ہم کس کو خط لکھیں؟

خطے کی تاریخ میں ایک خط کے بہت چرچے ہیں سنا اور پڑھا ہے کہ ہمارے خطے میں ایک ظالم و جابر بادشاہ ہوتا تھا، اس کے سپاہیوں نے سمندری بندرگاہ پر بطور تجارت آنے والے ایک پانی کے جہاز پر قبضہ کر لیا، جہاز پر خواتین بھی تھیں، ایک خاتون نے دور دراز کے ایک نیک اور رحم دل بادشاہ کو خط لکھا کہ ہم کو ظالموں نے قید کر لیا ہے، دہائی ہے کہ ہم کو اس اندھیرے قید خانے سے رہائی دلائی جائے، رحمدل بادشاہ نے فوراً اپنے بہادر اور جنگ جو اور کم عمر سپہ سالار کو حکم دیا کہ فوراً کوچ کرو اور مظلوم قیدیوں کو ظالم بادشاہ کی قید سے چھڑاو، بہادر سپہ سالار نے اپنے تیز رفتار گھوڑے کو ایڑھ لگائی، اور تبڑم تبڑم گھوڑا دوڑاتا ہوا سمندر پار کر کے ظالم بادشاہ کی سلطنت میں جا پہنچا اور ظالم سپاہ کو بادشاہ سمیت تہس نہس کر ڈالا، اپنے مظلوم قیدیوں کو قید سے نکلوایا پھر جنگ کے بعد باقی بچ جانے والے مرد و زن سے کہا، دیکھئے ہم بہت دور سے آپ کو سبق سکھانے آئے ہیں کہ خواتین سے حسن سلوک سے پیش آئیے، ہمارے دین نے خواتین کو سارے حقوق ودیعت کر دیے ہیں، وہ تجارت بھی کر سکتی ہیں، آزادانہ سفر بھی کر سکتی ہیں اور اپنی رضا سے نکاح بھی کر سکتی ہے۔ لہذا آپ لوگ ہمارے دین پر آ جائیے اور امن و سکون سے زندگی گزاریے۔

لوگوں نے یہ خطاب سن کر واہ واہ کی اور سپہ سالار کے آگے جھک گئے اور آج تک جھک جھک کر اس خط کا ذکر کرتے ہیں جو مظلوم خاتون نے لکھا تھا۔ لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم آج کل کی خواتین کس کو خط لکھ کر انصاف کے طلب گار ہوں۔

رواں سال میں متعدد ایسے واقعات و جرائم سامنے آئے ہیں جن کی تفصیلات میں خواتین ہی نشانہ بنیں، قتل کی خبریں تواتر کے ساتھ آ رہی ہیں، روز ایک نیا نام ہیش ٹیگ ٹرینڈ میں شامل ہو جاتا ہے۔ جسٹس فار فلاں۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ ”پاکستان میں عورت محفوظ ہے“

ہم جیسے لوگ جو بچپن سے اخبارات پڑھنے کے عادی ہیں، ہمیشہ سے غیرت کے نام پر قتل، کاروکاری، پسند کی شادی پر عورت کے قتل اور زیادتی کی وارداتوں کی خبریں پڑھتے آ رہے ہیں۔

اور اب الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ملک کے گوشے گوشے کی ہر خبر لمحوں میں ہر فرد کے اسمارٹ فون میں گردش کرنے لگتی ہے، ان خبروں میں نمایاں خبریں خواتین کے متعلق ہی ہوتی ہیں، دل گیر نکتہ یہ ہے کہ ایک طرف لوگ باگ سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر ایک بری خبر پھیلاتے ہیں، پھر دوسری دینی خبر یہ ہوتی ہے کہ اسلام نے اور سماج نے عورت کو محفوظ کیا ہوا ہے۔

اب تو ہمارا دارالحکومت بھی خواتین کے لئے محفوظ نہیں رہا ہے۔ مورخہ چار مئی دو ہزار اکیس کو بی بی سی کی خبر کے مطابق اسلام آباد میں سیریل ریپسٹ کو گرفتار کیا گیا۔ خبر کا دل دوز و تلخ پہلو یہ تھا کہ زیادتی کا شکار ہونے والی اکثر خواتین چپ رہیں، حتی کہ زیادتی کا شکار ہونے والی لیڈی کانسٹیبل بھی، اور اس زبان بندی کی سب سے بڑی وجہ یقیناً یہی رہی ہو گی کہ بدنامی ہو گی، عدالتی کارروائی ایک طویل اور صبر آزما امر ہے اس لیے چپ رہنے میں عافیت سمجھی گئی۔

بیرون ممالک سے شادی کرنے آنے والی لڑکیاں اور رشتے سے انکار پر لڑکیوں کا قتل اب اس ملک میں عام سی بات ہو گئی ہے، چند دن کے بعد ایک خبر آ جاتی ہے، اس پر بھی عوامی کمنٹس یہی ہوتے ہیں، یہ ہوتا ہے مرضی کا نتیجہ۔ کسی سے ملنے کیوں گئی، اور آزادی مانگو۔

نہ جانے ہر قسم کے جرم کی تان آزادی پر کیوں ٹوٹ رہی ہے، کیا ملک کے چھوٹے شہروں اور دیہات میں جہاں سخت پدر شاہی نظام ہے وہاں ایسے واقعات کا سبب آزادی ہے؟ اور آزادی کون سی ؟ کیا اپنے ملک میں آ کر شادی کرنا جرم ہے؟

جب دین نے شادی کے لئے رضامندی کی اجازت دی ہے تو ہمارے سماج میں پسند کی شادی پر اعتراض کیوں؟

جب لڑکی نے شادی سے انکار کر دیا تو اس کو قتل کرنا یا ریپ کرنا، تیزاب پھینکنا یا قتل کرنا کون سے دین کے زمرے میں آتا ہے؟

ہر جیتے جاگتے سانس لیتے انسان کی آزادی یہی ہے کہ وہ زندگی کی بنیادی ضروریات بنا کسی رکاوٹ کے حاصل کر سکے، بنیادی ضروریات میں خوراک اور علاج بھی شامل ہے، ہمارے یہاں جب خواتین کی صحت کے حوالے سے بات کی جائے، تب بھی عوامی رد عمل یہی ہوتا ہے، اتنا بولڈ موضوع نہ لکھیں، ایسے آرٹیکل کیوں شیئر کرتی ہیں جس میں ماہواری یا خاندانی منصوبہ بندی کا ذکر ہوتا ہے، یعنی ایک لیڈی ڈاکٹر آرٹیکل لکھ لکھ کر طبی رائے فراہم کر رہی ہے کہ خواتین اپنی صحت کا خیال کیسے رکھیں، اس پر بھی اعتراض ہے، نفسیات دان خواتین کے ذہنی و جسمانی مسائل پر گفتگو کر رہی ہے وہ بھی قابل اعتراض ہے۔

پھر حکومتی سطح پر اور عوامی سطح پر یہ کیوں کہا جا رہا ہے کہ عورت محفوظ ہے، دین نے حقوق ودیعت کیے ہوئے ہیں۔ تو سادہ سی بات یہ ہے کہ حقوق کو تسلیم کر لیا جائے، اور جو عناصر ان حقوق کی راہ میں رکاوٹ ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

پچھلے دنوں اسلام آباد میں ہی ایک جوڑے کو بد ترین طور سے ہراساں کیا گیا، اس واقعے کے بعد سماج کے کچھ سو کالڈ شریف افراد مجرم کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہوئے پائے گئے اور انہوں نے برملا اس کا اظہار بھی کیا، گویا عوام کے اندر ایک ڈکٹیٹر پوشیدہ ہے اسی لئے ڈکٹیٹر شپ اس قوم کو بھاتی ہے، جب کہ دین میں جبر نہیں ہے۔

اسلام آباد میں نور مقدم کا قتل اسی جبریت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، لیکن ساتھ ہی حکومت کی طرف سے غیر ذمہ دارانہ بیان بازی اس جبر میں اضافے کا باعث بنے گی۔

اخبارات کے سوشل میڈیا صفحات پر عوامی رد عمل ایک بار پھر یہی ہے کہ بے جا آزادی کی وجہ سے یہ ہوا، حتی کہ بہت سی خواتین بھی یہی کہہ رہی ہیں، کہ لڑکی نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا، ٹھیک ہے مان لیتے ہیں کہ یہ بھی ایک پہلو ہے، لیکن ہماری دینی کتاب میں لکھا ہے کہ ”ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے.” تو کیا ہم قتل ہونے والے مظلوم کے لئے انصاف نہ مانگیں؟

خواتین سے یہی درخواست ہے کہ اگر اپنی آنے والی نسلوں کا تحفظ چاہتی ہیں تو انصاف کے لئے متحد ہو جایا کریں، جرم و ظلم کا جواز دے کر سماج میں لاقانونیت کا پرچار کرنے کے مترادف ہے۔

ظلم کے خلاف ایک ہوں گے تب ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے فعال ہوں گے اور انصاف ملے گا۔ ہمارے دور سے اچھا تو قدیم دور تھا جب ایک خط لکھ کر انصاف مل جاتا تھا۔
اس دور جدید میں کس کو خط لکھ کر انصاف مانگا جائے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words