میری رائے اور سوشل میڈیا کے فتوی ساز


عید پر گاؤں جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں پرایک رشتے دار بزرگ نے پوچھا کہ کیا کرتے ہو؟ میرے بتانے پر کہ میڈیا پر کام کرتا ہوں تو انہوں نے کہا کہ اچھا دیکھا تو نہیں کبھی ”سوشل“ میڈیا پر، سوشل میڈیا سے مراد ان کی فیس بک تھا کیونکہ گاؤں، قصبوں میں بس فیس بک ہی سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہے کیونکہ اکثر سیلولر کمپنیوں کی جانب سے فیس بک فری میں استعمال کرنے کے پیکجز دیے جاتے ہیں۔ اب میں ان کو سمجھایا کہ سوشل میڈیا یعنی کہ فیس بک اور میڈیا میں فرق ہے ہم لوگ ٹی وی کے لئے کام کرتے ہیں اور کام کرنے والے افراد میں سے ہی کسی کا اپنا اپنا کام ہوتا ہے اور کوئی سکرین پر آتے ہیں کوئی سکرین کے پیچھے بیٹھ کر کام کرتے ہیں جن میں سے ایک میں بھی ہوں۔

گزشتہ دنوں جب میں نے اسلام آباد کی نور مقدم پر ایک تحریر لکھی تو اس وقت مجھے پتہ چلا کہ سوشل میڈیا کی کیا طاقت ہے۔ حالانکہ اس تحریر میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا کہ جس میں خدانخواستہ کسی کی دل آزاری کا پہلو سامنے آتا ہو مگر کیونکہ آج کل ہر کسی کی رسائی میں سوشل میڈیا ہے تو ہر کوئی اپنی مرضی کے تجزیے تبصرے کرنے (اگلے کے اسی حق کو روند کر ) کی آزادی کو بھرپور استعمال کرتا ہے۔ ہم سب کے مدیران کا شکریہ کہ انہوں نے میری تحریر کو جگہ دی، وگرنہ تو کسی اخبار کے معیار پر پورا نہ اتر پائی۔ بہرحال اس تحریر کے بعد آنے والے تبصروں اور تجزیوں نما فتوؤں کے بعد میں یہ تحریر لکھنے پر مجبور ہوا، ایسا صرف میرے ساتھ نہیں دیگر ان لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے جو اپنے حق تقریر، تحریر کا استعمال کرتے ہوئے کوئی معاشرتی سدھار کے پہلو کی نشاندہی کرتے ہیں۔

امید ہے کہ اس تحریر کو آپ بیتی نہیں جگ بیتی کے طور پر لیتے ہوئے اخبار میں بھی اشاعت کے قابل سمجھا جائے گا۔ بطور اسلامی معاشرہ عورت اور مرد کے لئے حدود و قیود مقرر کیے گئے ہیں اسی طرح سے والدین اور اولاد کے حقوق و فرائض کا بھی تعین کیا گیا ہے۔ نور مقدم کا اندوہناک قتل دراصل ان حقوق و فرائض کی پہلو تہی کا بھی شاخسانہ ہے جن پر عمل کر کے اس واقعہ کو رونما ہونے سے بچایا جاسکتا تھا۔ اب اس تحریر کو مستقبل کے واقعات سے بچاؤ کے لئے دی گئی تجاویز کے طور پر نہیں بلکہ اس اندوہناک قتل کی حمایت کے طور پر لیا گیا جس کے بعد کسی نے دو ٹکے کا دانشور، کسی نے لوئر مڈل کلاس کا نوآموز لکھاری تو کسی نے جاہل ذہنیت کا انسان جیسے فتوی داغے۔ اب شاید اس بلاگ میں تبصرے کرنے والوں کے نام اور ان کے تبصرے من و عن چھاپ دیے جائیں۔

پاکستان سے جرمنی منتقل ہونے والی ایک محترمہ نے کمنٹ کیا کہ چونکہ مرحومہ باشعور تھیں اور قانونی طور پر اپنی آزادی کا استعمال کرتے ہوئے سفاک قاتل سے مل رہی تھیں، میری بہن جرمنی میں تو ایسا ہوتا ہوگا مگر ایک اسلامی ریاست یا معاشرہ میں ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی خاتون یا مرد بغیر نکاح کسی کے ساتھ اس طریقہ سے ملے کہ اس کے گھر پر کئی کئی دن رہے۔ جہاں تک بات ہے دوستی کی تو وہ بھی اسی تحریر میں واضح طور پر لکھا کہ میری ذاتی رائے میں دوستی کرنا کوئی قبیح عمل نہیں ہے، مگر شاید یہ ان کی نظر سے نہیں گزرا۔ میں نے اس تحریر میں یہ واضح طور پر لکھا تھا کہ میرا مقصد قتل کی جسٹی فکیشن نہیں ہے نہ ہی نور پر الزام دہی مگر نہیں مجھے قاتل ذہنیت کا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔

ایک دوسری محترمہ نے تو مجھے لوئر مڈل کلاس کا وہ ترسا ہوا شخص بیان کیا کہ جسے موقع ملے تو سب سے پہلے اپر کلاس کے ریت و روایات کی پیروی کرے، بات یہ ہے کہ قلم اور سچ کسی بھی شخص کی میراث نہیں ہوتا ہے چاہے وہ اپنے دور کا ممتاز مفتی یا فیض احمد فیض ہی کیوں نہ ہو، یہ لازمی نہیں کہ لکھنے والے کے پاس لینڈ کروزر ہو تو اس کی بیان کی گئی بات میں اثر نہیں ہوگا۔ حق بیان کرنا اور اس پر ڈٹے رہنے کا حوصلہ کم لوگ رکھتے ہیں۔ میں نے واضح طور پر لکھا کہ کہ والدین کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے تھی تاکہ یہ وقوعہ نہ ہوتا نہ کہ میں نے مرحومہ کو گناہ گار ٹھہرایا، میں نے تو واضح طور پر لکھا کہ میری ذاتی رائے میں دوستی رکھنا کوئی بری بات نہیں۔

میرا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا سے ہٹ کر بھی ایک دنیا ہے اس دنیا میں لوگ اپنے معاشرتی، دینی روایات کے طور پر نارمل زندگی گزارتے ہیں جہاں لڑکا لڑکی، باپ، بیٹا، بہن بھائیوں کا ایک دوسرے کے لئے لحاظ ہوتا ہے۔ کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی لوئر مڈل یا اپر مڈل کلاس کا طعنہ دے کر تضحیک کرنے کی کوشش کرے یا پھر کسی کے عقائد کا مذاق اڑایا جائے۔ عذاب یہ ہے کہ اگر آپ بھیڑ بکریوں کی طرح کسی بھی بنائے گئے ٹرینڈ کے ساتھ چلتے ہو تو آپ کی توصیف میں قلابے ملائے جاتے ہیں اگر حقائق کو بیان کرنے کی سعی کرو تو وہی بھیڑ بکریوں کا ہجوم آپ پر چڑھ دوڑتا ہے۔

آج کل مولوی ہونا ایک طعنہ بنا دیا گیا ہے، اور دانشور بول کر طنز کرنا تو ایک مشغلہ ہے۔ حالانکہ دانشور بننے کے لئے تو چلے کاٹنے پڑنے ہیں، دن رات ایک کرنا پڑتا ہے۔ بہرحال میری سوشل میڈیا کے فتوی دانوں اور مغربی کلچر کے دلدادہ اپنے بہن بھائیوں سے درخواست ہے کہ جس طرح آپ کو آزادی اظہار رائے کا حق ہے اسی طرح سے اگلے کو بھی ہے تو اس کے اس حق کا احترام کرتے ہوئے جینے کا حق دیں۔

Facebook Comments HS