کیا پاکستان افغانستان بن جائے گا؟

شاہ محمود قریشی نے فرمایا ہے کہ کچھ طاقتیں پاکستان میں استحکام نہیں چاہتیں۔ ہم اتنے ناتواں اور وہ طاقتیں اتنی توانا ہیں کہ ہمارے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے باوجود ہم ان کا نام نہیں لے سکتے۔ پھر مذکورہ طاقتیں انڈیا اور افغانستان بھی نہیں ہیں۔ وہ ہوتیں، تو ہم کب کے ان کے خلاف اقوام متحدہ میں ‘ڈوسیئر’ جمع کرا چکے ہوتے یا طورخم اور سپین بولدک چیک پوائنٹس بند کر کے ان کو ان کی اوقات یاد دلا دیتے۔

ستر کی دہائی کے آخری برسوں اور اسی کے پورے عشرے میں افغانستان ساری دنیا کی شاملات بنا ہوا تھا۔ ہر ملک کا وہاں ہاتھ اور مفاد تھا۔ ساری سرمایہ دار دنیا، اسلامی دنیا یہاں تک کہ کمیونسٹ چین بھی روس کے ساتھ اپنا حساب چکتا کرنے میں مصروف تھا۔ ہم ہر کسی کی آنکھ کا تارا بنے ہوئے تھے۔ کراچی اور اسلام آباد ائیرپورٹس دنیا کی مصروف ترین ایئرپورٹس بنی ہوئی تھیں۔

جنگی اور تزویراتی ماہرین، انٹیلیجنس کے گرو، اسلحہ بنانے والے ٹائیکونز اور بیچنے والے دلال، انسانی اور سماجی خدمات سر انجام دینے والے سچے اور جھوٹے ادارے، عالمی اور ایشین بنک، اقوام متحدہ، ناٹو، مسلم اور مغربی ممالک کے سربراہان قطاریں بنا کر ہمیں قرضے، امداد مشورے اور نیک خواہشات پیش کرنے کیلئے بیتاب تھے۔ روزانہ کی حساب سے اہم شخصیات کے ساتھ ہاتھ ملا ملا کر، وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان کا کندھا اترنے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ مسکرا مسکرا کر مہمانوں اور مہربانوں سے ملنے کی وجہ سے ضیا الحق کے چہرے پر مسل کھچ جانے کی وجہ سے لکیریں پڑ گئی تھیں۔

انٹلیجنس گیدرنگ، گوریلا وارفیئر، سبوتاژ، ہٹ اینڈ رن کے ٹیکٹیکس، توپیں، ایف سیکسٹین کے سکواڈرن، بلو پائیپ اور سٹنگر میزائل، سپلائی برقرار رکھنے کیلئے ٹرکوں کا پورا بیڑا (بعد میں این ایل سی کہلایا)، نئی بہتر اور کشادہ سڑکیں، باربرداری کے بڑے ٹرکوں کو برداشت کرنے کیلئے نئے مظبوط اور پائیدار پل، نئی ایئر پورٹس، غرضیکہ ہماری وہ کونسی ضرورت اور خواہش تھی جو پوری نہیں کی گئی۔ یہاں تک کہ ہمارے ایٹمی پروگرام سے جان بوجھ کر چشم پوشی کی گئی کیونکہ سرمایہ دار دنیا کے سامنے ہمارے ایٹمی پروگرام سے بڑا مقصد تھا اور وہ یہ کہ روسی ریچھ ہندوکش پار کر کے پاکستان آئے نہ ایران کے راستے بندر عباس پہنچ سکے۔ روس نے گرم پانیوں میں پہنچ کر تیل کی کنوؤں تک سرمایہ دار دنیا کی رسائی محدود کرنی اور اپنی اجارہ داری قائم کرنا تھی۔

اس دوران افغانستان کہاں تھا؟ کس حالت میں تھا؟ کس کی وہاں حکومت تھی؟ روزانہ کی بنیاد پر اس کی بری اور فضائی حدود کی کتنی دفعہ خلاف ورزیاں کی جاتی تھیں؟ کوئی جاننا چاہتا تھا نہ کسی کو فکر تھی۔ افغانستان کے ‘مجاہدین ہیروز’ امریکہ کی بنیاد رکھنے والے مشاہیر کے برابر محترم سمجھے جاتے تھے، اعلیٰ امریکی حکام نہ صرف یہ کہ ان کے آگے آگے بچھتے تھے بلکہ وہائٹ ہاؤس کے لان میں ان کی نماز کی ادائیگی کے دوران ان کیلئے جائے نماز بچھانا اپنے لئے سعادت سمجھتے تھے۔ یہ عزتیں سعادتیں اہمیتیں تب تک ہمیں اور ان ‘مجاہدین’ کو حاصل تھیں جب تک کہ روس درہ سالانگ کے راستے واپس دریائے آمو کے پار نہیں اترا۔

پاکستان کو اتنی اہمیت، مراعات، عزت اور امداد ساری قومی زندگی میں نہیں ملی تھی جتنی افغانستان میں روسی موجودگی کے دوران ملی۔ کیونکہ سرمایہ دار دنیا کیلئے سب سے بڑی چیلنج روس کے گرم پانیوں یعنی آج کے گوادر کی طرف پیش قدمی تھی۔

روسی مداخلت سے چند مہینے پہلے امریکی صدر کارٹر نے پاکستان پر ایٹمی اسلحہ بنانے کی پاداش میں نہ صرف یہ کہ یک طرفہ پابندیاں لگائی تھیں بلکہ پاکستانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کیلئے خفیہ ٹاسک فورس تشکیل دینے کی خبریں اور دھمکیاں بھی اخبارات کی زینت بنتی رہی تھیں۔ لیکن روسی مداخلت کے بعد ساری دنیا کی آنکھوں کا تارا پاکستان اور سب سے معزز مہمان ضیاء الحق اور اس کی سیاسی اور فوجی ٹیم تھی۔ جب کارٹر نے زچ ہوکر ضیاء الحق کو ملٹری اور نیم ملٹری امداد دینے کی ازخود پیشکش کی تو مونگ پھلی کہہ کر اسی صدر کے منہ پر ماری گئی جو چند مہینے پہلے پاکستان اور ضیا الحق کا بدترین مخالف تھا۔

 برطانیہ کی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر رخصت ہوتیں تو امریکی وزیر دفاع وان برگر جہاز سے اتر رہا ہوتا، وان برگر رخصت ہوتا تو وزیر خارجہ الیگزنڈر ہیگ اور جارج شلز اترتے۔ ایسے بھی مغربی برطانوی اور امریکی اہلکار تھے جن کی نیند دوران سفر ہوائی جہازوں میں پوری ہوتی تھی۔

 لمبی تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ قاری کو احساس ہو جائے کہ کمیونسٹ روس کا بحیرہ فارس میں آنے کا ارادہ سرمایہ دار دنیا نے کس قدر شدید انداز میں لیا اور مخالفت کی تھی۔

روس کے نکلتے نکلتے اوجڑی کیمپ اور نوشہرہ کے اسلحہ ڈپو یکے بعد دیگرے اڑ گئے ابھی ان کا دھواں بیٹھا نہیں تھا کہ ضیاء الحق نو جرنیلوں سمیت سی ون تھرٹی جہاز میں اڑتے اڑتے شعلوں کی نذر ہوا۔ کیونکہ دنیا نہیں چاہتی تھی کہ پاکستان اپنے ودیعت کردہ کردار سے سرِ مو تجاوز کرے۔

اسی گوادر کی طرف اب چین اپنی تزویراتی رسائی بنا رہا ہے جہاں آنے کے لئے ایک دفعہ روس دریائے آمو عبور کر کے بلوچستان پار کرنا چاہتا تھا۔ روس افغانستان کی حکومت کی مرضی سے افغانستان آیا تھا لیکن اس کے باوجود افغانستان ایک مستقل میدان جنگ بنایا گیا اب چین پاکستان کے سرکاری پارٹنر کی حیثیت سے پاکستان آکر گوادر جانا چاہتا ہے تو کیا سرمایہ دار دنیا چین کو گوادر تک آنے دے گی؟ کیا پاکستان کو بقول وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی عدم استحکام کا شکار کیا جا رہا ہے؟

بین الاقوامی طور پر فیٹف کی گرے لسٹ کی لٹکتی تلوار کا مسئلہ ابھی حل نہ ہو سکا تھا کہ برطانیہ نے ‘منی لانڈرنگ اینڈ ٹیررسٹ فنانسنگ ریگولیشن 2021 میں پاکستان کو 21 خطرناک ممالک کی لسٹ میں ڈال دیا۔ مسئلہ یہاں نہیں رکا بلکہ امریکہ نے چائیلڈ سولجر پروینشن ایکٹ میں پاکستان کو شامل کر دیا اور اب یورپی یونین نے توہین مذہب کے قانون کے حوالے سے اپنی قرارداد مین سخت تنقید کی ہے۔

مغرب کو جاننے کے دعووں کے باوجود حکومت نہیں جانتی کہ کیا کرے کہ دنیا کے ساتھ ہمارے تعلقات معمول پر آ جائیں۔ کیونکہ شاید 74 سال میں پہلی بار پاکستان اس قدر بدترین سفارتی کاری کا شکار ہو چکا ہے۔

اندرونی ملک دہشت گردی کی وارداتیں پاکستان میں خدمات سر انجام دینے والے چینی اہلکاروں تک پہنچ گئی ہیں۔ افغانستان سے رات کے اندھیرے میں نکل کر امریکہ ساز و سامان سمیت پورے پورے اڈے طالبان کے حوالے کر رہا ہے جس کی وجہ اشرف غنی حکومت امریکہ کے نکل جانے کے بعد بھی امریکہ کے رحم و کرم پر رہے گی۔ جبکہ پہلے ہی امریکی ایما پر اس کی حکومت اس کے دودھ شریک صدر عبداللہ عبداللہ کے ہاتھوں نیم یرغمال بنی ہوئی تھی۔

اخبارات میں شائع ہونے والی انٹلیجنس رپورٹوں کے مطابق پاکستانی سرحد کے قریب بارہ سے اٹھارہ ہزار داعش اور القاعدہ کے دہشت گرد موقع کی تلاش میں انتظار کر رہے ہیں۔ افغانستان اور عراق سے فوجی انخلا اور ایران کے ساتھ حالات نارمل کر کے امریکہ اور اس کے اتحادی چینی ڈریگن کو قراقرم کی چوٹیوں سے نیچے اترنے سے روکنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ کواڈ کے نام سے زنجیر کی کڑیاں جس طرح ترتیب دی جا رہی ہیں اس کی اگلی کڑی امریکہ اور مغرب کے خیال میں پاکستان ہونا چاہئے۔ لیکن پاکستانی حکومت کی غیر فعال حکمت عملی اور لفاظی پر مبنی سفارتکاری پاکستان کو روز بروز تنہا کر رہی ہے۔

تو پھر کیا اس دفعہ ہاتھیوں کی لڑائی کا میدان پاکستان بننے جا رہا ہے؟ جس طرح روس اور امریکہ کی لڑائی میں افغانستان میدان جنگ بنا تھا۔ پاکستان بے شک افغانستان نہیں۔ پاکستان ایک منظم فوج کا حامل ایٹمی ملک یے، لیکن کیا پاکستان میں اتنی مالی معاشی اور سفارتی سکت ہے کہ چین کی خاطر ساری دنیا کی دشمنی مول لے سکے؟ میرے خیال میں ایسا ممکن نہیں کیونکہ ہماری سول اور ملٹری بیوروکریسی ریٹائرمنٹ کے بعد سکون کی خاطر مغرب اور امریکہ میں رہائش پسند کرتی ہے، چین میں نہیں۔ تو پھر ایبسلٹولی ناٹ (Absolutely Not) کا کیا مطلب ہے؟ کیا حکومت اور عسکری ایسٹبلشمنٹ کے اندر جاری کشمکش ایک سٹریٹیجی کے تحت ہے؟ جس طرح ضیاء الحق نے کارٹر کی امداد کو مونگ پھلی کہہ کر ٹھکرایا اور پھر ریگن سے دو عشروں پر محیط خاطر خواہ وصولیاں کرتا رہا اسی طرح کیا اب بھی ایبسلٹولی ناٹ کہہ کر مطلوبہ مقدار کے مراعات اور امداد کیلئے زمین ہموار کی جا رہی ہے؟ سروس میں توسیع اور نواز شریف کی حکومت کی رخصتی کی پس پردہ ٹھوس وجوہات ضرور ہوں گی۔

تو اور آرایش خم کاکل

میں اور اندیشہ ہائے دور دراز

Comments - User is solely responsible for his/her words