جرگائی فیصلہ (سندھی کہانی)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج دو سرداروں کی سربراہی میں گزشتہ دو سالوں سے، دو متحارب دھڑوں میں جاری خونی تصادم کا فیصلہ ہوا۔ دونوں دھڑوں میں یہ خونی تصادم دراصل کسی کی فصل میں، مویشی کے اچانک گھس آنے سے شروع ہوا تھا، جس میں اب تلک چالیس خون ہو چکے۔ ایک طرف ظالمانی ذات کے لوگ اور دوسری طرف مظلومانی ذات کے لوگ بیٹھے تھے۔ دونوں سرداروں کا تعلق بھی ان دو مختلف دھڑوں کی ذاتوں سے تھا۔ ایک کا تعلق حکومتی جماعت سے جبکہ دوسرے کا حزب اختلاف سے (لیکن یہ خود آپس میں کبھی نہیں لڑتے!) ظالمانی ذات نے، مظلومانی ذات کے 25 خون کیے جس کے بدلے میں مظلومانی ذات کے لوگوں نے 15 قتل کیے ۔ دونوں سرداروں نے آپس میں مشورہ کر کے فیصلہ سنایا کہ 15 خون تو آپس میں برابر برابر ہوئے اور باقی اضافی 10 خون کا جرمانہ 20 لاکھ روپے طے ہوا جو ظالمانی ذات کے لوگ ایک مہینے کے اندر مظلومانی ذات کو دینے کے لئے، ان کے سردار رئیس ماکوڑو خان کے پاس جمع کرائیں گے۔ اس فیصلے کے بعد دونوں دھڑے آپس میں شیر و شکر ہو گئے۔

ذات پات اور برادری کے اس قسم کے جھگڑوں کے، پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت اس طرح کے فیصلے آتے رہتے ہیں، لیکن پھر کچھ مدت کے بعد اس طرح کی خبریں اخباروں کی زینت بنتی ہیں کہ ”دونوں گروپوں میں پھر سے تصادم، پانچ خون ہو چکے، لوگ مورچہ بند“

اور یہ تاریخ سالہا سال دہرائی جاتی ہے لیکن اس ظلم کا انت نہیں آتا! عجیب بات یہ بھی ہے کہ، مخالف ذات کے سردار اپنی ذات کی خاطر آپس میں نہیں لڑتے، بلکہ ہر خوشی، غمی میں اور اسمبلی میں بھی ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ غیرت دلائی جاتی ہے تو صرف غریب برادری کو!

ایک مہینے کے بعد ، مظلومانی ذات کے چار بھلے مانس، جرمانے کی رقم، بیس لاکھ روپے لینے کے لئے وفد کی صورت میں، رئیس دولت خان کی سربراہی میں سردار ماکوڑو کی طرف چل دیے۔ سردار کا بنگلہ پانچ چھ ایکڑ میں پھیلا ہوا تھا جس میں اپر، درمیانے اور نچلے طبقے کے لوگوں کے لئے الگ کمرے اور برآمدے تھے۔ ایک وسیع و عریض صحن تھا جس کے ایک تہائی حصے میں مختلف درخت، سبزہ اور پھول لگے ہوئے تھے۔ مہمانوں کی خوش آمد اور خدمت کے لئے کئی نوکر متعین تھے، جو مہمانوں کی سماجی اور معاشی حیثیت کے حساب سے ان کو ٹریٹ کرتے تھے۔ جب یہ چاروں بندے سردار صاحب کے بنگلے پر پہنچے تو موسم کے لحاظ سے ان کو نیم کے درخت کے نیچے رکھی ہوئی، لکڑی کی عام کرسیوں پہ بٹھایا گیا۔ ایک نوکر جلدی سے ٹرے میں رکھے ہوئے شیشے کے گلاسوں میں، ان کے لئے پینے کا پانی لے آیا۔

نوکر نے انہیں بتایا کہ ”آپ کی آمد کی اطلاع سردار صاحب کو دی گئی ہے، لیکن سردار صاحب دو تین گھنٹوں کے بعد آپ سے مل پائیں گے کیونکہ ان سے ملنے والے لوگوں کا بہت رش لگا ہوا ہے“

تھوڑی دیر بعد ان لوگوں کو چائے بھی پلائی گئی۔ ان لوگوں نے سارا وقت آپس میں گفتگو کرتے، سگریٹ پیتے اور کرسیوں پہ اپنی پوزیشن بدلنے میں گزارا۔ تقریباً تین گھنٹے بعد ، ان لوگوں کو سردار ماکوڑو خان سے ملنے کے لئے کہا گیا۔ چاروں بھلے مانس ایک دم کرسیوں سے اٹھے، اپنے کپڑوں کی پوزیشن ٹھیک کی، کپڑے کے بنے روایتی تولیے کندھے پہ رکھ کر نوکر کے پیچھے چل دیے۔

110 کلو کا وزنی سردار ماکوڑو خان، کاٹن کی ڈریس میں، سندھی ٹوپی پہنے، ایک بڑے ہال میں، ایک بڑے صوفے میں پھنسا ہوا بیٹھا تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ میں 33 دانوں کی ایک چھوٹی سی تسبیح خود بخود گھومے جا رہی تھی۔ جب یہ لوگ ہال میں داخل ہوئے تو وہ اپنی جگہ سے ذرا بھی ٹس سے مس نہ ہوا۔ چاروں بندے باری باری سردار کے پیروں میں سجدے کی حالت میں لیٹتے گئے۔

سردار نے ان سے اپنی چار بے جان اور ٹھنڈی انگلیاں ملائیں اور سامنے والے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ چاروں بندے الٹے پاؤں تھوڑا پیچھے ہٹے اور بغیر ٹیک دیے صوفے پہ اپنا دم تھامے، بیٹھ گئے۔

”دیو خبر چار، پھر کوئی گڑ بڑ ہوئی کیا؟“ سردار ماکوڑو خان نے خاموشی توڑتے ہوئے پوچھا۔
”نہیں سائیں، ایسی کوئی بات نہیں“ بھلے مانس دولت خان نے بڑے ادب سے جواب دیا۔
”کوئی گڑبڑ ہو تو مجھے ضرور بتانا“ سردار نے انہیں ہدایت کی۔

”حاضر سائیں، آپ کے علاوہ ہمارا کون ہے“ دولت خان نے فرمانبرداری کے انداز میں ہاتھ باند کر اسے یقین دلایا۔

”تو پھر بھی، کیسے آنا ہوا؟“ سردار نے دولت خان کو کریدنے کی کوشش کی۔

”رئیس ماکوڑا خان، ہم آپ کے کیے ہوئے فیصلے پہ آپ کو سلام پیش کرنے آئے ہیں، بس“ دولت خان نے بڑی عاجزی سے جواب دیا۔

”وہ تو ٹھیک ہے، پر۔ پھر بھی کوئی کام، بابا؟“ سردار ماکوڑو خان کو کچھ تجسس سا ہوا۔
”سرکار، اگر دل میں برا محسوس نہ ہو تو عرض کروں؟ دولت خان نے دل تھام کے آخر پوچھ ہی لیا۔

”ہاں ہاں، بابا۔ تم لوگ جس کام کے لئے آئے ہو، اس کو بتانے میں کون سا تکلف؟ بولو بولو“ کوڑو خان نے تجسس کو کم کرنا چاہا۔

”سائیں، آپ کا سر سلامت، آپ کو تو خیر یاد ہوگا کہ۔ اس فیصلے کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ فیصلے کے مطابق، بیس لاکھ روپے۔ آپ کو ہم مظلومانی ذات کو دینے تھے“ دولت خان نے بڑی ہچکچاہٹ کے ساتھ یہ جملے ادا کیے ۔

”اچھا!“ ماکوڑو خان ایک دم چونک گیا اور صوفے پہ اپنی پوزیشن تبدیل کرتے بولا،

”اس کا مطلب ہے کہ تم لوگ پیسے لینے آئے ہو؟ ہوں۔ بابا، پہلے مجھے یہ تو بتاؤ کہ تم لوگ کس حساب سے مظلوم ہو، کتنے خون کیے تھے آپ لوگوں نے، دولت خان؟“ ماکوڑو خان نے حساب کتاب یاد دلایا۔

”سائیں پندرہ“ دولت خان نے جیسے زبانی حساب کا صحیح جواب دیا۔

”تو پھر تم لوگ مظلوم کیسے ہوئے؟ کتے، کمینے۔ بھڑ۔ جو کسی کا ایک بھی خون کرتا ہے وہ بھی ظالم ہے۔ سمجھے؟ سردار اب غصے میں آ گیا اور گالیاں بکنے لگا۔ ماحول ایک دم گمبھیر ہو گیا۔ چاروں بندے سٹپٹا گئے کہ آج ہم ظالم بھی ٹھہرے!

”لیکن جناب۔ ہمارے بھی تو 25 خون ہوئے“ دولت خان نے جیسے مزید 10 خونوں کا حساب یاد دلایا۔
”ارے، پھر مظلوم تو میں ہوا جس کے 25 ووٹ کم ہو گئے“ سردار ماکوڑو خان نے اور مضبوط دلیل دیا۔
”لیکن جناب۔ پاندھی خان نامی 30 سالہ میٹرک پاس بندے نے حجت کی“ ووٹ تو ہم سب لوگ آپ کو ہی دیتے ہیں ”

سردار ماکوڑو خان آگ بگولہ ہو گیا اور اپنے سیدھے ہاتھ کا پورا پنجہ کھول کر ایک مضبوط بجہ دیتے ہوئے بولا،

”تمہارے ووٹ پہ میں تھوکتا بھی نہیں، تیری تو۔ سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو! تیری ماں ولائی کو بھی جانتا ہوں، میرے پاس امداد لینے آتی تھی“

پاندھی خان ایک دم سردار کے پیروں میں گر کر گڑگڑانے لگا،
”سائیں معاف کردو، غلطی ہو گئی“
سردار نے ایک ٹھوکر مار کر اس کو اپنے پیروں سے دور کیا لیکن وہ وہیں زمین پہ بیٹھا رہا۔

”سرکار، پاندھی خان سے بچپنہ ہو گیا، میں آپ سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں“ دولت خان صوفے سے اٹھ کر ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوا اور بگڑتی ہوئی صورتحال کو کور کرنے لگا۔

سردار صاحب کچھ ٹھنڈا ہوا اور بولا،

”مجھے تم لوگوں کے ووٹ کی پرواہ نہیں، میں ہمیشہ حکومتی پارٹی میں رہتا ہوں اور وہی مجھے الیکشن جتواتی ہے۔ تم لوگوں کو یہ“ ووٹ۔ ووٹ ”کا بھوت پتا نہیں کس الو کے پٹھے نے دماغ میں ڈالا ہے!“ ماکوڑو خان نے بڑی بے پرواہی اور غصے سے کہا۔

”بیشک سائیں، ہمارے ووٹ کی حیثیت ہی کیا ہے، اللہ نے آپ کو عزت بخشی ہے“ دولت خان نے سردار کے الفاظ کی تائید کرتے ہوئے اسے مزید ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔

” ارے جاہلوں کی اولاد، پہلے مجھے یہ تو بتاؤ کہ کیا یہ جرگے قانونی ہیں یا غیر قانونی؟“ ماکوڑو خان نے سب سے سوال کیا۔

”حکومت کی نظر میں تو غیر قانونی ہیں“ دولت خان نے عقل دوڑائی۔

”حکومت کی نظر میں نہیں، جاہل کہیں کے، حکومت میں تو ہم بیٹھے ہیں، تب ہی تو جرگے چل رہے ہیں۔ عدالت کی نظر میں، یہ غیر قانونی ہیں۔ اس کی سزا ہے، جرمانہ ہے۔ میں سزا کا، جرمانے کا اور جیل جانے کا خطرہ مول لوں اور پیسے تم کو دے دوں؟ ہوں۔“ سردار کا موڈ ایک دفعہ پھر خراب ہو چکا۔

ماحول میں خاموشی چھا گئی بھلے مانس کی عقل جواب دے چکی کیونکہ ان کو اپنی رقم ڈوبتی ہوئی محسوس ہوئی۔ سب سوچ میں پڑ گئے کہ اب کیا کرنا چاہیے، پاندھی خان کی غلط حرکت نے ماکوڑو خان کو ناراض کر کے بنا بنایا کام بگاڑ دیا۔ آخر کار دولت خان نے دل تھام کے اپنے ہونٹوں کو جنبش دی۔

” لیکن سرکار، 25 خاندان برباد ہوئے ہیں۔ ان کے بیوی بچوں کا کیا ہوگا؟

” کیا ہوگا، مجھ سے پوچھتے ہو! شرم نہیں آتی؟ ارے دولت خان، آپ کے گاؤں کے سب لوگ نامرد ہو چکے یا خسرے ہیں کیا؟ تم لوگ اب گھر میں بیٹھ کر تالیاں بجاؤ۔ ارے، صرف 25 مرد ان بدبخت بیوہ عورتوں سے شادی کر لیں تو پھر کیا مسئلہ باقی رہ جاتا ہے؟ مجھے بھی بتاؤ پتہ تو چلے؟“ سردار نے سب کو نامردی کا طعنہ دے کر خطرناک طنز کی۔

ماحول میں ایک دفعہ پھر زبردست خاموشی چھا گئی۔ سردار ماکوڑو خان نے اب بات اپنی فیور میں جاتے ہوئے دیکھ کر، ان لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کی۔

”بابا، میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں ہے کہ تمہارے ساتھ بیٹھا مغز ماری کرتا رہوں۔ یہ غیر قانونی جرگے ہم سرداروں کو بالا افسر مفت میں نہیں کرنے دیتے۔ تم کیا سمجھتے کہ یہ ساری رقم میں اپنے پاس رکھ لوں گا؟ مجھے ایک روپیہ بھی حرام ہے۔ سب پیسے اوپر جائیں گے، بہت اوپر۔“

”آپ بجا فرما رہے ہیں، میری سرکار“ دولت خان کے پاس اب کوئی دلیل باقی نہیں بچی۔

”بابا، یہ کیا کم ہے کہ تم لوگوں کے ساتھ انصاف ہوا ہے، تمہاری ذات کے باقی لوگ بچ گئے۔ اگر تم لوگوں کو مرنے کا شوق ہے تو میں پیسے واپس کر دیتا ہوں، پھر کوئی حملہ آور ہو تو مجھ سے فریاد نہیں کرنا۔ تم جانو، تمہارا کام جانے“

یہ آخری جملہ بول سردار ماکووڑو خان صوفہ سے اٹھے تو چاروں بھلے مانس بھی ادب سے ہاتھ باندھ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے،

”نہیں سرکار، آپ ہمارے بڑے ہیں، سر پہ سایہ ہیں۔ ہم آپ کی رعایا ہیں، آپ کو چھوڑ کر ہم بھلا کہاں جائیں گے؟ جو گستاخی ہوئی اس کے لئے معافی۔ اچھا اب ہم چلتے ہیں“

یہ بولتے ہوئے چاروں بھلے مانس کپڑے کے بنے ہوئے روایتی تولیے اپنے کاندھوں پر رکھ کر سردار کے بنگلے سے باہر نکل گئے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments