتھ کی گئی جس کا ایک ایک لفظ ان کے دلی احساسات و جذبات اور انداز فکر کی ترجمانی کر رہا تھا۔ ان کی تقریر نہایت پر اثر اور تسکین و تسلی کا باعث تھی۔ انھوں نے اپنے ملک کو چھوڑنے کی بجائے یہیں رہنے پر زور دیا اور بتایا کہ ہندوستان پر ہمارا اتنا ہی حق ہے جتنا دوسروں کا ہے۔‘

’مولانا کی اس سچائی سے بھرپور پُرتاثیر تقریر نے ہندوستانی مسلمانوں کے انداز فکر کو بے حد متاثر کیا۔ ان کی یقین دہانیوں نے بڑا کام کیا اور مسلمانوں کے جذبات میں ٹھہراؤ اور فکر میں تبدیلی ہوئی۔ ان میں اپنے آپ پر بھروسہ پیدا ہوا اور وہ اپنے آپ کو ہندوستان کے چاہنے والوں کی صف میں کھڑا محسوس کرنے لگے اور یہیں رہنے میں بہتری سمجھنے لگے۔‘

1948 میں مولانا آزاد کی ملاقات مولانا عبدالماجد دریابادی سے ہوئی۔ مولانا دریابادی بتاتے ہیں کہ ’آزاد کی گفتگو میں وہی زور و شور، وہی جامعیت، ہماگیری، خوش خلقی اور انسانی ہمدردی تھی جو ان کا خاصہ تھا۔ پاکستان کے حق میں بجائے شکایت و شماتت اور طنز و تعریض کے الٹا کلمہ خیر اور کچھ اس قسم کے الفاظ کہ اب جبکہ پاکستان بن چکا ہے، ہم سب کی فلاح اور بہبود اسی میں ہے کہ وہ طاقتور بنے۔‘

مولانا دریابادی لکھتے ہیں کہ ’سیاسی لیڈروں میں اس ظرف کی مثال نادر ہی ملے گی۔‘

رشید الدین خان نے اپنی کتاب ’مولانا ابوالکلام آزاد، شخصیت، سیاست، پیغام‘ میں لکھا ہے کہ ’آزاد اور جناح دونوں کی شخصیتیں مختلف، متضاد اور جاذب نظر تھیں، دونوں متین، وجیہ اور جامہ زیب تھے۔ دونوں کی طبیعت میں جلالی رنگ غالب تھا، دونوں کی خطابت میں استدلال، دل پزیری اور سحر بیانی تھی۔ جناح صاحب کا شمار انگریزی کے مشہور و معروف مقررین میں ہوتا تھا، مولانا آزاد اردو خطابت میں پائے کمال تک پہنچے ہوئے تھے۔‘

’مولانا آزاد میں بجلی کی سی کڑک اور آہنگ تھا، جناح صاحب کی آواز باوقار اور دھیمی تھی۔ دونوں کے شخصی کردار بے داغ اور عامیانہ کمزوری سے بری، دونوں اپنے اپنے انداز میں بے لوث محب وطن تھے اور جذبہ آزادی سے منور۔ اختلاف تھا تو ذاتی نہیں سیاسی، شخصی نہیں بلکہ نظریاتی۔‘

شاید یہی تناظر تھا کہ جب تین سال بعد 19 جولائی 1951 کو ابوالکلام آزاد نے کراچی میں محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دی تو اس موقع پر جناب رئیس امروہوی نے ایک قطعہ تحریر کیا جس کا عنوان تھا ’حادثے‘۔

رئیس امروہوی نے لکھا کہ:

جو حادثہ بھی نہ ہو جائے آج کل کم ہے

ہمارا عہد ہے اک عہد انقلاب ایجاد

بھلا یہ کس کو توقع تھی قبل ازیں اے دوست

مزار قائداعظم، ابوالکلام آزاد؟

22 فروری 1958 کو مولانا آزاد کا انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی تہلکہ خیز کتاب ’انڈیا ونز فریڈم‘ شائع ہوئی۔

مولانا آزاد نے اس کتاب میں لکھا ’دس سال بعد میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو تسلیم کرتا ہوں کہ مسٹر جناح نے جو کچھ کہا، اس میں زور تھا، کانگریس اور لیگ دونوں اس سمجھوتے (کابینہ مشن منصوبہ) میں فریق تھیں اور ایسا مرکز، صوبوں اور گروپوں میں تقسیم کی بنیاد پر ہی ہوا تھا کہ لیگ نے منصوبے کو منظور کیا تھا۔‘

’کانگریس نے شک کا اظہار کر کے دانش مندی کا ثبوت دیا اور نہ ہی وہ حق بجانب تھی۔ اگر وہ ہندوستان کے اتحاد کی حامی تھی تو اسے غیر مبہم انداز میں منصوبے کو منظور کر لینا چاہیے تھا۔ پس و پیش نے ہی مسٹر جناح کو ہندوستان کی تقسیم کا موقع فراہم کیا۔‘

اسی کتاب کے آخر میں مولانا آزاد نے لکھا ہے کہ ’پاکستان کی نئی حکومت ایک حقیقت ہے، ہندوستان اور پاکستان دونوں کے مفاد کا تقاضا ہے کہ وہ باہم دوستانہ تعلقات پیدا کریں اور تعاون پر عمل پیرا ہوں۔ اس کے سوا کوئی دوسری راہ عمل اختیار کی جائے گی تو تکالیف، مشکلات اور بدنصیبی میں اضافہ ہو گا۔‘

مولانا آزاد کے اس بیان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اگرچہ پاکستان کے قیام کے مخالف تھے مگر مسلمانوں کی بہتری اور بہبود ہمیشہ ان کا نصب العین رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب انھیں جناح کی اصابت رائے کا احساس ہوا تو انھوں نے اسے تسلیم کرنے میں ذرا بھی پس و پیش نہیں کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words