پنجاب میں بیوروکریسی کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل سیاسی کارکنوں کی جانب سے ایک شکایت بہت آ رہی ہے کہ بیوروکریسی ان کی بات نہیں سنتی اور بیوروکریسی عمران خان کی تبدیلی کے پروگرام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کہتے ہیں آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔ اس شکایت یا تنقید کی تہہ میں کچھ نہ کچھ ہے جس کی وجہ سے ضلعی دفاتر میں بیٹھے بابوز ایم این اے ایم پی ایز کو پروٹوکول دیتے تو نظر آ جاتے ہیں مگر ان کی تحریک انصاف کے پروگرام سے وفاداری کہیں نظر نہیں آتی۔ شاید اوپر کی سطح پر بیٹھے بیوروکریٹس کی طرف سے ایسا پیغام بھی نیچے تک نہیں پہنچ رہا تھا جس میں ان کو موجودہ حکومت کی ترجیحات کے مطابق ایڈجسٹ ہونے کا کہا گیا ہو۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پنجاب کے سابقہ مضبوط حکمرانوں سے وابستہ افسران ہی زیادہ تر اہم سیٹوں پر متمکن رہے ہیں۔ بیوروکریسی میں عموماً ایسے افسر ان کا انجام اتنا اچھا نہیں ہوتا جو اپنی لابی بنانے اور اپنی کلاس سے واسطہ رکھنے اور اپنے باسز کی خوشنودی کی بجائے عوام اور عوامی نمائندوں کو سہولتیں دیتے رہتے ہیں اور اس زعم میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ عوام کی بھلائی کے لئے کام کر رہے ہیں بہت پاپولر ہیں۔

اور اسی لیے ان کا کلہ مضبوط ہے۔ مگر ایسے افسر ان کو اپنی کلاس کے اندر ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ طاقتور لابیوں پر مشتمل سول سروس میں ایسے انفرادی کردار کے مالک آفیسرز کے اچھے اقدامات کو بھی منفی انداز سے دیکھا جاتا ہے۔ میڈیا پر پھر ایک پروپیگنڈا شروع کروایا جاتا ہے اور دنیا جہان کی خرابیاں اس کے کھاتے میں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔

پنجاب میں پچھلے تین سال سے تحریک انصاف کی حکومت قائم ہے۔ ایک نا تجربہ کار وزیراعلی کو پاکستان کے سب سے بڑے اور اہم صوبے کا چیف ایگزیکٹو بنا نا تحریک انصاف کا ایک بہت بڑا جوا تھا۔ سب سے مشکل کام بیوروکریسی سے کام لینا تھا اس کے لئے ایک دبدبہ والے اور چالاک قسم کے منتظم کی ضرورت تھی مگر کپتان عثمان بزدار کے حق میں ڈٹ گئے شاید ایک طاقتور وزیراعلی منظور وٹو کی طرح گلے پڑ سکتا تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ تمام تر وعدوں اور سیاسی مجبوریوں کے باوجود شریف خاندان نے پنجاب کو کبھی چوہدریوں کے حوالے نہیں کیا۔ جب مشرف نے چوہدریوں کو پنجاب کی پگ دینے کا ارادہ ظاہر کیا تو چوہدری فوراً شریفوں کو چھوڑنے اور ایک ڈکٹیٹر کو سہارا دینے کے لئے تیار ہو گئے۔

یوں پنجاب کی یہ عظیم الشان پگ تونسہ شریف کے ایک شریف بلوچ سردار اور نسبتاً کمزور تمن کے مالک عثمان خان کے حصے میں آ گئی۔ تاہم بیوروکریسی کو کنٹرول کرنا ان کے لئے بہت مشکل ثابت ہو رہا تھا ان کے ارد گرد وہی افسر شاہی تھی جو کئی سالوں سے شریف خاندان کے وفادار رہے تھے۔ بات یہاں تک پہنچی کہ میٹنگز میں وزیراعلی کی باتوں کو لطیفے بنا کر لیک کیا جاتا تاکہ ان کو تمسخر کا نشانہ بنایا جا سکے۔ وزیراعلی کی نا اہلی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔

وہی افسران جو شریف فیملی کے بچوں اور خواتین کے آگے بھیگی بلی بنے رہے تھے وہ سی ایم پنجاب کے رشتہ داروں کی معمولی کاموں کے لئے سفارشوں کو بھی سیکنڈل بنانے لگے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ سی ایم کو ڈیرہ غازی خان تک محدود کرنے کا ایک جال بنا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کی بار بار حمایت کے اعادہ اور تعریف کے باوجود ایک وقت آیا کہ وزیراعظم کو اس پروپیگنڈے کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑ گئے۔ اچانک ہی ایک نئے چیف سیکریٹری کو پنجاب میں تعینات کر کے وزیراعلی ہاؤس کے تمام تر اختیارات سلب کر لیے گئے۔

وزیراعلی کے وفادار افسروں کو چن چن کر کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ ان دنوں وزیراعلی آفس ایک ویرانے کی صورت پیش کرتا تھا۔ تمام کلیدی عہدوں پر شہباز شریف کے وفادار بیوروکریٹس کو تعینات کر دیا گیا جو اب سر عام وزیراعلی کے احکامات کو نظرانداز کرتے نظر آتے اور گڈ گورننس کے نام پر عوامی نمائندوں کا بڑے سرکاری آفسز میں داخلہ بند ہو گیا۔ اسی دور میں لوگوں نے دیکھا کہ چینی اور آٹے کے سیکنڈل منظر عام پر آئے۔ پی آئی سی پر وکلا کا حملہ ہوا اور سیاسی نمائندوں کا رول ختم ہو جانے کی وجہ سے لوگوں کو ضلع اور تحصیل لیول پر اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے ذلیل ہونا پڑا۔

نوبت یہاں تک پہنچی کہ افسر شاہی کے رویے سے تنگ آئے ایم پی ایز نے فارورڈ بلاک بنا لیا۔ جب کہ اب بھی تمام تر خرابیوں کا ذمہ دار سی ایم کو گردانا جا رہا تھا۔ بالآخر وزیراعظم کو اصل گیم کی سمجھ آ گئی اور تمام اختیارات وزیر اعلی آفس کو لوٹا دیے گئے اور اس کے ساتھ وزیراعلی کو بیوروکریسی کے اندر سے اپنی ٹیم بنانے کا ٹارگٹ بھی دیا گیا۔ ان حالات میں طاہر خورشید کو سی ایم کا پرنسپل سیکریٹری تعینات کیا گیا۔ طاہر خورشید نے ممبران اسمبلی کے ساتھ وزیراعلی ہاؤس کے رابطے مضبوط بنائے بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے مابین ایک پل کا کردار ادا کیا اور ان کے آنے کے بعد وزیراعلی کو ایک وفادار مخلص اور محنتی معاون کا ساتھ مل گیا اور ان کے اوپر سے بیڈ گورنس کا لیبل بھی آہستہ آہستہ اترنے لگا۔

موجودہ بجٹ میں بھرپور ترقیاتی کام پلان کیے گئے ہیں۔ دیہاتوں میں انفراسٹرکچر کی تعمیر پر فوکس کیا گیا ہے اور پنجاب میں صحت کارڈ کے کامیاب پروگرام کے بعد غریب اکثریتی طبقہ میں حکومت کے لئے اچھا تاثر ابھرنے لگا ہے۔ صحت کارڈ پروگرام کے اصل معمار بھی طاہر خورشید تھے جو سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کے وقت سے اس پر کام کر رہے تھے۔ اس طرح وہ وزیراعظم کا اعتماد حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ لیکن بیوروکریسی کے مقتدر حلقوں میں ان کی اس کامیابی اور سیاسی باس سے وفاداری کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔

ان کے خلاف میڈیا میں مسلسل پروپیگنڈا کیا گیا اور روٹین کے پوسٹنگ ٹرانسفرز میں بھی کیڑے نکالے گئے۔ اس پروپیگنڈے کے پیچھے دراصل وہ لوگ ہیں جو ان کے عروج سے نالاں ہیں۔ اس طرح وہ لوگ بھی ہیں جو عثمان بزدار کا مذاق اڑاتے رہے ہیں اور پنجاب میں ان کو کامیاب ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔ یہ ان آفیسرز کی شکست ہے جو عثمان بزدار کو ناکام دکھا کر اپنے سابق آقاؤں کو خوش کرنا چاہتے تھے، مگر طاہر خورشید نے اپنی محنت، قابلیت اور عوامی نمائندوں کے ساتھ مل جل کر کام کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے صوبائی اور وفاقی حکمرانوں کے دلوں میں گھر کر لیا ہوا ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ مکمل کامیابی حاصل کرنے کے لئے وزیراعلی سابقہ دور کی باقیات جو ابھی بھی سازشوں میں مصروف ہیں ان کو صوبہ بدر کر دیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments