قدرتی نظام سے بے اعتنائی کا خمیازہ

منگل کی رات ساڑھے تین بجے سے مسلسل جاگنے سے تنگ آ کر یہ کالم لکھنے کے لئے بدھ کی صبح آٹھ بجے ہی قلم اٹھالیا ہے۔ میری بے خوابی کا سبب کوئی ایسا عشق نہیں تھا جسے ایک فلمی گانے میں نور جہان نے ”ڈھاہڈا بھیڑا“ ٹھہرایا ہے۔ ساون کی موسلادھار بارش تھی۔ اس کی شدت نے ہمارے گھر کے باہر اسلام آباد کے ”پوش“ کہلاتے F۔ 8 کی مرکزی سڑک پر نصب ہوئے گٹروں کو بھر دیا۔ ان پر جمائے بھاری بھر کم ڈھکن پانی کو نکلنے کا راستہ نہیں دیتے۔ وہ گھروں کو لوٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ لب سڑک ہونے کی وجہ سے ہمارا مکان اس کا پہلا ٹھہراؤ ہوتا ہے اور بیس منٹ کا وہ کمرہ جو میں نے بہت چاؤ سے بنوایا تھا حوض کی صورت اختیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔

رات ڈیڑھ بجے کے قریب بہت مشکل سے آنکھ لگی تھی۔ گہری نیند میں داخل ہوئے چند ہی لمحے گزرے ہوں گے کہ میری بیوی کی چیخ نے جگا دیا۔ ہم دونوں اس کے بعد سے وائپر پکڑے دو سے زیادہ گھنٹوں تک پانی کو باہر دھکیلتے رہے۔ وہ مگر کہاں جاتا۔ بالآخر قدرت ہی کو رحم آ گیا۔ بارش تھمی تو راہ نکلی۔ اس وقت تک مگر میری ریڑھ کی ہڈی کا ہر مہرہ ایک دوسرے سے الگ ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ احساس بے چارگی کی شدت سے توجہ ہٹانے کے لئے کالم لکھنا شروع ہو گیا۔

بدھ کی صبح معمول کے مطابق نصیب ہوئی ہوتی تو آج کا کالم بھی آزادکشمیر میں حال ہی میں ہوئے عام انتخاب کی نذر ہوجانا تھا۔ منگل کی صبح جو کالم چھپا تھا اس میں نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی مسلم لیگ کے مذکورہ انتخاب کے حوالے سے ”لسی“ رہ جانے کا ذکر بھی تھا۔ ”لسی“ کو ہمارے دفتر والوں نے کالم کا عنوان بھی بنا دیا جو ہر اعتبار سے پیشہ وارانہ مہارت کا اظہار تھا۔ مسلم لیگ (نون) کے بے تحاشا چاہنے والوں کی مگر ”لسی“ کا ذکر پسند نہیں آیا۔ قومی اسمبلی کے لئے اس جماعت سے منتخب ہوئے ایک انتہائی پڑھے لکھے رکن نے اپنے غصے سے مغلوب ہوئے جذبات کے اظہار کے لئے احتجاجی ای میل لکھی۔ شاعرانہ انگریزی میں لکھی گئی تھی۔ اس میں ایک لفظ گردان کی صورت دہرایا گیا تھا۔ یہ لفظ تھا ”Iniquitous“ ۔ اس کا مطلب اور تلفظ جاننے کے لئے مجھے لغت سے رجوع کرنا پڑا۔ ”نا انصافی“ اس کا قریب ترین ترجمہ ہو سکتا ہے۔ طیش کے عالم میں بھی زبان و بیان پر ایسی کمان نے مجھے بہت متاثر کیا۔ مسلم لیگ (نون) کے سوشل میڈیا پر متحرک چند افراد مگر جذبات پر قابو نہ رکھ پائے۔ ”تم بھی بکاؤ نکلے“ ۔ ان کے بے تحاشا پیغامات کا یک سطری نچوڑ تھا۔ وہ حیران تھے کہ میں اس جماعت کو ”لسی“ کس منہ سے پکار رہا ہوں جس نے تحریک انصاف کے مقابلے میں 5 لاکھ کے قریب ووٹ لئے ہیں۔ حکمران جماعت کو ملے ووٹوں سے اس کا فرق ایک لاکھ سے زیادہ نہیں۔ اجتماعی ووٹوں کے حوالے سے تحریک انصاف سے قریب تر رہی جماعت کو ”لسی“ کیسے پکارا جاسکتا ہے۔

ارادہ باندھ رکھا تھا کہ بدھ کی صبح اٹھ کر دانستہ ڈھٹائی سے اپنا دفاع کروں گا۔ یوں میرے ٹویٹر اور ای میل اکاؤنٹ پر رونق لگی رہے گی۔ میرے کالم کو لائیکس اور شیئرز کی بدولت تھوڑی شہرت بھی نصیب ہو جائے گی۔ کئی گھنٹوں کی مشقت سے وائپر کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے کمرے میں جمع ہوئے پانی کو باہر نکالنے کی خواہش نے مگر ذہن میں ”یہ جینا بھی کوئی جینا ہے“ والا سوال اٹکا دیا ہے۔ کاش میں رزق کمانے کے لئے نہیں دانشوری بگھارنے کے لئے یہ کالم لکھ رہا ہوتا۔ سکھ چین اور راحت نصیب ہوتے تو مسلم لیگ کے سپاہ ٹرول سے نبرد آزمائی سے لطف اٹھاتا۔ فی الوقت اگرچہ یہ سوچتے ہوئے بھی حیرت ہو رہی ہے کہ ”لسی“ کے استعمال سے مشتعل ہوئے دوستوں کو منگل کے روز چھپے کالم میں لکھے وہ فقرے یاد کیوں نہ رہے جن میں مسلم لیگ نون کو آزادکشمیر کے انتخاب میں ”5 سے 6 نشستوں تک محدود“ رکھنے کا بھی ذکر ہوا تھا۔ سردار تنویر الیاس کی خوش حالی اور باغ سے بیگانگی کا بھی اس کالم میں تذکرہ ہوا۔ اس کے علاوہ ایک پیرا Incumbency Factor سمجھانے کی نذر بھی ہوا تھا۔ پانچ سالہ دور اقتدار کی وجہ سے ووٹروں کے موثر حلقے میں موجود مایوسی اور شکایتیں۔ اندھی نفرت و عقیدت میں تقسیم ہوئے معاشروں میں تفصیلات پر لیکن غور نہیں کیا جاتا۔ ایک ہزار سے زائد لفظوں پر مبنی تحریر میں سے کوئی ایک لفظ اچک کر واہی تباہی کا ہذیان شروع ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہذیان کے اظہار کی بے پناہ راہیں بھی دکھا دی ہیں۔ کاش سی ڈی اے والوں نے ساون کی موسلادھار بارشوں کے پانی کی نکاسی کے لئے بھی ایسی ہی راہیں دریافت کرلی ہوتیں۔

بارش کی وجہ سے نازل ہوئی اذیت کا ذکر کرتے ہوئے اعتراف یہ بھی کرنا ہے کہ منگل کے دن شدید ترین حبس نے بوکھلا دیا تھا۔ دن میں کئی بار آسمان کو دیکھتے ہوئے لوکی نہیں بارش کی دعا مانگی تھی۔ یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ نماز بخشواتے ہوئے روزے گلے پڑ جائیں گے۔ عجب اتفاق یہ بھی ہوا کہ منگل ہی کے دن میرے گھر آئے ”نیویارک ٹائمز“ کے صفحہ اول پر وسطی چین کے ایک شہر کی بابت تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ اس کا دعویٰ تھا کہ کسی زمانے میں ”دیہاتی قصبہ“ تصور ہوتے اس شہر کو برسوں کی محنت اور خطیر سرمایہ کاری کے ذریعے جدید ترین صنعتی شہر بنا دیا گیا ہے۔ سربفلک عمارتوں کی تعمیر کرتے ہوئے مگر زمین کے اس خطے میں صدیوں سے موجود بارشوں کے پانی کے لئے راستہ بنانے والے نظام کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ موسلادھار بارشیں اب اس شہر کو کسی وسیع و عریض تالاب میں جکڑا ہوا شہر بنا دیتی ہیں۔

وہ مضمون پڑھتے ہوئے مجھے اپنا بارہ دروازوں والا شہر لاہور یاد آنا شروع ہو گیا۔ اندرون شہر ایک لمحے کو بھی شدید ترین بارشوں کے دوران بھی پانی کہیں رکتا نہیں تھا۔ بارہ دروازوں کے باہر بنائی فصیل کے جو حصے باقی رہ گئے ہیں انہیں غور سے دیکھیں تو آپ کو احساس ہوگا کہ پرانا لاہور اپنے دروازوں کے اردگرد زمین سے کافی اونچائی پر بنایا گیا تھا۔ مثال کے طور پر شیرانوالہ گیٹ میں داخل ہونے کے لئے آپ کو ایک ”گھاٹی“ کو چڑھنا ہوتا ہے۔ بھاٹی دروازے کے باہر بھی ایسی ہی گھاٹی ہوا کرتی تھی۔ اونچی زمین پر تعمیر ہوئے مکانوں میں داخلے کے لئے آپ کو سڑھیوں سمیت بنائی ”چوکی“ پہ چڑھنا بھی لازمی تھا۔

بارہ دروازوں والا لاہور آج سے ایک ہزار سال قبل غزنوی دور میں تعمیر ہوا تھا۔ آج بھی وہاں بارش کا پانی کہیں نہیں رکتا کیونکہ پانی کی سرعت سے نکاسی کے راستے قدرتی نظام کا احترام کرتے ہوئے بنائے گئے تھے۔ انگریزی دور میں لاہور پھیلنا شروع ہوا تو گوالمنڈی اور نسبت روڈ آباد ہوئے۔ میرے بچپن میں وہاں بارش کا پانی ہمیشہ جمع ہوجاتا تھا۔ جی ٹی روڈ اور پرانے شہر کی فصیل کے اس پار مگر مصری شاہ جیسے علاقے تھے جنہیں لاہور کے شمالی علاقے کہا جاتا تھا۔ گزشتہ صدی کے آغاز تک وہاں ”بڈھے دریا“ سے قربت کی وجہ سے فقط سبزیاں اگائی جاتی تھیں۔ انہیں رہائشی بستیوں میں تبدیل کرتے ہوئے بارش کے پانی کے لئے راستے فراہم نہ ہوئے۔ اسی باعث موسلادھار بارش کے دو یا تین دن گزر جانے کے بعد بھی ان علاقوں میں بارش کا پانی جمع رہتا اور ہم بہت اشتیاق سے اپنے بچپن میں نیکریں پہن کر ان علاقوں میں ”تیرنے“ جاتے تھے۔ پاکستان کے ”جدید ترین“ دارالحکومت میں لیکن ظلم یہ ہوا ہے کہ بارش کا پانی تالاب کی صورت کسی سڑک پہ جمع نہیں ہوتا۔ یہ گھروں میں داخل ہو کر انہیں جوہڑوں میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ ”جدید تر“ نظر آنے کے شوق میں قدرتی نظام سے بے اعتنائی کا خمیازہ ہم بے بس و لاچار شہری آنے والے برسوں میں مزید شدت سے بھگتا کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words