ہم جس دیس کے باسی ہیں

آج فون پر بیٹے سے بات کر رہی تھی، تو پاکستان کے حالات حاضرہ پر بات ہونے لگی، بیٹے نے بات کرتے کرتے اچانک کہا، اماں پاکستان کی ہر روز دل دہلانے والی خبروں کے مطابق میرا خیال ہے کہ اس ملک میں کوئی عورت محفوظ نہیں، ہم اپنے بچپن سے اس طرح کی خبریں پڑھ رہے ہیں اور سن رہے ہیں لیکن آج تک ان میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ ہی ہوا ہے۔ اس قدر لاقانونیت ہے کہ ہر کوئی بے بس دکھائی دیتا ہے۔ وہ مجھے کہہ رہا تھا، میں تو حیران ہوں آپ نے اتنا عرصہ اس طرح کے معاشرے میں ملازمت کیسے کر لی۔ میرے پاس اس کو مطمئن کرنے کے لئے کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔
اب میں اس کو کیا بتاتی، کہ ہم بھی بچپن سے یہ ہی سب کچھ پڑھتے اور سنتے آ رہے ہیں، زمانے بیت گئے وقت پر لگا کر اڑ گیا، لیکن کچھ نہیں بدلا، ہاں یہ ضرور تبدیلی آئی کہ پہلے جو واقعات کبھی کبھار ہوتے تھے اب وہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔ مجھے یاد ہے، گاؤں میں ہمارے گھر کے پاس ہی ایک عیسائی میاں بیوی رہتے تھے، جن کا گھر ہمارے گھر کی چھت سے صاف نظر آتا تھا، ہر روز صبح سویرے ان کی شدید لڑائی ہوتی تھی، عورت زور و شور سے گالیاں بکتی اور شوہر مکوں، گھونسوں اور جوتوں کی بارش کرتا جاتا، یہ روانہ کا معمول تھا شاید ہی کوئی خوش قسمت دن ہو جب اس عورت نے مار نہ کھائی ہو، ہم سارا دن آزردہ رہتے، لیکن ہم حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تب ہوتے جب شام کو وہ لڑکی ہنس ہنس کے اپنے شوہر کے ساتھ ایک چارپائی پر بیٹھ کے کھانا کھا رہی ہوتی، اور ہر سال ایک بچہ جنتی اور خوشی سے پھولے نہ سماتی۔
اور ہم سوچتے رہ جاتے یہ عورت کس خمیر سے بنی ہے آخر ایسے منحوس آدمی کو چھوڑ کیوں نہیں دیتی، اس کے ماں باپ کیسے برداشت کرتے ہیں کہ وہ درندہ صفت انسان ان کی بیٹی کو وحشیوں کی طرح پیٹے، اور اس کے باوجود وہ اس کے بچے پیدا کرے اور اس کے گھر کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اسی کو اپنا مجازی خدا کا درجہ دے۔ آخر کیوں وہ اسی کے ساتھ رہنے پہ مجبور ہے۔ اور یہ کیوں آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ شعور و آگہی کی منازل طے کرتے کرتے پتہ چلا، اس طرح کی بے شمار کہانیاں ہمارے چاروں طرف بکھری پڑی ہیں۔ افسانوں، ناولوں، ڈراموں میں یہ سب ہی تو دکھایا جاتا تھا۔ ہر اخبارات میں بھی ایسی ہی دل دہلا دینے والی خبریں ہوتیں۔
ہم جس دیس کے باسی ہیں وہاں مرد کی مردانگی کو چیلنج کرنے والی عورت اس پدر سری معاشرے کے لیے کلنک کا ٹیکہ ہے۔ یہ مرد کی کسی رذیل خواہش کو ماننے سے انکار کرے تو اس پر تیزاب پھینک دو، قتل کر دو، گلا کاٹ دو، طلاق دے دو، آخر ایک مجبور بے بس، مذہب کی زنجیروں میں جکڑی ایک عورت ہی تو ہے۔ بیٹی اگر پسند کی شادی کرنا چاہے تو اس کو رات کے اندھیرے میں مار ڈالو، جائیداد ہتھیانے کے لئے نہر میں دھکا دے دو، یہ سب اس لیے ہے کہ یہاں قانون کی کوئی پاسداری نہیں ہے، یہاں قانون کے ہاتھوں ستائے ہوئے لوگ اپنے دکھ درد پر رو دھو کے خود ہی صبر کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔
اپنی بیٹیوں کی ریپ زدہ کٹی پھٹی لاشوں کو دفنا کر، اپنی آہوں اور سسکیوں کو دبا کر قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ اور جو اثر و رسوخ رکھتے ہیں وہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنی قسمت خود لکھ لیتے ہیں۔ اس دیس میں مظلوم، بے بس اور مجبور چھپ کر بیٹھنے پر مجبور ہیں، کیونکہ ان کی کوئی شنوائی نہیں، اور قاتل اور مجرم دندناتے پھرتے ہیں کیونکہ قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ہمارے معاشرے میں ہر طرف پردہ دار خواتین اور باریش مرد تو نظر آتے ہیں لیکن نہ کوئی بچہ محفوظ ہے اور نہ کسی عورت کی عزت محفوظ ہے۔ مذہب کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی بجائے اخلاقیات میں بہتری نہ آئی تو آئے دن ایسے ہی دلخراش واقعات ہوتے رہیں گے۔
کاش اس ملک میں ایک ڈپلومیٹ کی طرح کسی غریب کی بھی قانون تک رسائی ممکن ہو، کاش اس معاشرے میں بھی قانون کا نفاذ بغیر کسی تفریق کے ہو، کہ کوئی غنڈہ موالی کسی راہ چلتی لڑکی یا عورت پر آوازہ کسنے یا چھیڑنے سے پہلے ہزار دفعہ سوچے کہ قانون کی گرفت میں آ گیا تو رشتہ داری کام نہیں آئے گی۔ سزا سے بچ نہیں سکے گا، کسی بھی مجبور بیوہ عورت کو بیوگی کی چادر اوڑھے گھر سے باہر نکلتے ہوئے یہ نہ سوچنا پڑے لوگ کیا کہیں گے۔ ہر ایک کی عزت نفس محفوظ ہو، اور یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے جب قانون کی سختی سے عملداری ہو گی، قانون کا شکنجہ ہر کس و ناکس کے لیے سخت ہو گا۔ کاش ایسا ہو جائے، جو کہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
دیکھا جائے تو مرد ہر قدم پہ عورت کا مرہون منت ہے، ایک عورت کے پیٹ سے جنم لے کر، ایک عورت کی انگلی پکڑ کر اپنے قدموں پر چلنا سیکھتا ہے، ایک عورت سے ہی اپنی نسل چلاتا ہے، تو پھر یہ کس مردانگی کا زعم ہے، بلکہ یہ مرد کے اندر چھپا احساس کمتری کا وہ خوف ہے جو اس کو عورت کو دبانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں پر مجبور کرتا ہے۔ بے شک ہمارے معاشرے میں اچھے اور سچے مردوں کی کمی نہیں ہے، لیکن عورت کے حق میں آواز اٹھانے پر ان کو بھی مختلف القابات سے نوازا جاتا ہے، اور مذہب سے دوری کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔
پدر سری تو ہر معاشرے میں تھوڑے بہت تناسب سے موجود ہے، لیکن اس میں قانون کے سخت نفاذ کے ذریعے توازن برقرار رکھا گیا ہے، کیونکہ انسانی فطرت تو ہر جگہ ایک جیسی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی جب تک قانون کی گرفت مضبوط نہیں ہو گی، سوچ میں تبدیلی نہیں آئے گی، کبھی بھی کچھ نہیں بدلے گا۔

