فواد چوہدری اور ججوں کی قابلیت
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے ججوں کی تعیناتی میں سنیارٹی نہیں قابلیت دیکھنی چاہیے. فواد چوہدری نے بدھ کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں ایک دو دن سے حیران ہوں کہ پاکستان بار کونسل اس بات پر ہڑتال پر چلی گئی کہ آپ نے سنیارٹی پر جج نہیں لگایا.’ ‘بھئی! سنیارٹی کیا ہوتی ہے، بندہ قابل ہونا چاہیے. اگر آپ اہل ہیں تو آپ کو اوپر جانا چاہیے اور اگر نہیں ہیں تو نیچے.'(اردو نیوز)
"پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اس معاملے پر وفاقی وزیر فواد چوہدری کے اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں انھوں نے سینیارٹی کے اصول کے طور پر ججز کی تقرری کو بیوقوفانہ فعل قرار دیا تھا. فواد چوہدری نے کہا تھا” سینیارٹی کیا ہوتی ہے. ججز کی تعیناتی ان کی قابلیت کی بنیاد پر کی جانی چاہیے. اگر ایک جج قابل نہیں تو اسے صرف عمر کی وجہ سے عذاب بنا کر مسلط نہیں رکھا جاسکتا. اگر کوئی جج قابل ہے تو اسے اوپر جانا چاہیے اور قابل نہیں تو اسے آگے نہیں جانا چاہیے. "( وائس آف امریکا)
ججوں کی سنیارٹی سے متعلق وزیراطلاعات کے خیالات عالیہ کی جڑیں تاریخ میں ہیں اور بات لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار حسین چوہدری تک جاتی ہے جو فواد چوہدری کے چچا جان تھے. ممتاز قانون دان اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنما حامد خان نے اپنی کتاب A History of the Judiciary in Pakistan میں لکھا ہے کہ چیف جسٹس کی حیثیت سے افتخار حسین چوہدری کا دور لاہور ہائی کورٹ کی تاریخ کا غالباً سیاہ ترین دور تھا جس میں کرپشن کا دور دورہ تھا.
وہ پرویز مشرف کے فیورٹ جج بن گئے جو ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے سب کچھ کرنے پر آمادہ رہتے. بار ایسوسی ایشز کے انتخابات میں کھلے بندوں مداخلت کرتے. حامد خان کے مطابق، ان کے زمانے میں ہائی کورٹ ٹاؤٹوں اور چکربازوں کا ٹھکانہ بن گئی. حامد خان نے کتاب میں فاضل جج صاحب کے ایک بھتیجے کا ذکر بھی کیا ہے جس نے چچا جان کے عہد انصاف میں وکیل کی حیثیت سے خوب فائدہ تو اٹھایا ہی اٹھایا، ماتحت عدلیہ میں تبادلوں کے سلسلے میں بھی اس کا عمل دخل رہا.
حامد خان نے کتاب میں بھتیجے کا نام نہیں لکھا لیکن ایک ٹی وی چینل پر وہ یہ تصدیق کرچکے ہیں کہ یہ ذات شریف فواد چوہدری ہی ہیں. آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ان سب باتوں کا فواد چوہدری کے ان بیانات سے کیا جوڑ بنتا ہے جو ہم نے اس تحریر کے شروع میں نقل کیے ہیں. بات اصل میں یہ ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی حیثیت سے افتخار حسین چوہدری کا تقرر بھی سنیارٹی کا اصول روند کر ہوا تھا. افتخار حسین کے "عہد زریں” کے بارے میں تو حامد خان کی کتاب A History of the Judiciary in Pakistan کے حوالے سے آپ نے جان ہی لیا.
اب حامد خان کی ایک دوسری کتاب Constitutional and Political History of Pakistan سے رجوع کرتے ہیں جس کا اردو ترجمہ "پاکستان کی آئینی و سیاسی تاریخ” (مترجم : وقار عزیز بھٹہ) میرے سامنے ہے جس میں لکھا ہے. : "جسٹس فلک شیر (چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ) نے یقین دہائی کرائی کہ حساس نوعیت کے معاملات جن کا تعلق فوجی حکومت سے ہوگا یا تو ان کی سماعت نہیں کی جائے گی اور اگر کسی طرح ایسا کرنا ممکن نہ ہوا اور سماعت کرنی پڑی تو کسی نہ کسی بہانے پر اس میں تاخیر کی جائے گی اور عملی طور پر ان کو خارج کر دیا جائے گا تاہم وہ ماتحت عدلیہ کے کرپٹ ججز کے ساتھ سختی سے پیش آئے اور بے شمار ججوں کو یا تو انہوں نے ملازمت سے فارغ کر دیا یا ان کو معطل کر دیا. انھوں نے ان تمام قابل اعتراض شہرت کے حامل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو عہدوں سے ہٹا کر ان کی جگہ پر اچھی شہرت کے حامل ججز کو تعینات کیا.”
2002 کے الیکشن سے پہلے فوجی حکومت نے مسلم لیگ ق کے حق میں منظم دھاندلی کا منصوبہ بنایا، جس کی کامیابی کے لیے اسے اپنی مرضی کے کمزور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چاہیے تھے جو ریٹرننگ افسر بن کر تابعداری کریں. ایک سکیم کے تحت جسٹس فلک شیر کو سپریم کورٹ بھیج کر افتخار حسین چوہدری کو چیف جسٹس بنایا گیا.
حامد خان کے بقول "آخر جسٹس افتخار حسین چوہدری جو کہ ایک جونئیر جج تھے، فوجی حکومت کے مزاج کے مطابق خدمات انجام دینے پر رضا مند ہوئے اور انھیں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تعینات کیا گیا. چند دنوں کے اندر انھوں نے ان تمام ایماندار ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز جن کی تعیناتی جسٹس فلک شیر نے کی تھی کے تبادلے کر دیے گئے اور ان کی جگہ فوجی حکومت کی خواہش پر قابل اعتراض شہرت کے حامل ججوں کو تعینات کیا گیا.” چیف جسٹس پاکستان شیخ ریاض احمد، چیف الیکشن کمشنر جسٹس ارشاد حسن خان اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار حسین چوہدری. شفاف انتخابات کے لیے عظیم ججوں کے ایسے lethal combination کی نظیر تاریخ میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گی. باقی سیاسی انجینئرنگ کے لیے میجر جنرل احتشام ضمیر سرگرم عمل تھے.
اب ہم جسٹس (ر) فخر النسا کھوکھر کی کتاب "وکالت، عدالت اور ایوان تک” کو کھولتے ہیں. جسٹس صاحبہ افتخار حسین چوہدری سے سینئر تھیں اور ایک وقت میں یوں لگ رہا تھا کہ وہ میرٹ پر لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس بن جائیں گی لیکن اس منصب کے لیے، ان سے جو بھاری قیمت مانگی جا رہی تھی اس کے واسطے وہ راضی نہیں تھیں.
انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک دن کوئی صاحب ان سے ملنے آئے جو ان سے حکومت کی طرف سے بھیجے گئے آئینی فیصلوں پر ٹھپا لگانے کی یقین دہانی اور گارنٹی میں پیشگی استعفے کے طلب گار تھے. جج صاحبہ نے انھیں باہر کا رستہ دکھایا. اس واقعے سے انھیں اندازہ ہو گیا کہ فوجی حکومت کٹھ پتلی چیف جسٹس کی تلاش میں ہے. ایک روز جسٹس فخر النسا کھوکھر کو افتخار حسین چوہدری نے بتایا کہ وہ ان کی جگہ چیف جسٹس بن رہے ہیں. انھیں دانہ ڈالا کہ اگر وہ اس فیصلے کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیں تو شاید حکومت انھیں سپریم کورٹ کا جج بنا دے. قصہ مختصر، افتخار حسین نے منصب جلیلہ حاصل کر لیا. خاتون جج سے ناانصافی کے خلاف جو آوازیں اٹھیں ان میں ایک توانا آواز قاضی فائز عیسیٰ کی تھی جو اس وقت سپریم کورٹ کے جج ہیں اور ریاستی ناخداؤں کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں اور فواد چوہدری ان کے بارے میں زبان طعن دراز کرتے رہے ہیں.
جسٹس فخر النسا کھوکھر چیف جسٹس تو نہ بنیں لیکن ان سے پوچھے بغیر انھیں ‘ٹربیونل فار پروٹیکشن آف انوائرمنٹ’کا چیئرپرسن بنا دیا گیا. اس تقرری کے بعد افتخار حسین نے انھیں فون پر جو کہا، اس سے ان کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوجاتا ہے. جسٹس صاحبہ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں: "جسٹس افتخار حسین چوہدری نے مجھے فون کیا اور مبارکباد دی، اور کہا کہ بی بی آپ کو بہترین امپورٹڈ کاریں ملیں گی، آپ کی تنخواہ آپ کی موجودہ تنخواہ سے چار گنا زیادہ ہوگی اور آپ پورے پاکستان کی ماحولیات کی چیئرمین ہوں گی. آپ کو اس عہدے کی مراعات کا اندازہ نہیں ہے. آپ نے میری بات نہیں مانی اور ہمیں مجبوراً یہ قدم اٹھانا پڑا لیکن پھر بھی آپ کا خیال رکھا گیا ہے.”
فخر النسا کھوکھر نے یہ عہدہ قبول نہ کیا اور جج کی حیثیت سے کام کرتی رہیں، انھوں نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ کس طرح افتخار حسین چوہدری نے ان کے کام میں روڑے اٹکائے جس کی وجہ سے وہ ذہنی اذیت سے دوچار رہیں. عہد افتخار کا خلاصہ، ان کے اس جملے میں سمٹ آیا ہے :” میرے خیال میں یہ عدلیہ کا سیاہ ترین دور تھا "


