’دل نا امید تو نہیں': ’بے حیائی میرے جسم میں نہیں اُس کی آنکھ میں تھی’

ترہب اصغر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

‘تم نے ڈرامہ ’دل نا امید تو نہیں’ میں سمبل کو دیکھا ہے؟ اتنے سال وہ اذیت میں ایک کوٹھی خانے میں گزارتی ہے۔ ہر بار وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرتی ہے مگر ناکام ہو جاتی ہے۔ مار کھاتی ہے، ذلیل ہوتی ہے، اپنی جان خطرے میں ڈالتی ہے لیکن کھبی ہار نہیں مانتی مجھے سمبل کے اس کردار نے اتنی ہمت دی ہے کہ میں تمھیں بتا نہیں سکتی ہوں۔‘

کچھ عرصہ پہلے یہ بات ایک ایسی لڑکی نے کہی جو پچھلے چند برسوں سے ایک ایسے شخص کے ساتھ اُس کی بیوی کے طور پر زندگی گزار رہی ہے جس نے اُسے ذہنی اور جسمانی تکلیف میں مبتلا کر رکھا ہے۔ تاہم ہمارے معاشرے میں لڑکی سے کہے جانے والے ایک عام جملے ‘کہ بیٹی بس گھر بسانا ہے’ نے اُسے ابھی اس بندھن میں رہنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔

سمبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے عائشہ (فرضی نام) کی آنکھوں میں ایک امید اور چمک نظر آئی تھی۔ مجھ سے کہنے لگی کہ پہلے تو میں اپنے بچوں کے لیے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھی لیکن وہ تو میرے بچوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک نہیں کرتا۔ جب میں نے وہ ڈرامہ دیکھا تو مجھے سمبل کو دیکھ کر اتنا حوصلہ اور ہمت ملی کہ میں یہ فیصلہ کرنے میں کامیاب ہو گئی کہ ‘اب اس انسان کے ساتھ نہیں رہوں گی۔‘

اس ڈرامے کی مصنفہ آمنہ مفتی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ ڈرامہ بہت سی خواتین کے لیے امید کی طرح ہے اور یقیناً اس کو دیکھ کر ان کے دل میں بھی امید جاگی ہوگی۔ لیکن ساتھ ساتھ جب مجھے کوئی ایسی بات بتاتا ہے تو میں سوچتی ہوں کہ امید کی کرن دینے میں تو کامیاب ہو گئی لیکن اس کے بعد کیا،ہمارا معاشرہ اور لوگ تو وہی ہیں۔

آمنہ مفتی کہتی ہیں کہ ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ ہم اسی معاشرے میں رہتے ہیں جہاں نور اور اس جیسی کئی خواتین ناحق قتل ہوگئیں اور زینب اور اس جیسے معصوم بچے درندوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔

’تو اس چیز سے مجھے بہت زیادہ خوف آتا ہے۔ لیکن میں بھی ناامید نہیں ہوں۔ آج نہیں تو کئی سالوں بعد ایسے ڈراموں کا اثر ہمیں ضرور نظر آئے گا اور یہی میں نے اس ڈرامے میں دکھانے کی کوشش کی ہے۔‘

‘ایک ڈرامہ اور کئی کہانیاں’

پاکستان کے نجی انٹرٹینمنٹ چینل ٹی وی ون پر چلنے والا ڈرامہ سیریل ‘دل نا امید تو نہیں’ جب نشر کیا گیا تو اسے ناظرین کی جانب سے خاصی پذیرائی ملی۔

مگر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( پیمرا) نے اس ڈرامے پر چند اعتراضات اٹھاتے ہوئے ٹی وی ون کو ہدایات جاری کی ہے کہ وہ پانچ دن کے اندر اندر اس میں موجود مواد کو پیمرا کے ضابطہ اخلاق سے ہم آہنگ کرے۔

پیمرا کے مطابق اس ڈرامے میں معاشرے کی حقیقی تصویر پیش نہیں کی گئی ہے۔

https://twitter.com/reportpemra/status/1364189475505602562?s=20

ڈرامے میں ہیومن ٹریفکنگ، جسم فروشی اور بچوں کے جنسی استحصال پر بات کی گئی ہے جبکہ ڈرامے کی مرکزی کردار (سمبل) ادا کرنے والی یمنیٰ زیدی نے ایک جسم فروش لڑکی کا کردار ادا کیا ہے۔

یمنیٰ زیدی کے کردار کی مناسبت سے انھیں پارٹیز میں شامل دکھایا گیا ہے جسے خاص طور پر ‘غیر اخلاقی مواد’ قرار دیا گیا ہے۔ اس ڈرامے میں سمبل کے علاوہ بھی کئی اہم کرادر موجود ہیں اور معاشرتی مسائل پر مبنی دو سے تین کہانیاں ایک ساتھ چلتی ہوئی دیکھائی گئی ہیں۔

اس ڈرامے میں پاکستانی معاشرے میں پائے جانے والے گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد اور اُن کی سرپرستی کرنے والے طاقتور لوگوں اور ان کی کام کرنے کی طریقہ کار کی بھی عکاسی کی گئی ہے۔

ڈرامے کی کہانی کے مطابق سمبل ایک ایسی لڑکی ہے جسے بچپن میں اس کے والدین فروخت کر دیتے ہیں اور وہ اپنے گاؤں سے شہر کے کوٹھی خانے میں آجاتی ہے اور زندگی کے کئی سال وہاں ہی ظلم اور تکلیف میں گزار دیتی ہے۔

بہت بار وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرتی ہے لیکن پکڑی جاتی ہے۔ مگر پھر بھی وہ تھکتی نہیں ہے۔اور آخر کار وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ڈرامے ایک ایسی لڑکی (نسیم زہرہ) کا کردار بھی شامل کیا گیا ہے جو معاشرتی اور گھریلو دباؤ کے باعث اپنے خوابوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔

ڈرامے میں نسيم زہرہ کو جنون کی حد تک کرکٹ کھیلنے کا شوق ہوتا ہے لیکن اس کے والد اور محلے کے لوگ لڑکیوں کے کھیل کود کو معیوب سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے نا تو وہ کرکٹ کھیل پاتی ہے اور نا ہی اُسے آگے پڑھنے دیا جاتا ہے۔

بلکہ اس کی شادي ایک ایسے شخص سے طے کردی جاتی ہے جو اُس سے عمر میں کئی سال بڑا ہوتا ہے اور بچپن سے ہی اس پر گندی نظر رکھے ہوئے ہوتا ہے۔

اتنی ناامیدی کے عالم میں بھی نسیم ہار نہیں مانتی اور اس سوچ سے اُس کا مقابلہ کرتی ہے کہ ‘بے حیائی میرے جسم میں نہیں اس کی آنکھ میں ہے کیونکہ بھیڑیے کو ہمیشہ تازہ گوشت چاہیے ہوتا ہے’ اور اپنی منزل حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

(جمی) ایک ایسا یتیم لڑکا ہے جیسے پڑھائی کا شوق تو ہوتا ہے لیکن اس کی ماں کے مالی حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ ’کرپٹ تعلیمی نظام اور اس سے جڑے ناجائز اخراجات‘ کا بوجھ اُٹھا سکے۔

تاہم وہ سکول اور ماں دونوں کی مار سے فرار حاصل کرنے کے لیے گاؤں کے کچھ نوجوان لڑکوں کے ساتھ شہر چلا جاتا ہے جہاں ایسے گروہ کے ہاتھ لگ جاتا ہے جو بچوں سے بھیک منگواتے اور اُن سے چوریاں کرواتے ہیں۔

‘یہ ڈرامہ کوئی بڑا انٹرٹینمنٹ چینل لینے کو تیار نہیں تھا’

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈرامے کی مصنفہ آمنہ مفتی کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں انٹرٹینمنٹ میں زیادہ تر لوگ ایسے ڈرامے نا تو دیکھنا پسند کرتے ہیں اور نا ہی بنانا اور دکھانا چاہتے ہیں۔

’مجھے اس ڈرامے کو لکھتے ہوئے ایک ہی مسئلہ درپیش آیا کہ اتنا عرصہ لکھنے کے بعد بھی میں آج بھی وہیں کھڑی ہوں جہاں پہلے دن کھڑی تھی۔ وہی مسائل اور وہی ذہنیت۔ جب بھی آپ ایسے موضوعات پر بات کرتے ہیں یا کچھ لکھتے ہیں تو یہ سننے کو ملتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی غیر ملکی ایجنڈا ہے یا پھر پاکستان کو تو این جی اوز چلا رہے ہیں۔ ‘

آمنہ کہتی ہیں کہ یہ ڈرامہ کشف فاونڈیشن کے ساتھ مل کر بنایا گیا ہے۔

’یہ دل نا امید تو نہیں‘ کی سٹوری کشف فاونڈیشن کی تحقیق کے بعد ہی میں نے لکھی۔ اس ڈرامے میں دیکھائے گئے مسائل اسی تحقیق سے لیے گئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ان مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

آمنہ مفتی بتاتی ہیں کہ جب اس ڈرامے کو لے کر بڑے بڑے چینلز کے پاس گئے تو انھوں نے کہا کہ ویسے تو سٹوری ٹھیک ہے لیکن اس میں تھوڑا سا گلیمر شامل کر دیں۔

’میں اس کے لیے ہرگز تیار نہیں تھی کیونکہ ایسے موضوعات میں اگر گلیمر آجائے تو اس کے اثرات لوگوں تک ویسے نہیں پہنچتے جیسے پہنچنے چاہیے۔ اسی وجہ سے ہم اس ڈرامے کو ٹی وی ون پر لے کر آگئے۔ اس کے بعد جب یہ ڈرامہ چلا تو پیمرا کا نوٹس آگیا کہ آپ وہ دیکھا رہے ہیں جو ہمارے معاشرے کا حصہ نہیں ہے۔ تاہم میں نے کبھی ان باتوں پر غور نہیں کیا کیونکہ میں جانتی ہوں کہ ہمارے معاشرے میں یہ سب کچھ ہوتا ہے جو اس ڈرامے میں دیکھایا گیا ہے۔ مجھے لوگ کہتے تھے کہ آپ کو پتا ہے کہ آپ کا ڈرامہ فحاشی کی وجہ سے بند ہوگیا اور میں مسکرا کے کہتی تھی کہ کون سی فحاشی۔‘

یہ بھی پڑھیے

کیا پاکستانی ٹی وی ڈرامہ فحش اور غیراخلاقی ہو گیا ہے؟

پیمرا ’ہم جنس پرستی‘ پر معترض، ’ہم‘ ٹی وی کو نوٹس

گالا بسکٹ اشتہار پر بحث: ’کیا معاشرے کو ہنستی، مسکراتی، گاتی، جھومتی خواتین سے نفرت ہے؟‘

دل ناامید تو نہیں، پیمرا، یمنیٰ زیدی

BBC

ڈرامے کی مرکزی اداکارہ یمنیٰ زیدی نے صحافی براق شبیر سے بی بی سی کے لیے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دل نا امید تو نہیں صرف اُن کی کہانی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ دو اور ٹریکس ہیں جو بہت ہی ضروری ہیں۔

‘پہلے بھی گذشتہ کچھ برسوں میں میرے پراجیکٹس پر نوٹسز (آ چکے ہیں) اور میں کبھی اس پر کوئی بیان جاری نہیں کرتی۔ لیکن دل نا امید تو نہیں بڑا خاص پراجیکٹ ہے اور جن پہلوؤں پر بات کی گئی ہے وہ بہت اہم ہیں۔ ان پر ہمیں بات کرنی چاہیے، ان پر ہمیں سوچنا چاہیے۔‘

‘پیمرا کے نوٹس کے حوالے سے وہ کہتی ہیں کہ جن مسائل پر ڈرامے میں بات کی گئی ہے، وہ ہمارے دیہات، سرکاری سکولوں اور گلی محلوں میں عام ہیں۔ اور جو لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں ان کے بھی خاندان ہیں، بچے ہیں، ہزار قسم کے مسئلے مسائل ہوتے ہیں، آپ اسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟

یمنیٰ کہتی ہیں کہ ہم صرف ساس بہو کے ڈرامے نہیں بنا سکتے، ہم رومانوی بھی بناتے ہیں، تو جب بہت ساری چیزوں کو جگہ دی جاتی ہے تو اسے بھی تھوڑی سے جگہ دینی چاہیے۔ ’میں نے یہ ڈرامہ ایک مقصد کے تحت کیا اور سوشل میڈیا پر ہمیں اس ڈرامے پر بہت اچھی رائے ملی۔‘

اور اگر سوشل میڈیا کا جائزہ لیں تو نظر اتا ہے کہ اس ڈرامے کی آغاز سے ہی دیکھنے والے اس کے گرویدہ ہوتے چلے گئے اور خوب داد دی۔ تاہم پہلے قسط سے لے کر آخری قسط تک لوگوں نے اسے دیکھا اور تعریف کی۔

آمنہ سرور نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ سے ٹویٹ کی کہ یہ اتنا بہترین ڈرامہ ہے کہ اسے نیٹ فلکس پر بھی ہونا چاہیے۔

جبکہ نمر کہتی ہیں کہ یہ ڈرامہ ہمارے معاشرے کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔

عربہ ظفر کہتی ہیں کہ میں حیران ہوں کہ اس ڈرامے کو اتنی اہمیت کیوں نہیں ملی جتنی ملنی چاہیے تھی۔

زينب چوہدری نے ٹویٹ کیا کہ آج کل جو ظلم عورتوں کے ساتھ ہو رہا ہے وہ اس ڈرامے کے ذریعے دیکھایا گیا ہے جسے ہمارے لوگوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words