بکری کو بھی نہیں چھوڑا


کیا ایک وحشی درندہ نما مرد اس قدر گر سکتا ہے کہ وہ ایک بے زبان اور معصوم جانور بکری کو بھی نہ چھوڑے۔ پاکستان کے صوبے پنجاب، شہر اوکاڑہ کے ایک گاؤں میں پانچ افراد پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ایک بکری کے ساتھ جنسی فعل کیا اور پھر اسے تشدد کر کے مار دیا۔ اوکاڑہ کے علاقے ستگھرہ کی پولیس کے مطابق بکری موقع پر ہلاک ہو گئی اور ملزمان وہاں سے فرار ہو گئے۔ بکری کا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور لائیو سٹاک ہسپتال نے اس بات کی تصدیق کی کہ بکری کے ساتھ جنسی فعل کیا گیا ہے۔

تاحال ملزمان گرفتار نہ ہو سکے یہ میڈیا رپورٹ ہے۔ ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیے یہ رپورٹ انٹرنیشنل میڈیا پر چلی۔ میں جب یہ پوسٹ پڑھ رہا تھا میرا سر شرم سے جھک گیا۔ ہر روز پاکستان سے جنسی درندگی کی خبریں پڑھتا ہوں۔ چھوٹی چھوٹی معصوم بچیوں کے ساتھ جنسی درندگی کی جاتی ہے اور پھر ثبوت مٹانے کے لئے ان کو ابدی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے معصوم لڑکوں کو بھی نہیں بخشا جاتا اس دور کے اندر معصوم بچوں کی حفاظت لازم ہو چکی ہے جب تک معصوم بچے گھر نہ آتے ہوں گے والدین کے لیے سو طرح کے وسوسے اور خیالات جنم لیتے ہیں۔

لیکن کیا کیجئے ان جنسی درندوں کا جنہوں نے ایک معصوم اور بے زبان جانور کو بھی نہ بخشا جنسی درندگی کرنے کے بعد اس پر تشدد کر کے اس کو مار ڈالا۔ کون سا معاشرہ کون سا مذہب اس بات کی اجازت دیتا ہے اور جس نے یہ خبر پڑھی ہوگی اس نے کیا سوچا ہوگا کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کوئی قانون موجود نہیں ادارے موجود نہیں یا پھر پورا معاشرہ مٹھی بھر وحشی اور جنسی درندگی کے دلدادہ مردوں کے رحم و کرم پر ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں متفقہ آئین بھی موجود ہے۔

ہر جرم کے قوانین بھی موجود ہیں۔ اعلیٰ عدالتیں بھی موجود ہیں انتظامیہ بھی موجود ہے۔ یہاں تک کہ وفاقی شریعت عدالت بھی موجود ہے۔ صرف مسئلہ قوانین پر عملدرآمد کرانا۔ بکری کے ساتھ جنسی درندگی کے واقعے نے ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ غیر مسلم لوگ پوچھتے ہیں کیا ایک اسلامی ملک میں جانوروں کو بھی جنسی درندگی کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔ کیا وہاں معصوم جانور بھی جنسی درندگی سے محفوظ نہیں ہیں۔

یہ ایسے سوالات ہیں جو غیر مسلم پوچھنے پر حق بجانب ہیں اور ان سوالات کا جواب کسی بھی دیار غیر میں رہنے والے پاکستانی کے پاس نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا ہمارے اعمال اسلام کے اصولوں کے عین مطابق ہوتے اور غیر مسلم ہمارے اعمال کو دیکھ کر اسلام سے متاثر ہوتے۔ اور وہ اسلام میں داخل ہوتے لیکن آئے روز ایسی منحوس خبریں آتی ہیں۔ جن کی وجہ سے اسلام فوبیا پر کام کرنے والے افراد ان خبروں کو بنیاد بنا کر اسلام پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔

جس کی وجہ سے ہر مسلمان پریشان نظر آتا ہے ہمارے علماء کرام کو بھی اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر جمعہ کو مرکزی مساجد میں اجتماعات ہوتے ہیں۔ علمائے کرام خصوصی خطبات دیتے ہیں اگر وہ اپنے خطبات میں معاشرتی برائیوں اور معاشرے کی اصلاح کے لیے اسلام کی روشنی میں اپنے اپنے خطبات دیں تو یقینی طور پر معاشرے کی اصلاح میں کافی بہتری آئے گی۔ اسی طرح اگر پاکستانی درسگاہوں میں اساتذہ کرام ایک خصوصی تربیتی نشست بچوں کے لئے رکھیں تو یقینی طور پر اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ہمارے پاکستان میں جرائم کی خبروں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اخبارات جرائم کی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں۔ حکومت وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے اہم طبقات کو بھی اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ آخر میں حکومت وقت سے درخواست کروں گا اوکاڑہ میں جن پانچ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے اگر واقعی انہوں نے ایک بکری کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا ہے۔ تو پھر ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ ہو سکتا ہے۔ اس سزا کے بعد باقی جرائم پیشہ لوگ عبرت حاصل کرنے کر لیں۔

Facebook Comments HS