دیکھو پاکستان نئی نظر سے

میں اپنے یو ٹیوب چینل کے لئے مختلف شعبہ ء زندگی کے لوگوں سے انٹرویوز کرتا ہوں۔ اپنے ایک کام کے سلسلے میں کراچی سے اسلام آباد جانا ہوا تو سوچا اس مرتبہ پاکستان ٹریننگ انڈسٹری کے نامور ٹرینر اور او ڈی ایکسپرٹ کامران زیڈ رضوی کا بھی انٹرویو کروں گا۔ ان سے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے انٹرویو دینے کے لئے ہاں کردی اور کہا کہ زوم یا اسٹریم یارڈ پر انٹرویو کر لو۔ میں نے کہا نہیں سر میں آپ سے مل کر انٹرویو ریکارڈ کرنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں تو اسلام آباد اور تم کراچی میں ہو؟ میں نے کہا سر میں اگلے ہفتے اسلام آباد ایک کام سے آ رہا ہوں۔ خیر 30 مارچ 2021 کو میں ایف سیون ان کے آفس پہنچا، انٹرویو ریکارڈ کرنے کے بعد ہم اکٹھے چائے پی رہے تھے تو انہوں نے مجھے سے ایک آئیڈیا شیئر کیا کہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے سوچ رہے ہیں کہ وہ اپنی گاڑی پر سفر کر کے پورے پاکستان کا وزٹ کریں خاص طور پران نوجوانوں سے ملیں جنہیں انہوں نے Young Leaders Conference کے شرکا ء سے جو کہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں ان سے ملیں۔ اور یہ لوگ کس طرح اپنی ذاتی، خاندان، کیمونٹی، ادارے اور معاشرے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں؟

ہم نے سوچا کہ کیوں نہ اس سارے سفر، واقعات، خیالات اور تاثرات کو ریکارڈ کیا جائے تاکہ ہمارا یہ سفر مزید کارآمد ہو سکے اور لوگ پاکستان کی مختلف شہروں کی مختصر تاریخ، جغرافیہ، کلچر اور لوگوں کے بارے میں جان سکیں۔

ہم نے اس ویڈیو ڈاکیومنٹری کو ”دیکھو پاکستان نئی نظر سے“ کا نام دیا۔ اب ہمارا سفر دو حصوں پر مشتمل تھا۔ پہلا حصہ لوگوں کے ساتھ ایک گروپ کی شکل میں ملنا تھا ان سے بات چیت کرنا، اور پانچ سوال کرنا تھا۔

ینگ لیڈرز کانفرنس کی تین اہم باتیں بتائیں جنہوں نے آپ کی زندگی کو بہتر بنانے میں رہنمائی کی ہے؟

ینگ لیڈرز کانفرنس میں شرکت کے بعد دو ایسی صلاحیتوں کے بارے میں بتائیں جنہیں آپ نے اپنی عملی زندگی میں اپنایا ہے؟

ینگ لیڈرز کانفرنس نے آپ کی موجودہ زندگی میں کامیابی کو حاصل کرنے میں کس قدر اہم کردار ادا کیا ہے؟
ینگ لیڈرز کانفرنس سے سیکھی ہوئی باتیں کس طرح آپ کی مشکل حالات میں مدد کرتی ہیں؟

کیا آپ لیڈرشپ کے بارے میں مزید نئے رجحانات سیکھنے کے خواہش مند ہیں؟ اور کن موضوعات کو زیادہ پسند کریں گے؟

اور ان کے پاکستان کے بارے میں خیالات جاننا، یہ سارا عمل فوٹوز اور ویڈیوز کی صورت میں ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ دوسرے حصے میں شہر کے تاریخی اور اہم مقامات کی ویڈیوز اور فوٹوز بنائیں تاکہ جامع ڈاکیومنٹری بن سکے۔

ہم نے اپنے پلان کے مطابق 16 سے 30 جون تک 11 شہروں میں وزٹ کرنے کا پلان بنایا۔ کامران رضوی صاحب نے اپنی فیس بک ٹائم لائن پر اس پروگرام کا اعلان کیا۔ مختلف لوگوں نے اپنے نام رجسٹرڈ کروائے اور ہم نے ان سے رابطہ کر کے پروگرام کی تفصیلات بتانا شروع کردیں۔ ہم نے یہ پروگرام پبلک نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس پروگرام کے لئے کوئی اسپانسرشپ نہیں تھی جس کی وجہ سے دیگر انتظامات میں مشکلات پیش آتیں۔

یہ پروگرام شروع میں بہت مشکل اور دشوار لگ رہا تھا کیونکہ جون کے ماہ میں شدید گرمی ہوتی ہے، کورونا کی تیسری لہر کی وجہ سے کئی لوگوں نے اس پروگرام کو وقتی طور پر ملتوی کرنے کا مشورہ دیا۔ ہم نے اپنے پلان کے مطابق ایک کار میں اپنے سفر کا آغاز کر دیا۔

16 جون کو میں اور میرا ساتھی کیمرہ مین آئزک شریف کراچی سے بس کے ذریعے کوئٹہ پہنچے، کامران رضوی کار میں لاہور سے ڈائیور محمد شکیل کے ساتھ براستہ سکھر  کوئٹہ پہنچے۔ 17 جون کو ہم چاروں اپنے میزبان سید محمد اسامہ کے گھر پہنچے جنہوں نے کوئٹہ کی روایتی میزبانی سے ہمارے دل جیت لئے۔

صبح کا بھرپور ناشتہ، دوپہر کا دلچسپ کھانا اور شام کو بلیک ڈائمنڈ ریسورنٹ میں ہمارا پروگرام ہوا۔ رات کا کھانا انتہائی لذیز اور لاجواب تھا۔

کوئٹہ کے خوشگوار موسم اور مہمان نواز لوگوں نے ہمارے اس شاندار اور تاریخی سفر کی بنیاد انتہائی عمدہ انداز میں رکھی۔

کوئٹہ سے 18 جون کی صبح ہم خیرپور کے لئے روانہ ہوئے۔ 7 گھنٹوں پر مشتمل یہ سفر انتہائی ناقابل بیان تھا۔ خوبصورت پہاڑ، وادیاں، درخت قدرت کا ہر رنگ دیکھ کر ہمارے دلوں سے سبحان تیری قدرت نکل رہا تھا۔

خیر پور میں موسم قدرے گرم تھا تاہم عام دنوں کے مقابل درجہ حرارت کم تھا۔ خیر پور میں ہماری میزبانی کے فرائض عبداللہ رحمن سومرو نے سرانجام دیے۔ ہمارا قیام شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔

شام کو ہمارا میٹ اپ خیر پور ریاست کے شاہی محل، فیض محل میں ہوا۔ یہ کیا خوبصورت اور حسین نظارہ تھا۔ یہ جگہ دیکھنے کے لائق ہے اور شام کو تو اس کا صحن اور لان کا احاطہ ایک شاندار ماضی کی نوید سناتا ہے۔

خیر پور سے ہم 19 جون کو صبح دادو کے لئے روانہ ہوئے جہاں فرحاں علی جمالی نے اپنی میزبانی کے جلوے دکھائے۔ واضح رہے کہ فرحاں اس سارے پروگرام کی کیمونیکیشن کوارڈینیٹر کر رہے تھے۔ فرحاں علی جمالی ایک دلچسپ نوجوان ہے جس کے دل میں اپنے لوگوں کی بہتری کا درد ہے۔ دادو میں ہمارا قیام انتہائی مختصر ضرور تھا مگر مفید بہت تھا۔ فرحاں علی جمالی نے ڈسٹرکٹ کمیشنر آفس کے دربار ہال میں کئی نوجوانوں کو جمع کر رکھا تھا جن کے سوالوں سے اور ان کی آنکھوں میں سیکھنے کی جستجو دیدنی تھی۔ اس میٹ اپ میں محترمہ غلام فاطمہ گھلو (اسسٹنٹ کمیشنر، یو ٹی، دادو) نے خصوصی طور پر شرکت کی جو کہ خود بھی ینگ لیڈرز کانفرنس میں چند سال قبل شرکت کر چکی ہیں۔

دادو میں شدید گرمی تھی۔ ہم شام کو دادو سے حیدر آباد پہنچے تو بارش کی وجہ سے موسم خوشگوار ہو چکا تھا۔ حیدر آباد میں ہمارے میزبان سکندر فیضان نے ہمارا استقبال کیا۔ یہاں کامران رضوی کے ماموں معروف ایڈووکیٹ ہارون رشید کے ہاں شام کو ہمارا سیشن ہوا۔ جس میں نوجوانوں اور مختلف شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ کامران رضوی نے ”احساس ذمہ داری“ پر گفتگو کی اور شرکا ء کے سوالات کے جوابات دیے۔

حیدر آباد سے ہم 20 جون کو کراچی روانہ ہوئے جہاں 21 جون کو ہم نے پاکستان کے معروف امیج اینڈ وارڈ روب کنسلٹنٹ حامد سعید کے کراچی کے شوروم کا وزٹ کیا اور شام میں ہوٹل مہران میں میٹ اپ کے لئے پہنچے۔ کراچی میں ہماری میزبانی کے فرائض، نوجوان وکیل اور باصلاحیت منظم رومسہ رزاق صحروئی نے انتہائی شاندار انداز میں ادا کیے ۔ اس میٹ اپ میں ینگ لیڈرز کانفرنس کی بانی شیرین نقوی نے خصوصی شرکت کی۔

کراچی سے ہم 22 جون کی صبح سات بجے بہاولپور کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ ہمارا سب سے طویل اور تھکا دینے والا سفر تھا تاہم یہ بھی کئی یادوں سے مزین تھا۔ شام میں بہاولپور پہنچے تو ایک اور باصلاحیت اور متحرک نوجوان لقمان عبداللہ نے میزبانی نے ہمیں ترو تازہ کر دیا۔ بہاؤلپور ہمارے لئے ایک دریافت تھی۔ قدیم اور جدید طرز تعمیر کا حسین امتزاج، نور محل کو رات اور دن میں دیکھنا ایک رومانی تجربہ تھا۔ پاک فوج نے اس ورثے کی حفاظت نہایت عمدہ انداز میں کی ہوئی ہے اور اس کی خوبصورتی میں مزید نکھارنے کے لئے کام کیا جا رہا ہے۔

23 جون کو بہاؤلپور سینٹرل لائبریری، میوزیم کا وزٹ کرنے کے بعد بہاؤلپور اسلامیہ یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ الیکٹرانکس انجنیئرنگ میں ہمارا میٹ اپ ہوا جو ایک دلچسپ تجربہ تھا۔

رات میں ہمارا نور محل کے سامنے ڈنر تھا اس سیشن میں ملک کے معروف اسپیکر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نے شرکت کر کے ہماری اس شام کو خوبصورتی بخشی۔ ان کا سیشن اور سوال و جواب کا حصہ بہت باکمال تھا۔ رات کا کھانا بہاولپور میں کھانے کے بعد ہم ملتان کو روانہ ہوئے جہاں رات بارہ بجے ہو ٹل میں پہنچے۔ ملتان اپنے رواج، مزاج اور انداز کا بادشاہ ہے۔ اس کی مٹی میں ایسی خوشبو ہے جو صدیوں سے محبت اور مہمان نوازی کی اپنی مثال ہے۔

ملتان میں ہمارے میزبان زین بلوچ نے ہمیں دیگر میزبانوں کی طرح کسی وی آئی پی گیسٹ سے کم نہ محسوس ہونے دیا۔ 24 جون کی صبح صبح ہم ملتان کے مختلف مقامات کا وزٹ کرنے اور کوریج کے لئے روانہ ہوئے۔ دوپہر میں انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھرن پنجاب (ISP) میں وزٹ کے لئے گئے جہاں ڈاکٹر سید ندیم عابدی اور محسن شیر نے پرتپاک انداز میں استقبال کیا۔

شام میں زین بلوچ کی ٹریننگ اور کنسلٹنسی کمپنی سگنفائی (Signify) کے دفتر میں ہمارا میٹ اپ ہوا۔

25 جون کا دن ہمارا قدر غیر معروف رہا۔ 26 جون کی صبح ملتان سے فیصل آباد کی جانب بڑھے۔ دوپہر میں فیصل آباد پہنچے تو شہر مکمل آب و تاب کے ساتھ ہمارا استقبال کر رہا تھا۔ فیصل آباد میں مکمل فیصل آبادی محمد حیدر معراج نے اپنی مارکیٹنگ کمپنی Askolay میں ہمارے قیام کا انتظام کیا تھا۔ شام میں ہمارا میٹ اپ ہوا۔ رات میں ہم فیصل آباد گھنٹہ گھر میں روایتی کھانا کھانے گئے۔ اس شہر کی گلیاں آپ کو اپنے ہونے کو احساس دلاتی ہیں۔

27 جون کو ہم فیصل آباد سے لاہور کو روانہ ہوئے۔ لاہور میں ہماری میزبانی کے ذمہ داری انتہائی ذمہ دار انسان افتخار حسین کے ذمہ تھی لیکن ہمارا قیام و طعام دختر پاکستان ارفع کریم کے والدین کے گھر تھا۔ جنہوں نے اپنی میزبانی سے ہمارے دل جیت لئے۔

دوپہر میں ہمارا میٹ اپ یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے بزنس ان کیبونشن سینٹر ”تخلیق“ میں منعقد ہوا۔ یہ ہمارا تمام میٹ اپس میں زیادہ متحرک میٹ اپ تھا۔ اس میٹ اپ میں ارفع کریم کے والدین کرنل امجد کریم، ثمینہ امجد اور ارفع کے دنوں بھائیوں نے خصوصی شرکت کی۔ شام میں ایک کارپوریٹ ڈنر ہوا۔ 28 جون کی صبح ہم قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن میں پہنچے۔ جہاں کامران رضوی اور میرا تفصیلی انٹرویو ہوا۔ دوپہر میں ہم لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوئے۔ شام میں اسلام آباد پہنچے تو موسم توقع کے برعکس گرم تھا۔

29 جون کو صبح ہم فیصل مسجد، پاکستان میوزیم اور شہر کئی اہم مقام پر گئے۔ شدید گرمی کی وجہ سے زیادہ گھوم نہ سکے، اسامہ نواز نے ہمیں اسلام آباد کے مختلف مقامات پر وزٹ کی ذمہ داری بخوبی نبھائی۔ شام میں ہو ٹل کراؤن پلازہ میں ہمارا میٹ اپ ہوا۔ اسلام آباد میں ہمارے میزبان محمد عثمان گلزاری تھے جنہوں نے اپنے فرائض نہایت احسن انداز میں سرانجام دیے۔ اس میٹ اپ میں ڈاکٹر نعیم مشتاق، اعجاز نثار، عمیر جالیا والا اور دیگر کئی پروفیشنلز نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں ہمارے فوٹو گرافر آئزک شریف کی سالگرہ بھی منائی گئی۔

30 جون کو ہماری منزل پشاور تھی جہاں ہمارا قیام انتہائی مختصر تھا۔ علی رحمان خان نے ہماری میزبانی کے فرائض سرانجام دیے۔ حارث شینواری نے ہمیں پشاور شہر چند معروف جگہوں کا وزٹ کروایا۔

شام کو ہم واپس اپنا سفر مکمل کر کے اسلام آباد پہنچے۔ کامران رضوی صاحب اور محمد شکیل اسلام آباد میں اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے اور میں اور آئزک شریف کراچی واپس آ گئے۔ 15 دن کا یہ سفر ایک یادگار، ناقابل فراموش اور یادوں سے بھرپور سفر تھا۔ جس نے ہمیں پاکستان کے مختلف رنگوں سے متعارف کروایا۔ یہ سفر ہمارے لئے اس لحاظ سے بھی ایک یادگار تجربہ تھا کہ ہم چاروں ایک ساتھ پہلی مرتبہ سفر کر رہے تھے۔ 11 شہروں میں پانچ ہزار چار سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے بعد ہمارے دل اپنے رب کی شکرگزاری سے بھرے ہوئے تھے۔

اس سارے سفر میں بغیر کسی حادثے، تاخیر اور رکاوٹ کے بغیر ہم سفر مکمل کر چکے تھے۔ یہ سفر ایک جنون تھا۔ اپنے آپ کی تلاش کا، اپنے احساسات، جذبات اور خدشات کا سامنا کرنے کا۔ یہ سارا سفر کوئی تفریحی پروگرام نہیں تھا اور نہ ہی کچھ اور تھا۔ ایک اپنی نوعیت اور افادیت کے لحاظ سے ایک منفرد اور مختلف پروگرام تھا۔ اس کا مقصد صرف ہماری ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا ہم سب کی زندگیوں، بلکہ ہمارے آنے والی نسلوں سے گہرا تعلق ہے۔

اس کا تعلق پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام سے ہے کہ ہم سب اپنے اپنے ذاتی مفاد، انا اور تعصب سے نکل کر پاکستان کو اس نظر سے دیکھنے کی کوشش کریں جو ہمارے بڑے دیکھنے سے قاصر رہے۔ ایسا پاکستان جس میں ہر ایک اپنی زندگی خوشی، آزادی، ذمہ داری، ایک دوسرے کے لئے احترام اور برداشت سے بسر کرسکے اس کے لئے ہم سب کو اپنے اپنے حصہ کا کام کرنا ہوگا۔

خدا کرے کہ ہماری یہ کاوش ہم سب کو باقی تمام عمر پاکستان کو نئی نظر سے دیکھنے کی بصارت عطا کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words