سلیپنگ بھٹو کا نشیمن پاکستان کا جوہری جیون کدہ ہے
زیڈ۔ اے بھٹو کا مقدمہ ابھی پاکستانی عدلیہ میں زیرسماعت ہی تھا کہ ”یو۔ ایس بلیک وارنٹ“ امریکی سفارت خانے کو موصول ہوا کہ بھٹو کو ”عبرت کا نمونہ“ بنوانے کے لئے سفارت خانہ پاکستان کے ریاستی اداروں کی اعلیٰ ترین اتھارٹیز (عدلیہ) اور موثر ترین قوتوں (اسٹبلشمنٹ) کو اعتماد لیتے ہوئے بھٹو پھانسی کو یقینی بنائے۔ (بریگیڈیئر ترمذی، پروفائل ان انٹیلیجنس) کیونکہ اس دوران پورے ایفرو۔ ایشیا کے خطے میں پاکستان اپنی ٹوٹ پھوٹ، شکست خوردگی، رنج و ملال اور کسمپرسی کی تمام کوفتوں کو سہہ چکنے کے بعد قیادت کی جن جوہری سر بلندیوں کو چھو چکا تھا، وہ ’سفید ہاتھی‘ کی انسان کش خصلت کی راہ میں ایسا روڑہ بن کر حائل ہونے کے مترادف تھیں جیسے بھاگتی بڑھتی ریل کے آگے کوئی چٹان آ پڑے۔ یہ چٹان دراصل بھٹو کے انسانی وجود کی شکل میں پاکستان کا ریاستی وجود اور اس کی جوہری بساط کا وہ کوہ گراں تھا جسے عبرت کا نمونہ بنانا اسی وقت سے امریکی خصلت میں ٹھان لیا گیا تھا وہی خصلت جسے شی جن پنگ نے اپنے الفاظ میں پوری دنیا کے آگے اصلیت کے قالب میں ڈھال کے سمجھا دیا کہ
”Remember, that the soul of an American, beneath the smiles and friendliness, is the soul of a killer.“ (Cornish and Donaldson, 2020: World of War)
یہی وجہ ہے کہ ایک طرف امریکی خصلت نے سمائیلنگ بدھا کا روپ دھارا اور پاکستان دوستی کے چکمے سے اس کی عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے خود بھٹو کو پھانسی دلوائی، تو دوسری طرف پاکستان دشمنی کی اصل خصلت کا چھپا ہوا وار پاکستان کی اسی عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر چلانے کے لئے، پھانسی دلوانے کے اپنے فیصلے کے الٹ، پھر سے نئی کاٹ کا انداز لے اٹھا اور متنبہ کرنے پر آ گیا کہ ’پاکستانی عدالتیں نااہل، حکومت کے دباؤ میں ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کا اثر عدالتوں پر نمایاں، توہین عدالت کی کارروائی کے ڈر سے کوئی انگلی نہیں اٹھاتا۔ نیب کی وجہ سے کاروبار متاثر ہے۔ نظریاتی لحاظ سے عدلیہ آزاد، لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ امریکہ (جنگ، 24 / 07 / 21 )
امریکہ کی اس تازہ ترین تنبیہ سے بخوبی ثابت ہو جاتا ہے کہ اس کے نزدیک اصلاً پاکستان ہی وہ بھٹو ہے جسے عبرت کا نمونہ بنانا امریکہ نے اس وقت سے ٹھان رکھا ہے جب پہلے پہل بھٹو حکومت کے خلاف تحریک نظام مصطفیٰ (ص) کی مقدس کلید گھمانے کی تیر بہدف سبیل جا نکالی تھی، اور جس سے کھلنے والا ہر اگلا باب پی پی پی کی ہر آنے والی قیادت کو بدنام اور بے اثر کرنے کا مقبول عام عمرانیاتی مشن ہوتا گیا اور اس عمرانیاتی باب کا دیا ہوا مشنری سبق عمرانیاتی دور حاضر کے گنڈاسہ پوری انداز میں پوری طرح یو ”ایس بلیک وارنٹ“ کی تصدیق اور تائید میں چمک اٹھا کہ ’بھٹو نے پاکستان توڑا، اسے غدار ہی کہوں گا‘۔ (علی امین گنڈاپور)
جناب علی امین گنڈا پور کا عمرانیاتی گنڈاسہ اگر پاکستان کے خلاف بھارت کو دیے گئے سمائیلنگ بدھا کی خندہ زن طرز ادائی کی خوشنودی کا باعث ہے بھی، جو امریکہ کی طرف سے ہی بھارت کو سونپی گئی تھی، تو بھی گنڈاپور صاحب کو کم از کم اتنا ضرور سمجھنا چاہیے کہ اس سمائیلنگ بدھا کی بھارتی خندہ زنی اس پاکستان کو مضطرب انگڑائیوں سے کسمسا دیتی ہو گی جو گڑھی خدا بخش میں سلیپنگ بھٹو کا وجود لے کر گاڑ دی گئی ہوئی ہیں، کیونکہ گنڈاپور صاحب کی سیاسی جدلیات کا نشانہ پی پی پی تو ہو سکتی ہے، سلیپنگ بھٹو کی جوہری انگڑائی، جو پاکستان کو سونپی گئی ہے، وہ انگڑائی تو ہم سب پاکستانیوں کی ہے۔ آپ بھی اول و آخر پاکستانی ہیں تو بھاگم بھاگ گڑھی خدابخش پہنچیں اور سلیپینگ بھٹو کے اضطراب کو تسکین دینے کے لئے چیخ اٹھیں کہ سلیپنگ بھٹو میرا پاکستان ہے اور اسے ’عبرت کا نمونہ‘ بنانے والے یو ایس بلیک وارنٹ پر میں اسی طرح سیخ پا کھڑا ہوں جیسے بھٹو کے ہاتھوں ’سفید ہاتھی‘ لرزہ براندام تھا۔
بھٹو دشمنی پر مبنی پاکستانی عمرانیات کا مروجہ اور مقبول ترین سبق یہ لیا جاتا ہے کہ بھٹو نے پاکستان توڑا اور اس کے ثبوت میں ’ادھر تم، ادھر ہم‘ سے جڑے دو مفروضہ لفظوں سے کام لیا جاتا ہے۔ یا دوسری صورت ڈھاکہ اسمبلی کے اجلاس میں جانے والوں کو بھٹو کی ٹانگیں توڑنے والی تڑی سامنے لا دی جاتی ہے اور کبھی کبھار ان پر سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی پھبتی کس دی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس سبق کا دوسرا رخ پڑھنے کی بجائے چھپا لیا جاتا ہے کہ ادھر تم ادھر ہم کے الفاظ بھٹو صاحب کے نہیں ہیں بلکہ ’یہ اس زمانے کے روزنامہ آزاد کی سرخی تھی جو سید عباس اطہر مرحوم المعروف شاہ جی نے لگائی، جو سرخیوں کے بادشاہ تھے۔
زیادہ اہم بات یہ ہے کہ عقل کے اندھے اتنا بھی نہیں جانتے کہ ملک سولہ سالہ دوشیزہ کا دل نہیں ہوتا جو ایک نعرے (دو حرفوں کی مار) سے ٹوٹ جائے‘ (حسن نثار) ڈھاکہ اسمبلی اجلاس اگر عوامی لیگ کے چھ نکات پر مبنی کسی سمجھوتے کے بغیر منعقد ہونے سے نہ بچایا جاتا تو چھ نکات کی بنیاد پر ہونے والی آئین سازی عوامی لیگ کی عددی برتری کے بل بوتے پر یقینی تھی جو پاکستان میں صوبائی علیحدگی کا اسی طرح کی سکیم کا سامان بن اٹھتا، جیسا تحریک آزادی ہند کے دوران کابینہ مشن کی منظوری کے بعد کانگریس اپنی عددی برتری کے بل بوتے پر من مانی آئین سازی رچانے پر تل گئی تھی، تو اس کے خلاف مجبوراً قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی بائیکاٹ کرنا پڑ گیا تھا۔
پاکستان جس وقت ٹوٹا تو مارشل لاء کی حکمرانی تھی۔ فوجی ایسٹ کمانڈ کی ’لاش‘ پر گزر کر بھارتی فوج ڈھاکہ میں داخل نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت بھٹو حکمران ہوتے، یا ایسٹ کمانڈ کے خود جرنیل ہوتے، تو بھٹو طبعی موت تو یقیناً قبول کرلیتے لیکن اروڑا کے آگے ڈھیر ہونے کی ذلت آمیز زندگی کبھی قبول نہ کرتے۔ اس وقت پاکستان میں مارشل لاء کی عملداری تھی تو بھٹو کو اقتدار اسی عملداری کی سونپی گئی تھی۔ ٹیبل پر ہارے ہوئے پاکستان کی جنگ بھٹو کو لڑنی پڑی تو اپنا موقف منوانے کے لئے ان کے پاس کیا سامان تھا؟
پھر بھی قیدی چھڑوانے ہی نہیں بلکہ 195 فوجی افسروں پر جنگی جرائم کے مقدمے بھی نہیں بننے دیے۔ شکست خوردہ فوج کو حوصلہ مند بنایا، مغربی پاکستان کے مقبوضہ علاقے چھڑوا لئے، بے آئین ملک کو آئین دلوایا۔ سمائیلنگ بدھا کی بھارتی ترنگ بہکی تو اس کے آگے سلیپنگ بھٹو کی جوہری تنک تان دی کہ بھٹو پاکستان ہے اور پاکستان بھٹو!


