نور مقدم کیس: قانونی اخراجات کے لیے قائم ’گو فنڈ می‘ پیج بند، ملزم کے والدین کی ضمانت پر سماعت چار اگست کو

نور مقدم قتل کیس میں قانونی اخراجات برداشت کرنے کے لیے آن لائن پیلٹ فارم ’گو فنڈ می‘ پر بنایا گیا پیج کیس کی پیروی کرنے والی ٹیم اور نور کے خاندان کی گزارش پر بند کر دیا گیا ہے۔

اس فنڈ میں، جو کہ امریکہ میں مقیم مقدم خاندان کے ایک عزیز کی جانب سے بنایا گیا تھا، اب تک تقریباً 50 ہزار ڈالر جمع ہو چکے تھے۔

نور مقدم قتل کیس کی پیروی کرنے والی قانونی ٹیم کے سربراہ شاہ خاور نے بی بی سی کو بتایا کہ فنڈز اکھٹے کرنے کا معاملہ جب نور مقدم کے والد اور ان کے موکل شوکت مقدم کے نوٹس میں آیا تو انھوں نے اس فنڈ کو فوری طور پر روکنے کا کہا۔

پاکستان کے سابق سفارت کار کی بیٹی نور مقدم کے قتل پر جہاں پاکستان سمیت دنیا بھر میں آواز اٹھائی گئی وہیں دوسری طرف نور مقدم کے ایک رشتہ دار طارق غفار نے تمام ملزمان کو منطقی انجام تک پہنچانے کی قانونی جنگ لڑنے کے لیے ’گو فنڈ می‘ ویب سائٹ پر پیج بنایا۔

شاہ خاور کے مطابق اس سلسلے میں مقتولہ نور مقدم کی فیملی کی طرف سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے کی قانونی پیروی کے لیے فنڈ اکھٹا کرنے کی کوشش اس قانونی جنگ کا کچھ بوجھ کم کرنے کے مترادف ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ابھی بہت سے قانونی محازوں پر لڑنا باقی ہے اور یہ فنڈز مستقبل میں معاملے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے میں پیش بندی کے طور پر استعمال ہوں گے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مد میں جو فنڈز اکھٹے ہوئے ہیں ان میں سے اگر کچھ رقم بچ گئی تو وہ ایسے ہی دیگر مقدمات کی پیروی کے لیے استعمال ہوں گے۔

اس بیان میں مقتولہ نور مقدم کے ورثا نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے اس فنڈ میں حصہ ڈالا اور یہ بھی کہا کہ یہ معاملہ پیسوں کا نہیں ’بلکہ ہم تمام لوگ نور مقدم کے لیے انصاف چاہتے ہیں۔‘

دوسری جانب بہت سے وکلا نے نور مقدم کا مقدمہ بلامعاوضہ لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ان وکلا میں ایک نام سیف الملوک ایڈووکیٹ کا بھی ہے جنھوں نے توہین مذہب کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو رہائی دلوائی تھی۔

اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے متعدد وکلا نے بھی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ بلامعاوضہ لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

نور مقدم کے ورثا نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ اس مقدمے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مستقبل میں مختلف عدالتی محازوں پر وکلا کی خدمات درکار ہوں گی اور اس کے لیے یہ فنڈ مددگار ثابت ہو گا۔

نور مقدم کے قتل کے مقدمے کی پیروی کرنے والی لیگل ٹیم کے سربراہ شاہ خاور کا کہنا ہے کہ وہ تمام وکلا کے اس جذبے کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن مقدمے کی پیروی کے لیے تو ایک، دو وکلا نے ہی پیش ہونا ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب تک ان کے مؤکل چاہیں گے تو اس وقت تک وہ اس مقدمے کی پیروی کرتے رہیں گے۔

ضمانت کی درخواستوں میں کیا ہوا؟

دوسری جانب اسلام آباد کی مقامی عدالت نے نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں شریک ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواست پر پراسیکیوشن اور اس مقدمے کے مدعی کو چار اگست کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

عدالت نے ملزمان کے وکلا سے کہا ہے کہ وہ اگلی سماعت پر اپنی درخواستوں کے حق میں دلائل دیں۔

ذاکر جعفر

BBC
عدالت نے شریک ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواست پر پراسیکیوشن اور مقدمے کے مدعی کو چار اگست کا نوٹس جاری کیا ہے

واضح رہے کہ یہ دونوں ملزمان اس مقدے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین ہیں اور ان پر اعانت مجرمانہ یعنی شریک جرم ہونا اور حقائق کو چھپانے کا الزام ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نور مقدم قتل کیس: ’یہ ایک بہت ہی گھناؤنا جرم ہے اور میں چاہتا ہوں کہ انصاف ہو‘

نور مقدم کیس: وہ قتل جس نے اسلام آباد کو ہلا کر رکھ دیا

نور مقدم قتل کیس: امریکی شہری ہونے کی بنا پر ملزم کو کیا مدد مل سکتی ہے؟

اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج محمد سہیل نے جمعے کے روز ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کی تو ملزمان کے وکلا راجہ رضوان عباسی اور اسد کمال عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز میں ہی عدالت نے استفسار کیا کہ اس مقدمے کا تفتیشی افسر کون ہے جس پر پراسیکوشن کے وکیل ساجد چیمہ کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کا تفتیشی افسر ملزم ظاہر جعفر کو لے کر لاہور کی فرانزک لیبارٹری گیا ہے جہاں پر ان کا پولی گراف ٹیسٹ بھی ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کی فائل تفتیشی افسر کے پاس ہی ہے۔

اس موقع پر مقتولہ نور مقدم کے والد اور اس مقدمے کے مدعی شوکت مقدم روسٹم پر آئے اور انھوں نے کہا کہ انھوں نے بھی اس مقدمے کی پیروی کے لیے وکیل کرنا ہے لہذا اس کے لیے مہلت دی جائے۔

عدالت نے مدعی مقدمہ کو اس کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ وہ کل تک اپنا وکیل کر لیں جس پر شوکت مقدم کا کہنا تھا کہ انھیں پیر یعنی دو اگست تک وکیل کرنے کی اجازت دی جائے۔

جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگلے ماہ سے تو عدالتوں میں موسم گرما کی تعطیلات شروع ہو جائیں گی۔

ظاہر جعفر

BBC
ملزم ظاہر جعفر نے دوران تفتیش قتل کا اعتراف کیا ہے لیکن ابھی تک پولیس مجسٹریٹ کے سامنے ملزم کا اعترافی بیان ریکارڈ کروانے میں کامیاب نہیں ہوئی

اس موقع پر ملزم ذاکر جعفر کے وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے 31 جولائی کو اس معاملے پر بحث کر لیتے ہیں۔

ملزمہ عصمت بی بی کے وکیل اسد جمال کا کہنا تھا کہ ان کی مؤکلہ کو بغیر کسی جرم کے جیل میں بند کیا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس مقدمے کی پیروی کے لیے لاہور سے آئے ہیں لہذا 31 جولائی کو ضمانت کی ان درخواستوں پر سماعت کی جائے تاہم عدالت نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور ضمانت کی ان درخواستوں پر اگلی سماعت چار اگست کو مقرر کی ہے۔

ضمانتوں کی درخواستوں پر سماعت سے پہلے کمرہ میڈیا نمائندوں سے بھرا ہوا تھا جس کا عدالت نے نوٹس لیا اور تمام میڈیا نمائندوں کو کمرہ عدالت سے باہر نکلنے کا حکم دیا تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ جب ان درخواستوں کی سماعت شروع ہو گی تو وہ اس کی کوریج کے لیے کمرہ عدالت میں آ سکتے ہیں۔

اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو 31 جولائی کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ گزشتہ سماعت کے دوران پراسیکیوشن کے وکیل نے یہ کہہ کہ عدالت سے تین روز کا ریمانڈ مانگا تھا کہ ملزم کے پولی گرافک اور ویڈیوز ٹیسٹ کے لیے لاہور لے کر جانا ہے اور لیے ان کا جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔

واضح رہے کہ ملزم گزشتہ دس روز سے جسمانی ریمانڈ پر پولیس تحویل میں ہے۔

دوران تفتیش ملزم نے اس قتل کا اعتراف کیا ہے لیکن ابھی تک پولیس مجسٹریٹ کے سامنے ملزم کا اعترافی بیان ریکارڈ کروانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words