پاکستانی صحافت کی معراج
معراج عروج سے نکلا ہے اور اس کے معنی ہی اوپر جانا یا چڑھنا ہیں۔ انسان کو بھی اسی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے کہ جس سے انسان اپنی زندگی میں اوپر کی طرف سفر کرے انسان اسی لئے بلندی کے حصول کی تگ و دو میں دن رات ایک کرتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بنے تقریباً 73 سال ہو چکے اور یہ ریاست چار ستونوں پر کھڑی ہے بلکہ لیٹی ہے۔ اس ریاست میں چار ستون اس طرح ٹھوکے گئے ہیں جس طرح کبھی شادیوں پر ٹینٹوں کے درمیان میں ایک بمبو ٹھوکا جاتا تھا جو تن تنہا نا صرف پورے ٹینٹوں کا بوجھ اٹھاتا تھا بلکہ اس کے گرد گھومنے والے بچوں کی گردش حالات کی گردش سمجھ کر برداشت کرتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد یقیناً ایک تاثر تھا کہ فوج اور سیاست دان ریاست کے دو ستون ہیں۔
پھر رفتہ رفتہ جب بیگم نصرت بھٹو کیس، جسٹس حمود الرحمن کیس ایسے چند واقعات رونما ہوئے تو ریاست کے ستونوں میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا اور عدلیہ کو بھی ریاست کا تیسرا ستون تسلیم کر لیا گیا اور جب ججوں کے ایک ٹولے نے مشرف آمریت کو قانونی قرار دیتے ہوئے اسے آئین میں ترامیم تک کا حق عطا کر دیا تو اس ستون کی مسلمہ حیثیت کو چیلنج کرنا ناممکن بنا دیا۔
آج ہم ریاست کے چوتھے ستون یعنی صحافت کی بات کریں گے۔ صحافت پاکستان کا ستون مشرف کی بندوق سے نکلنے والی گولی ثابت ہوا۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں دنیا الیکٹرانک میڈیا کے چنگل میں پھنسی تو پاکستان بھی گلوبل ویلج کا حصہ بن کر اس سے محفوظ نہ رہ سکا اور الیکٹرانک میڈیا کی پرائیویٹائزیشن نے اپنے قدم جمائے تو پاکستان کے سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی حلقے اور عسکری و جوڈیشری اس کے اثر سے ثمر آور ہوئے تو میڈیا ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت سے اپنے آپ کو متعارف نہ صرف کروا چکا تھا بلکہ کنگ میکر کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔
میڈیا پہلے اتنا آزاد اور مضبوط نہیں تھا وقت کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا تو سیاستدانوں اور آمر جرنیلوں نے میڈیا کے اس میدان میں اپنے مطلب کے دوست تلاش کر لیے۔ پھر جب 21 ویں صدی کے آغاز میں پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے پاؤں جمانے شروع کیے اور امن کی آشا کے نام پر ہنود و یہود نصاری سے دولت اکٹھی کرنے کو اپنا مقصد حیات بنا لیا اور میڈیا میں موجود ایسے گروپوں نے خبر بتانے کی بجائے خبر بنانے کو صحافت کا شیوا بنا لیا یہی وجہ ہے کہ یہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے کبھی آمروں سے مل جاتے ہیں اور کبھی اپنے ہی تراشیدہ بتوں سے مہم جوئی شروع کر لیتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے دور میں اب اپنے ہی خیالات سے بھاگنا ناممکن ہو چکا ہے چہ جائیکہ وہ عوام تک ٹویٹ یا فیس بک سٹیٹس کی مد میں نا پہنچ سکیں۔ آج کا صحافی اپنے پیشے کے اعتبار سے صحافی کم اور کسی سیاسی یا طاقتور ادارے کا سپوکس پرسن بن چکا ہے۔ اس کے باوجود کہ الیکٹرانک میڈیا کی عوام میں تیزی سے گرتی ساکھ کا ذمہ دار بھی یہ خبر دینے کی بجائے خبر بنانے والے صحافی ہیں جو ہر بات پر ”تو“ کی گفتگو کرنے سے بھی گریز نہی کرتے۔
پہلے صحافت کی معراج سچی اور مصدقہ ذرائع سے من و عن خبر دینا سمجھا جاتا تھا۔ لیکن مادہ کی اس دوڑ میں شاید معراج کے معنی بدل دیے ہیں۔ آج پاکستان کے صحافی کی معراج ہوا میں اڑتا ہیلی کاپٹر ہے جس میں بیٹھ کر وہ کسی طاقتور انسان کا انٹرویو کر کے سوشل میڈیا پر تصاویر اپ لوڈ کر سکے۔ آج کے صحافی کی معراج کے پائیدان یقیناً غلام گردشوں کی دہلیز سے شروع ہو کر غلام گردشوں کی دہلیز پر ہی ختم ہو جاتے ہیں۔


