پاکستان میں عورتوں سے مغرب کے مقابلے میں بہتر سلوک کیا جاتا ہے؟

پاکستان میں مغرب کے مقابلے میں عورتوں کے حقوق اور ان سے روا رکھے جانے والے سلوک کے حوالے سے بات کی جائے تو قریباً ہر دوسرا فرد دعویٰ کرتا ہے کہ وطن عزیز میں عورتوں سے بہت اچھا سلوک کیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو جتنی عزت دی جاتی ہے مغرب سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہاں عورتوں کو جتنے حقوق حاصل ہیں کسی معاشرے میں نہیں ہیں۔

چند مثالیں بھی دی جاتی ہیں جیسے مغرب نے عورت کو آزادی کے نام پر کولھو کا بیل بنا دیا ہے۔ ان کی عورتیں مردوں کی طرح دن بھر محنت مشقت کرتی ہیں۔ نوکریاں کرتی ہیں۔ پیسے کمانے میں لگی ہیں جب کہ ہم نے عورت کو گھر کی ملکہ بنا کر رکھا ہے۔ مرد ’بے چارہ‘ خود محنت مشقت کرتا ہے اور عورت آرام سے گھر میں بیٹھ کر اس کے پیسوں پر عیش کرتی ہے۔ مغرب کی عورت کو کوئی تحفظ حاصل نہیں جب کہ ہماری عورتوں کے محافظ ان کے باپ، بھائی اور شوہر ہیں۔ یہاں عورتیں اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزار سکتی ہیں۔ نکاح سے پہلے بھی ان کی مرضی پوچھی جاتی ہے پھر شادی ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

اب ذرا اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائیے کہ ہمارے ہاں ایک عورت کس طرح پروان چڑھتی ہے۔ پہلے دن سے ہی ایک لڑکی کے کانوں میں یہ بات ڈالی جاتی ہے کہ اور کچھ آئے نہ آئے اسے کھانا بنانا، کپڑے استری کرنا، صفائی دھلائی آنی چاہیے کیوں کہ کل سسرال جانا ہے اور شادی کے بعد یہی کچھ کرنا ہے۔ بعد میں ہوتا بھی یہی ہے لڑکی انجینئیر یا ڈاکٹر بھی بن جائے تو عموماً گھر بٹھا دی جاتی ہے۔

مرضی کی بات بھی خوب ہے ایک لڑکی اپنی مرضی کے مضامین پڑھ نہیں سکتی، بال اپنی مرضی کے مطابق کٹوا نہیں سکتی، اپنی مرضی کا لباس پہن نہیں سکتی اور اپنی زندگی کے فیصلے بھی اپنی مرضی سے کر نہیں سکتی۔ اگر کوئی لڑکی اپنی پسند کے جیون ساتھی کا نام بھی لے تو اکثر افراتفری میں کسی ناپسندیدہ کزن یا بوڑھے سے بیاہ دی جاتی ہے یا غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دی جاتی ہے۔ نکاح سے پہلے مرضی بھی خاندان اور معاشرے کے شدید دباؤ میں با آسانی حاصل کر لی جاتی ہے۔

صحت اور تعلیم کی سہولتوں کی دستیابی کا معاملہ ہو یا روزگار کے مواقع کا حصول، پاکستانی عورتیں مردوں سے بہت پیچھے ہیں۔ مغرب میں تو عورت کو برابر کے مواقع حاصل ہیں۔ اسی لیے وہ معاشی طور پر مستحکم اور خود مختار ہے اور اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کے لیے آزاد ہے۔

جہاں تک ہمارے ہاں عورت کے احترام اور بہتر سلوک کی بات ہے تو واقعی اتنی عزت تو کسی معاشرے میں عورت کو حاصل نہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو جب اخبارات میں کسی عورت کے ریپ، قتل، تشدد کے حوالے سے کوئی خبر نہ چھپی ہو۔ عورت کا قتل تو اتنی معمولی بات سمجھی جاتی ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو دیسی لبرلز، موم بتی مافیا، مغرب کے آلہ کار اور نہ جانے کن کن خطابات سے گالیوں سمیت نوازا جاتا ہے۔ ”یہ ہماری غیرت کا معاملہ ہے“ کہہ کر منہ بند کر دیا جاتا ہے۔

یہی عزتوں کے رکھوالے پنچایتوں اور جرگوں میں فیصلے کرتے ہیں کہ جس درندے نے لڑکی کا ریپ کیا ہے اس کی بہن کے ساتھ متاثرہ لڑکی کا بھائی ریپ کرے گا۔ جھگڑے نمٹانے کے لیے بھی لڑکی ہی قربان ہوتی ہے کبھی دو سالہ بچے سے بیاہی جاتی ہے تو کبھی اسی سال کے بوڑھے سے۔ گول روٹیاں نہ پکا سکنے کے جرم میں بھی بڑی ’عزت‘ سے تشدد کر کے مار دی جاتی ہے اور اگر کہیں محبت کا جرم کر بیٹھے تو پھر ایسی بھیانک موت دی جاتی ہے کہ دنیا مثال دے۔ جیسے چند برس پیشتر نتھیا گلی کے نواح میں ایک لڑکی کو اسی جرم میں ایک گاڑی میں بند کر کے زندہ جلا دیا گیا تھا۔

مغرب میں ’اتنی عزت‘ عورت کو نہیں جاتی۔ وہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کے لیے آزاد ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں عورتوں کو جو ملک کی آبادی کا نصف ہیں، محبوس رکھا جاتا ہے، تعلیم کے بھرپور مواقع نہیں دیے جاتے، جو کسی نہ کسی طرح پڑھ لکھ کر ملازمت کے حصول کے لیے باہر نکلیں انہیں جنسی ہراسانی کا شکار بنایا جاتا ہے، ان کے کردار پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے حتیٰ کہ عورتیں گھروں میں اپنی پیدائش کی وجہ سے بھی طعنے سنتی ہیں۔

شادی شدہ عورتیں گھر کے اندر بھی محفوظ نہیں ہیں۔ کسی کو حقوق کی آواز اٹھانے پر گلا دبا کر مار دیا جاتا ہے تو کسی کو ناکردہ جرم کی پاداش میں تیل چھڑک کر جلا دیا جاتا ہے۔ عورت کا ریپ ہو تو قصور وار بھی اسی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ وہ باہر نکلی ہی کیوں تھی؟ وہ وہاں گئی ہی کیوں تھی؟ اس نے کپڑے ایسے پہنے ہوں گے؟ ضرور اس نے کوئی اشارہ دیا ہو گا؟ سو طرح کی دلیلیں دی جائیں گی۔ کسی نہ کسی طرح الزام عورت کے سر ہی آئے گا۔

دو مردوں کے درمیان جھگڑا ہو یا مذاق گالیوں کا تبادلہ کریں گے اور ان گالیوں میں تذلیل عورت کی ہی کی جائے گی۔ عورت کو اندھیری کوٹھڑیوں میں دھکیلا جاتا ہے، پامال کیا جاتا ہے، ملکیت، کٹھ پتلی اور سیکچوئیل اوبجیکٹ سمجھا جاتا ہے۔ عورت کو یہاں کچھ بھی سمجھا جاتا ہو بس انسان نہیں سمجھا جاتا۔ اس کے باوجود اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں عورتوں سے مغرب کے مقابلے میں بہتر سلوک کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے نہ آپ اپنے سماج کو جانتے ہیں نہ مغرب کو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words