میں نے سوات آپریشن میں کیا دیکھا؟
اپریل دو ہزار نو میں مجھے ایک سرکاری دورے پر امریکہ جانا پڑا، وہاں سے واپسی پر چند دن کے لئے میں ذاتی طور پر لندن چلا گیا۔ مئی دو ہزار نو میں واپس آ کر جونہی میں نے آفس جائن کیا۔ سوات میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن راہ راست شروع ہو گیا۔ اور لاکھوں کی تعداد میں بچے بوڑھے خواتین اور جوان سوات سے نکل کر صوبے کے مختلف علاقوں میں رہنے لگے۔ مگر ان کی اکثریت مردان، نوشہرہ، چارسدہ، صوابی اور پشاور میں رہائش پذیر ہو گئی۔
سوات کے ٹھنڈے ٹھار علاقوں سے نکلنے والے متاثرین پر صوبے کے گرم ترین علاقوں میں پندرہ مئی سے پندرہ جولائی تک گرم ترین دو مہینے کیسے گزرے۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ مجھ سمیت میڈیا کے درجنوں کارکن شدید گرمی کے باوجود دن رات جگہ جگہ کوریج میں مصروف ہوتے۔ سیاسی قیادت کی پرخلوص کاوشوں اور فوج کی کامیاب حکمت عملی سے صرف دو مہینے میں حالات اس قابل ہوئے کہ سوات متاثرین کو واپسی کا سگنل مل گیا اور تیرہ جو لائی سے بتدریج ان کی واپسی شروع ہونی تھی۔
میں اپنے ٹی وی چینل کے ڈی ایس این جی اور کیمرہ ٹیم کے ساتھ ایک دن پہلے سوات روانہ ہوا، تاکہ وہاں کی لمحہ بہ لمحہ صورتحال ناظرین تک پہنچا سکوں۔ یاد رہے کہ ہم نے کھانے پینے کی خشک اشیا دالیں، لوبیا، بسکٹ، مونگ پھلی وغیرہ پشاور سے اپنے ساتھ لے لی تھی کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ مینگورہ میں نہ کوئی ہوٹل آباد ہے نہ بازار کھلا ہے۔ جب ہم مالاکنڈ ٹاپ پہنچے تو سیکیورٹی اہلکاروں نے بتایا کہ قلعے میں جاکر فوجی افسر سے اجازت نامہ حاصل کریں۔
جب ہم قلعے کے اندر جا رہے تھے تو الجزیرہ کی ٹیم اجازت نامہ لے کر واپس نکل گئی اور ہم سے پہلے سوات روانہ ہوئی۔ ایک آدھ گھنٹہ اجازت ملنے میں صرف ہوا لیکن جونہی ہم مالاکنڈ ٹاپ سے سوات روانہ ہوئے تو الجزیرہ کی ٹیم کو واپس جاتے ہوئے دیکھا۔ روک کر پوچھا کیا ہوا بھائی۔ جواب دیا، "اگر اجازت نامہ کے باوجود علاقے میں کرفیو کی وجہ سے ناکے پر موجود سیکیورٹی اہلکار نے ہم پر بندوق تانی، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگی کی کوئی گارنٹی نہیں، اس لئے جب میں نے ادارے کو صورتحال بتائی تو انھوں نے آگے جانے سے منع کر کے واپس بلا لیا”۔
خطرناک صورتحال کی نشاندہی کا یہ پہلا جھٹکا تھا۔ لیکن ہم نے اللہ کا نام لیا اور آگے روانہ ہوئے۔ جگہ جگہ ناکوں اور پوچھ گچھ کی وجہ سے چکدرہ پہنچنے تک شام ہو گئی۔ ہم نے وہاں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ سڑک کنارے ایک ویران گیسٹ ہاؤس میں گئے تو چوکیدار نے بتایا کہ بچو، مجھے آپ لوگوں کے ٹھہرنے پر کوئی اعتراض نہیں مگر نہ بجلی ہے نہ کھانے پینے کا کوئی بندوبست، میں آپ لوگوں کو خالی کمرے اور دریا کا پانی ہی پیش کر سکتا ہوں۔
ہم نے ان کی پیشکش شکریے کے ساتھ قبول کرلی، کیونکہ اس سے بہتر جگہ کی کوئی امید نہیں تھی۔ چینل ہیڈ آفس سے کال پہ کال آ رہی تھی کہ آپ کو نو بجے کے بلیٹن میں لائیو لینا ہے آپ نے واپسی کی تیاریوں کے بارے میں بتانا ہے۔ عمر رسیدہ چوکیدار منتیں کرتا رہا کہ رات کے نو بجے اس ویرانے میں سڑک پر ڈی ایس این جی اور کیمرہ مت لگاو، کیونکہ کرفیو ہے اگر فوجی گاڑی آ گئی تو وہ یہ نہیں دیکھے گی، کہ سڑک پر کون کھڑا ہے وہ دور سے فائرنگ کرے گی۔ کیونکہ یہی ان کا معمول ہے۔ لیکن چونکہ ہم اسی مقصد کے لئے آئے تھے تو مجبوراً خطرہ مول لے کر کیمرہ لگایا اور بلیٹن کی ابتدا میں پندرہ منٹ تک صورتحال پر روشنی ڈالی۔ نماز پڑھی، ڈنر کی جگہ جوس اور خشک بسکٹ سے کام چلایا اور خالی فرش پر میٹرس بچھا کر سو گئے۔
ہمیں یہ معلوم تھا کہ مینگورہ سوات میں رہائش کا کوئی بندوبست نہیں تمام ہوٹل ویران پڑے ہیں۔ ہمارا ایک ادبی اور سماجی کارکن دوست عثمان اولس یار بھی باقی متاثرین کی طرح بے گھر ہو کر مالاکنڈ میں رہائش پذیر تھا رابطہ کرنے پر انھوں نے کہا کہ اگر ہم انہیں ساتھ لے جا سکتے ہیں تو وہ ہمیں اپنے ہاں ٹھہرانے کا بندوبست کرے گا۔ چونکہ ابھی عام متاثرین کو اپنے طور پر واپس جانے کی اجازت نہ تھی مگر ہم نے انہیں اپنے بال بچوں سمیت اپنی میڈیا کی گاڑی میں بٹھایا اور چکدرہ سے آگے سوات روانہ ہو گئے۔
تھانہ کے قریب فوجی کانوائے میں شامل ہو گئے۔ فوجی جوان سڑک کے کنارے بارودی سرنگوں کو ڈھونڈتے کچھوے کی چال چلتے رہے۔ تھانہ چوک میں ایک نامعلوم شخص کی لاش کو لٹانے کی بجائے ٹیک لگا کر بٹھایا گیا تھا تاکہ سڑک پر جانے والوں کو نظر آ سکے۔ لنڈا کی چیک پوسٹ کے قریب واپس آنے والے متاثرین کو خوش آمدید کہنے کے لئے اس وقت کے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین اور وزیر بلدیات بشیر بلور (شہید) پہنچ گئے انھوں نے اولین قافلے کو خوش آمدید کہا اور ان کی قربانی کو سراہتے ہوئے انہیں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ قافلے کے ساتھ شام کے قریب مینگورہ پہنچ گئے۔ سیدو شریف کے نزدیک عثمان اولس یار کے حجرے کو ہم نے اپنا ٹھکانہ بنایا۔ صبح سویرے کوریج کے لئے نکلتے اور رات گئے آرام کے لئے واپس پہنچ جاتے۔ ان کی پر خلوص مہمان نوازی اور ان کے بیوی بچوں کی ہفتہ بھر مشقت کو زندگی بھر یاد رکھیں گے۔
ہفتہ بھر کی کوریج میں ہم ویران دکانیں ہوٹلز، سکول ہسپتال اور تھانوں کی تباہی کور کرتے رہے۔ متاثرین کے قافلوں کی آمد ان کی امیدیں ان کی اداسیاں کیمرے کی آنکھ سے دنیا کو دکھاتے رہے۔ سیاسی قیادت ضلعی انتظامیہ اور فوجی افسران کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ ایک دن صبح سویرے ہمیں سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ان کے ساتھ تحصیل کبل جانے کی پیشکش ہوئی۔ ہم بخوشی ان کے ساتھ روانہ ہوئے۔ کبل پہنچے تو ایک سرکاری عمارت کے احاطے میں ہمیں لے جایا گیا۔
کیا دیکھتے ہیں کہ گولیوں سے چھلنی نو دہشت گردوں کی لاشیں زمین پر پڑی ہیں۔ جس پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ اسی علاقے میں رات کو آپریشن کے دوران مارے گئے ہیں۔ ہمیں فوجی سیکیورٹی میں شموزو کے پہاڑوں میں لے جایا گیا۔ جہاں ہمیں ایک بہت بڑا غار دکھایا گیا جس میں تھوڑا سا گولہ بارود اور ایف ایم ریڈیو کا کچھ سامان ابھی تک پڑا تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ سوات طالبان کے امیر ملا فضل اللہ کا آخری ٹھکانہ تھا یہاں سے وہ ریڈیو نشریات بھی کرتا تھا اور اپنے ساتھیوں کو ہدایات بھی دیتا تھا۔
چند دن پہلے وہ بمباری میں زخمی ہو کر فرار ہو گیا تھا۔ ابھی ہم واپس مینگورہ نہیں پہنچے تھے کہ ہمیں سیدو شریف ہسپتال میں مزید لاشیں لائے جانے کی اطلاع ملی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان مقامی طالبان کی لاشوں کو دکھا کر سیکیورٹی ادارے عوام کے خوف کو دور کرنا اور ان کے اعتماد کو بحال کرنا چاہتے تھے۔ جو اس وقت کی مناسبت سے نسبتاً ضروری تھا۔
اگرچہ سبزی اور سودا سلف کی چند ایک دکانیں کھلنا شروع ہو گئی تھیں مگر زیادہ تر ہمیں خالی آلو یا سادہ چاول پر گزارہ کرنا پڑتا تھا اور اس کے حصول کے لئے بھی ہمیں کبھی سیدو شریف اور کبھی مینگورہ میں دکانوں کو ٹٹولنا پڑتا تھا۔ پورے مینگورہ شہر میں صرف ایک پیٹرول پمپ کھلا تھا۔ جس پر بہت زیادہ رش ہوتا تھا۔ ایک دن ہمیں کسی نے بتایا کہ فضا گٹ کے قریب ایک اور پمپ پر بھی پیٹرول دستیاب ہے۔ میں نے اپنی ٹیم سے کہا چلو تھوڑی سی آؤٹنگ بھی ہو جائے گی۔
اور وہاں سے گاڑی میں پیٹرول بھی ڈالیں گے۔ عصر کے وقت ہم مینگورہ سے فضا گٹ کی طرف نکلے تو بالکل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سڑک پر تو درکنار، آس پاس بھی کوئی انسان نظر نہیں آ رہا تھا۔ ابھی ہم فضا گٹ سے چند سو گز کے فاصلے پر تھے کہ ہم نے سیٹیوں کی آوازیں سنی۔ گاڑی روک کر ادھر ادھر دیکھا تو دائیں طرف زمرد کی کان والے پہاڑی کے اوپر سے ایک فوجی جوان ہمیں ہاتھ کے اشارے سے واپس جانے کو کہہ رہا تھا۔ چونکہ وہ دور تھا، ہم ایک دوسرے کی آواز نہیں سن سکتے تھے، ہم نے اشاروں سے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم پیٹرول ڈھونڈ رہے ہیں، پھر واپس جاتے ہیں۔
لیکن جونہی ہم گاڑی میں بیٹھے اور آگے روانہ ہوئے۔ انھوں نے فائر کھول دیا۔ ڈرائیور نے تیزی سے گاڑی واپس موڑ دی، اور ہم دل ہی دل میں ان پر لعن طعن کرتے ہوئے واپس مینگورہ پہنچ گئے۔ دو ہزار نو کے بعد جب جب میں سوات جاتا ہوں، چہل پہل رش ترقی اور شہر کی توسیع دیکھتا ہوں، انیس سو نوے کا پرامن اور پرسکون مینگورہ جب میں یہاں زیر تعلیم تھا اور دو ہزار نو میں تباہ شدہ قبرستان کی طرح مہیب خاموشی تلے چھپا ہوا مینگورہ میری نظروں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ مجھے قبائلی عوام کی طرح اہل سوات کی بے بسی اور صبر یاد آتے ہیں اور میرے دل سے بے ساختہ دعا نکلتی ہے کہ اے اللہ جس طرح آپ نے اہل سوات کی دعائیں سنی اور انہیں چند مہینے کے اندر اندر مشکلات سے نجات دلا دی۔ قبائلی عوام کو بھی امن سکون اور ترقی کی زندگی نصیب فرما۔






