حمداللہ محب بمقابلہ معید یوسف

حال ہی میں افغان حکومت کی طرف سے سرکاری طور پر ایک تصویر شائع ہو چکی ہے جس میں افغان قومی سلامتی کے مشیر اپنے وفد کے ہمراہ لندن میں، موجودہ پاکستان اور افغانستان کی کشیدہ سیاسی صورت حال کے سلسلے میں ملاقات کی۔ جوں ہی یہ تصویر سوشل میڈیا کے اصطلاح کے مطابق وائرل اور عام اصطلاح کے مطابق وارد ہوئی تو ہمارے حکومت کے سیاسی کرتا دھرتا سیخ پا ہو گئے۔ بجائے اس کے کہ اس ملاقات کے سیاسی پہلو کے بروقت غلط اور درست وجوہات کو زیر بحث لاتے، الٹا نواز شریف کے خلاف ذاتی اختلاف اور بغض عناد کو کچھ اس طرح سے اچھالا کہ ان کو غداری کے اسناد اور القابات و خطابات سے نوازا گیا۔

ہمارے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف، فواد چودھری اور شاہ محمود قریشی تو حمداللہ محب کے ننگر ہاری بیان کے پہلے سے جوابی وار کے سیاسی حریف تھے اس ملاقات کے بعد اور بڑھ چڑھ کر سامنے آئے۔ لیکن نہ تو اس ملاقات کے حکومتی ردعمل پر افغان حکومت کی جانب سے کوئی خبر لی گئی اور نہ پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے مریم نواز سمیت کسی اہم راہنما نے کوئی نوٹس لیا۔ اگر ہم ادھر، زرہ سا کسی بھی طرفداری یا تمیز برتنے کے عمل سے گریز کرتے ہوئے سچائی اور حالات و واقعات کو سامنے رکھ کر دونوں ملکوں کے قومی سلامتی امور کے مشیروں کے سیاسی تگ و دو کو سامنے رکھیں تو ہمارے والے صاحب ثانوی پوزیشن پر پائنچے چڑھائے ہوئے دوڑتے نظر آئیں گے۔

مثلاً ان کا محض حمداللہ محب کو احمق کہہ کر چین سے بیٹھنا جبکہ یہی احمق پھر اتنا ہوشیار ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے سیاسی پیچیدگی کے حل کے لئے سابقہ وزیراعظم کے ساتھ مل کر اس کا نہ صرف حل ڈھونڈتے ہیں بلکہ یہ بھی جانتے ہیں کہ جن وزیر اعظم کے ساتھ وہ ملنے جا رہے ہیں وہ موجودہ وقت میں حالیہ حکومت کے کتنے حلیف اور حریف ہیں۔ اور اس ملاقات سے موجودہ حکومت میں کیا کھلبلی اٹھ سکتی ہیں اور اٹھی ’جس سے سیاسی طور پر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔

یا پھر حمد اللہ محب کے ساتھ حکومت کا متبادل تھا جس کے ساتھ بیٹھ کر وہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدہ صورت حال زیر بحث لا سکتے تھے۔ جبکہ ہمارے قومی سلامتی امور کے مشیر کے ساتھ یہ کہنے کے بعد کہ موجودہ افغان حکومت سے کسی بھی طرح سے بات نہیں ہو سکتی جو کہ قانونی اور سیاسی طور پر ساری دنیا کے لئے قابل قبول اور جائز ہے کے لئے ایسے کوئی دوسرے متبادل نہیں ڈھونڈ سکے جس سے وہ افغانستان کے حوالے سے بات کرسکے جو نواز شریف کی طرح اپنے ملک میں ایک سیاسی راہنما کے طور پر نہ صرف جانے بلکہ مانے بھی جاتے ہوں اور ان کی باقاعدہ سیاسی وراثت وہاں قیام کرتی ہو۔

اگر زرہ سا اور کسی ذاتی تعصب اور ذاتی خواہش کو بالائے طاق رکھ کر افغان امن عمل کے سلسلے میں ہمارے مشیر کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور امریکی اڈوں کی بازگشت پر بات کریں تو ہم نے اس میں جس سیاسی شکست کا سامنا کیا وہ بس اتنا بھی کہہ کر کافی ہے کہ امریکہ نے جب کہا کہ ہم نے تو کوئی اڈے ہی نہیں مانگے، جس سلسلے میں ہمارے وزیر اعظم نے ایک بیرونی خبر رساں ادارے کو زوردار انٹرویو بھی دیا تب بھی اس مشیر نے وزیر اعظم صاحب کو یہ مشورہ نہیں دیا تھا کہ امریکہ نے اڈے مانگے نہیں بلکہ ان کے حرکات و سکنات سے ایسے اشارے ملتے رہے۔

ہم سمجھتے تھے بلکہ دنیا سمجھتی ہے کہ افغان قوم جذباتی قوم ہیں لیکن حمداللہ محب کے ننگر ہاری بیان پر بجائے اس کے کہ ہمارے وزیر خارجہ سیاسی جواب دیتے، الٹا ان کا خون ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح جانب ساحل منہ زور ہوتا چلا جاتا ہے۔ فواد چودھری اپنے عمومی لہجے میں بول اٹھتے ہیں۔ یا جب افغان نائب صدر سانحہ سقوط ڈھاکہ کے سلسلے میں سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل کرتے ہیں تو ہماری سیاسی ڈپلومیسی کہاں چلی جاتی ہے، محض جذبات کے سمندر بے کراں میں غوطے مار کر جسمانی و فکری ٹھنڈک کی داد رسی کے لئے یا پھر سیاسی جوابی بیانیہ جو وقت کا متقاضی تھا وہ ہمارے پاس یا تو تھا نہیں یا پھر بروقت جذبات کے رو میں بہہ کر استعمال نہ کر سکے۔

مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ سادہ سا ہے اونٹ نے ایک مرتبہ کسی سے کہا کہ میرا سارہ جسم درست ہے پر گردن تھوڑی سی لمبی ہے۔ لیکن مخاطب نے یہ کہہ کر ان کی اپنے بارے میں یہ بے خبری یا خوش فہمی دور کردی کہ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی کہ رہ گئی تیری گردن۔ مطلب موجودہ ہماری حکومت کے اور امور کون سے راہ راست پر ہیں کہ رہ گئے خارجہ امور یا قومی سلامتی امور کے معاملات یا دیگر وزرا یا مشاہیر کہ وہ درست سمت پر گامزن ہیں بس قومی سلامتی امور کے راہ راست پر لانے کی دیر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words