مجھ کو سمیٹے کوئی!


مگر بچے تو تمہارے اپنے ہیں نا!
ان سے دور رہ کر تم اپنے آپ کو سزا کیوں دے رہی ہو؟

آپ نے آنکھوں میں جمے ہوئے آنسو دیکھے ہیں کبھی، برف کے آنسو۔ عورت مرد سے تو نفرت کر سکتی ہے، اپنی اولاد سے نہیں، عورت محبت سے گوندھا ہوا وجود ہے، وہ مرد کیسا ہوگا جس کی نفرت میں عورت اپنے بچوں کو بھی دیکھنا گوارا نہ کرے، یہ کیسی نفرت ہوگی دل پہ کیا گزری ہوگی کہ اپنے وجود سے جنم لینے والی اولاد، باپ کے رویوں کی وجہ سے نفرت کی نذر ہو جائے، عورت کو اس نہج تک پہنچانے والا کیسا شخص ہوگا آپ بتا سکتی ہیں۔ وہ خود کلامی کی کیفیت میں بول رہی تھی۔

دل میں اتارے ہوئے لوگ جب دل سے اترتے ہیں تو انسان کسی صحرا میں ایسے مسافر کی طرح ہوتا ہے جس کے پاؤں آگے کے بجائے پیچھے کی طرف پڑتے ہیں اور سفر کبھی پورا نہیں ہوتا وہ اسی لمحے، اسی سمے میں ٹھہرا رہ جاتا ہے، یہ سمے کا سفر بھی کتنا عجیب ہے نا، کبھی ایسے لوگوں کو سامنے لے آتا ہے جن سے رشتہ نہ تعلق اور وہ سائے کی طرح لازم و ملزم ہو جاتے ہیں اور کبھی اپنے وجود کا ہی کوئی جز بالکل لا تعلقی کا شکار ہو جاتا ہے، یہ انسان اتنا عجیب شے ہے۔

آپ میری باتوں سے اکتا گئی ہوں گی!

دیکھو تم تھک چکی ہو، محبت سے نفرت کا سفر بہت تھکا دینے والا ہوتا ہے، کیونکہ اس کی منزل نہیں ہوتی، اور جس سفر کی منزل نہ ہو اس پر چلنے کو جسم، ذہن اور روح تینوں کو زبردستی ایک مشقت سے گزرنا پڑتا ہے، مسلسل مشقت، یادوں کی اذیت اور دل سے جڑے لوگوں سے دوری کی تپش انسان کو ہر لمحہ پگھلاتی رہتی ہے۔ مجھے معلوم ہے تم اس مرد کی بے وفائی اور اس سے نفرت کا عذاب تو جھیل ہی رہو ساتھ میں اولاد سے دوری کا عذاب تم نے خود اپنے پر مسلط کیا، وقت کبھی کسی کا نہیں رہتا، انسان کو پرسکون ہونے کے لیے بہت بار بہت کچھ بھلانا پڑتا ہے اور بھلانے کے لیے معاف کرنا پڑتا ہے، غلطیاں تو تم سے بھی ہوئی ہوں گی تمہارے پاؤں میں بھی لغزش آئی ہوگی!

یہ سماج عورت کی غلطی کو انسان کی نہیں بلکہ، عورت کی غلطی سمجھتا ہے اور کبھی معاف نہیں کرتا، تمہیں اپنے آپ کو معاف کرنا ہے تاکہ تم زندگی کی طرف آ سکو۔

نئی یادوں کے البم بنانا ہوں گے، زندگی کبھی بھی کہیں بھی رکتی نہیں، جتنی نفرت تم اس شخص کے لیے رکھتی ہوں یہ تمہیں اندر سے ختم کر رہی ہے، اس کا کوئی انجام نہیں سوائے اس کے کہ تم ہر پل بے سکون رہو۔

آپ کو معلوم ہے وہ اب بھی محبت کا پرچار کرتا ہے۔ میں اسے سزا دینا چاہتی ہوں ایسی سزا جو اسے ہر پل تڑپتا رکھے۔

میں تمہاری حالت کو سمجھ رہی ہوں۔ تم اس شخص کی دھوکے بازی کی سزا کب تک خود کو دو گی!
انسان محض اپنے آپ کو ہی بیوقوف بناتا ہے، خود کو دھوکہ دیتا ہے حقیقت سے نظریں چراتا ہے۔

کبھی کبھی انسان اپنے دکھ، خوشیاں، عداوتیں، جفائیں سب کچھ ایک اون کے دھاگے کی طرح الجھا بیٹھتا ہے، پھر خوشی اور غم کے معنی میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔

وہ خلا میں خالی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے مجھ سے مخاطب تھی۔

میڈم میں روزانہ ان دکھوں کو دل کے قبرستان میں خشک آنکھوں سے دفنا دیتی ہوں، یہ رکے ہوئے آنسو اب چبھنے لگے ہیں، میرا وجود خشک پتے کی مانند زرد ہو چکا ہے۔

اس نے دوپٹے کے پلو سے چہرہ کو ڈھانپ لیا تھا اور پھر یوں لگا جیسے ساون کھل کے برسا ہے۔
(یہ مکالمہ ہے جو میرا اپنی کلائنٹ کے ساتھ ہوا )

وہ پہلے دوبار میرے کلینک پر آ چکی تھی۔ اس کے بڑے مسئلے، نیند کا نہ آنا اور بے چینی تھی، میں اس سے جو بھی پوچھتی وہ ہاں یا ناں میں جواب دے کر خلاؤں میں گھورنے لگتی تھی، اس کے گول مول جواب اور بے کلی کی کیفیت بتا رہی تھی کہ دکھ گہرا ہے جسے وہ زبان پر نہیں لا پا رہی۔

دکھ کو عورت اور مرد میں الگ الگ نہیں برتا جا سکتا مگر عورت سے اگر اس کے ماں ہونے کا اختیار چھین لیا جائے تو شاید یہ ایک دکھ کائنات کے تمام دکھوں سے زیادہ بھاری ہے۔

انسان نفرت کرے تو اس کی تپش بہت دور تک جاتی ہے مگر اس کے لیے پہلے خود اس نفرت کی آگ میں جلنا پڑتا ہے۔ عورت کی یہی روش شاید اسے خوش نہیں رہنے دیتی، عورت محبت کرتی ہے تو اسے سینے سے لگا کر رکھتی ہے، ساری زندگی ہر خوشی اور ہر غم کو اسی محبت کے آئینے میں دیکھتی ہے اور اگر نفرت کرے تو زندگیاں جہنم بنا دیتی ہے۔ عورت کی نفسیات اسی لیے پیچیدہ ہے کہ اسے محبت اور نفرت کو بیلنس کرنے میں دشواری ہوتی ہے وہ ایک ہی سیدھ میں چلتی جاتی ہے، راستہ محبت کا ہو یا نفرت کا، عورت کو اپنا آپ سمیٹنے میں بہت مشکل ہوتی ہے۔

شاید اپنی اس فطرت سے وہ خود بھی واقف ہوتی ہے اسی لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ برے حالات میں بھی گھر نہ چھوڑنا پڑے کیونکہ وہ اپنے آپ کو سمیٹ نہ پائے گی۔

Facebook Comments HS