سرائیکی کا آل راؤنڈر ادیب

کسی بھی قوم کے ادب کا تعلق اس قوم کے عروج سے جڑا ہوتا ہے۔ مجھ ناچیز کی رائے میں جب تک کوئی قوم اپنے عروج پر رہتی ہے اس کی ادبی تخلیقات بھی بام عروج پر ہوتی ہیں لیکن جیسے ہی وہ زوال کے عمیق گڑھوں میں گرتی ہے اس کے تخلیق کاروں کے اذہان اور قلم بھی آہستہ آہستہ جواب دینا شروع ہو جاتے ہیں لیکن اس زوال کے دور میں کچھ ایسے سر پھرے اور دیوانے بھی ہوتے ہیں جو اپنی قوم کی ثقافت اور لولے لنگڑے ادب کی نہ صرف بیساکھی بنتے ہیں بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیت سے دم توڑتے ادب کے لئے آکسیجن کا کام کرتے ہیں۔

موجودہ ڈیجیٹل اور جدید دور میں جہاں دن بدن ہماری قوم شاعری اور نثر سے دور ہوتی جا رہی ہے، وہاں ادب کے تخلیق کار بھی دم توڑتے نظر آتے ہیں۔ کتاب سے دوری کے ساتھ ساتھ محافل مشاعرہ کو کوویڈ جیسی بیماری نے یوں لپیٹ میں لیا ہے کہ اب تو مشاعرے بھی زوم میٹنگ پر ہو رہے ہیں۔ اگر بات کی جائے علاقائی ادب کی تو میرے ذاتی مشاہدے میں ایسے ایسے گدڑی کے لعل ہیں جنہوں نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے نہ صرف علاقائی ادب کی کشت ویراں کی آب یاری کی ہے بلکہ اپنے خون جگر سے اس کو سینچا ہے، انہی دیوانوں میں ایک نام مشہور سرائیکی ادیب ”جاوید آصف“ کا ہے۔

جاوید آصف نہ صرف ہمہ جہت خوبیوں کا مالک ہے بلکہ اپنے قلم اور ذہن سے ادب دشمن عناصر کے خلاف ایسی چو مکھی لڑنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ موصوف کی آمدنی کا واحد ذریعہ ساہن والا قصبہ میں موجود ایک چھوٹا سا سکول ہے لیکن جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے اس درویش صفت انسان نے جو کچھ پس انداز کیا، اس کو اپنی تخلیق کی اشاعت کے لئے خرچ کر ڈالا، ایک ہم ہیں کہ اپنی تخلیق کا ایک مجموعہ بھی تا حال شائع نہیں کروا سکے۔ ماضی میں تو کئی بار مجھ سے جاوید بھائی ایک مشہور شخصیت کے بارے میں شکوہ کناں بھی ہوئے جنہوں نے ان کی کتاب شائع کرنے کے بہانے ساری جمع پونجی ہڑپ کر ڈالی، لیکن صد شکر کہ پہلی بار ان کا ناول ”وستیر“ پاکستان پنجابی ادبی بورڈ لاہور نے شائع کر ہی ڈالا۔

اگر بات کی جائے شاعری کی تو یہ نہ صرف ادب کی اہم ترین صنف ہے بلکہ اس کو شہر ادب کا حکمران کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کیونکہ مجھ ناچیز کے خیال میں الفاظ کو موتی، پھول اور گجروں میں تبدیل کرنا ایسا ہنر ہے جو ہر فرد کے نہ تو بس میں ہے اور نہ ہی معاشرے کا ہر فرد اتنا با کمال ہوتا ہے کہ الفاظ سے ایسی مرصع سازی کر سکے۔ جاوید ٓصف بھی ایسی ہی ایک باکمال شخصیت ہیں جو آج سے پانچ سال پہلے فیس بک پر مجھ سے متعارف ہوئے، موصوف کی مترنم شاعری سن کر میں نے ان کی تلاش شروع کی اور جلد ہی ساہن والا (راجن پور) کے درویش منش اور سادہ صفت جاوید آصف تک جا پہنچا۔

پھر ان کی محبتوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا، جو ابھی تک جاری ہے اور امید ہے تا حیات جاری رہے گا۔ محبت کے اسی سفر کے دوران مجھے جاوید آصف کی ”کھارے چڑھدی سک“ اپنے ”وساندر“ کے سفر سے ہوتی ہوئی ”جنج کچاوے چڑھی“ تک جا پہنچی۔ جہاں میں نے موصوف کی شاعری کا حظ اٹھایا وہاں ان کی افسانوں کی مطبوعہ کتاب ”لئی ہار“ اور سرائیکی متھا لوجی جیسی پر مغز تحقیق کے مطالعے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ لیکن الفاظ کے اس کوزہ گر کو جب بھی میں نے سنا تو ان کی مترنم آواز کے زیر و بم میں یوں کھو گیا کہ منہ میں شیرینی گھل گئی۔ ان کی شاعری کو سن کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہوا میں پھول کھل رہے ہوں، الفاظ کے موتیوں کو لعل و جواہر میں تبدیل کرنے والے اس جوہری کا سفر تا حال جاری ہے۔

محترم باسط بھٹی ہمارے سرائیکی وسیب اور ادب کا بہت بڑا نام ہیں، حال ہی میں جب انہوں نے جاوید آصف کی تعریف و توصیف میں چند الفاظ سوشل میڈیا پر لکھے تو میں نے بھی یہ کہا کہ آصف ہمارے سرائیکی ادب کا آل راؤنڈر ہے لیکن متعصب دانش ور اس درویش صفت انسان کو کرکٹ کے کھیل کی طرح بارہواں کھلاڑی سمجھتے ہیں۔ اگر ان کی نثر کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ موصوف پوری سعی کر رہے ہیں کہ سرائیکی کی معدوم اصطلاحات اور الفاظ کو زندہ رکھا جائے۔

اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے وہ جا بجا ایسے الفاظ کے ساتھ ساتھ ان اشیاء کا بے مہابا استعمال کرتے ہیں جو جدیدیت کی نظر ہو رہے ہیں۔ میں نے جب بھی ان کے کسی افسانے یا غزل کو پڑھا مجھے بعض اوقات ان کی وضاحت کے لئے جاوید بھائی کو فون کر کے اس کا مطلب پوچھنا پڑا۔ اگر کسی کو یقین نہیں تو ان کی کتاب سرائیکی متھا لوجی کو کھلو کر دیکھ لے جہاں ہمارے سرائیکی وسیب کی ادبی وراثت کا بھر پور احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ سمندر کو ایک کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جہاں شادی بیاہ کی رسوم میں تبدیلی آ رہی ہے، وہاں کچھ ایسی اشیاء بھی معدوم ہوتی جا رہی ہیں جو ہماری وسیب کا نہ صرف حصہ تھیں بلکہ ہماری جزو زندگی تھیں، ان کا ذکر ہمیں ان کی پرمغز تحقیق پر مبنی کتاب سرائیکی متھا لوجی میں ملتا ہے۔

افسانہ یعنی شارٹ سٹوری کسی بھی علاقائی زبان کے رسوم و رواج کے ساتھ ساتھ اس علاقے کے ماحول اور ثقافت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ سرائیکی وسیب کی ہمیشہ سے یہ خوش قسمتی رہی ہے کہ اس خطہ مردم خیز میں ایسے فنکار اور تخلیق کار پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ ایسی ہی سرائیکی افسانوں کا بہترین مجموعہ ”لئی ہار“ کے نام سے جاوید آصف کا ہے۔ جس میں نہ صرف جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا ذکر ہے بلکہ معاشرتی نا انصافی کے ساتھ ساتھ ہماری ثقافت کی بھر پور انداز میں عکاسی کی گئی ہے۔

زن، زمین کے بکھیڑوں کے نقصانات پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ مصنف نے اس کتاب کے موضوع کے ساتھ مکمل انصاف کیا ہے۔ کسی بھی زوال پذیر معاشرے کی ثقافت اس معاشرے کے افراد کی تگ و دو سے ہی زندہ رہتی ہے لیکن ایک صاحب دل ادیب کی بھر پور کوشش ہوتی ہے کہ اپنی تخلیق کے ذریعے اس کو آنے والی نسل تک پہنچائے اور یہ کام سرائیکی ادب کا آل راؤنڈر بخوبی انجام دے رہا ہے۔ حال ہی میں ان سے ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ موصوف آج کل جارج آر ویل کے ناول 1984 کا سرائیکی ترجمہ کرنے میں مصروف ہیں جو ایک، دو ہفتے میں مارکیٹ میں آنے والا ہے۔

٭٭٭٭٭

Comments - User is solely responsible for his/her words