نور مقدم قتل کیس: امریکی شہری ہونے کی بنا پر ملزم ظاہر جعفر کو کیا مدد مل سکتی ہے؟

سحر بلوچ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

 

zahir zakir

BBC

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو جب پولیس ڈسٹرکٹ عدالت کی طرف کھینچتی ہوئی لے جارہی تھی، تب ظاہر نے پہلی مرتبہ بات کی اور ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ ‘میں ایک امریکی شہری ہوں۔’

ان کے اس بیان کے بعد سے کئی سوالات پوچھے جا رہے ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس کی طرح ظاہر کو بھی امریکی مدد حاصل ہوگی۔

یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ نور مقدم قتل کیس اب عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ اس کیس سے متعلق بہت سی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں لیکن یہ آرٹیکل ان افواہوں کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ سمجھنے کے لیے ہے کہ پاکستان میں رہنے والے امریکی شہری اگر کسی الزام میں گرفتار ہوتے ہیں تو ان کے لیے ان کا ملک کیا قانونی اقدامات اٹھا سکتا ہے۔

اس کیس سے متعلق زیادہ تر سوالات سوشل میڈیا پر پوچھے جا رہے ہیں۔

اس کیس سے متعلق پاکستان کے ڈان اخبار میں ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ 26 جولائی کو امریکی سفارتخانے کے چند افسران نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر سے ملاقات کرچکے ہیں۔ جس کے بعد امریکی شہری ہونے کی وجہ سے ملزم ظاہر جعفر کی رہائی اور انھیں استثنیٰ حاصل ہونے کی بحث نے مزید زور پکڑا ہے۔

اس کے فوراً بعد امریکی سفارتخانے ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘امریکی شہری جس ملک میں رہتے ہیں ان پر وہاں کا قانون لاگو ہوتا ہے۔ اگر کوئی امریکی شہری کہیں گرفتار ہوتا ہے تو سفارتخانہ ان سے ملاقات کر کے ان کا حال احوال پوچھ سکتا ہے اور انھیں وکلا کی سہولت بھی مہیا کی جاتی ہے۔ لیکن امریکی سفارتخانہ نہ تو قانونی مشورہ دے سکتا ہے اور نہ ہی عدالتی کارروائی میں شامل ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی مجرم کی رہائی پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔’

اس بارے میں ایڈووکیٹ اسد جمال نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ظاہر جعفر ایک عام شہری ہیں۔ انھیں کوئی سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ کیونکہ امریکہ نے اسے سفارتکار کے طور پر پاکستان نہیں بھیجا ہے۔’

انھوں نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس کا کیس بالکل مختلف تھا۔ جس میں انھیں امریکہ کی طرف سے سفارتی استثنیٰ حاصل تھی، کیونکہ وہ سفارتکار کے طور پر پاکستان آئے تھے۔ جس کو بنیاد بنا کر ان کو پاکستان سے واپس امریکہ بھیج دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں امریکی سی آئی اے کے لیے کام کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کو 27 جنوری سنہ 2011 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ لاہور میں دو افراد کو قتل کر کے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ بعدازاں مقتولین کے ورثا کو دیت کی رقم ادا کی گئی تھی اور ریمنڈ ڈیوس کو امریکہ بھجوا دیا گیا تھا۔

اسد جمال نے کہا کہ ‘جہاں تک ان امریکی شہریوں کی بات ہے جو اس وقت پاکستان میں رہتے ہیں، ان کی گرفتاری کے لیے وہ تمام قوانین لاگو ہوں گے جو پاکستان کے آئین میں ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی ملک کا شہری اگر کسی دوسرے ملک میں گرفتار ہوتا ہے تو اسے اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہوتا ہے۔’

ان کے مطابق اس کے دفاع کے لیے سفارتخانہ اسے وکلا سے متعارف کروا سکتا ہے لیکن اس کے کیس میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ اسی طرح ظاہر جعفر امریکی شہری ہونے کے فوائد بھی حاصل کر سکتے ہیں لیکن یہ فوائد انھیں وکیل پہنچانے کی حد تک محدود ہیں۔

ایک اور کیس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کی گرفتاری کے بعد پاکستان کو عالمی عدالتِ انصاف نے کونسلر رسائی پہنچانے کا کہا تھا۔ ‘ایسے مقدمات میں کسی بھی ملک کو عالمی قوانین کی پاسداری کرنی ہوتی ہے۔ اور پاکستان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دوسرے ملک میں کسی بھی جرم میں گرفتار اپنی شہریوں کے بارے میں سوال کرے اور معلوم کرے کہ ہوا کیا ہے۔ اور اگر وہ کسی غلط الزام میں پھنسے ہیں تب ان کی قانونی مدد کی جاسکتی ہے۔’

لیکن عام شہریوں کی گرفتاری اور اس کے بعد چلنے والے مقدمات میں کوئی بھی ملک مداخلت نہیں کرسکتا۔ وہ اسی ملک کے قوانین کے تحت ہوتے ہیں۔ اور ملک کے قوانین کے تحت ان کی مدد کی جاسکتی ہے۔

اسلام آباد میں موجود ایک سابق سفارتکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ‘امریکہ اس وقت ایسے کسی مقدمے میں نہیں پھنسنا چاہتا۔ خاص طور سے جب معاملات اس قدر سنگین ہوں۔ یہ پاکستان کے اندر کا معاملہ ہے۔ اور اس میں تفتیشی افسران کی پوری کوشش ہونی چاہیے کہ معاملہ ملک کے قوانین کے تحت ہی حل ہو جائے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words