ایک بارش، دو آسمان


سفینہ G 7 اسلام آباد کے ایک فلیٹ کی بالکونی میں کھڑی موسم سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ اسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ سورج کی کرنیں کسی کمزور بادل کو دھکیل کر چند لمحوں کے لیے عنان سنبھالنے کی سعی کرتیں لیکن پھر کوئی سیاہ ابر کا ٹکڑا دریچے سے جھانکتی پردے دار بی بی کی مانند سورج کے آگے چلمن کھینچ دیتا۔ مشرقی افق پر بادل بہت گہرے اور سیاہ تھے۔ وہاں کبھی کبھار آسمانی بجلی سنپولیے کی طرح لہراتی۔ شاید دور کہیں زوردار بارش شروع ہو چکی تھی۔

طوطوں کے جھنڈ گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے۔ کوئی اکا دکا تھکا ماندہ طوطا ڈار سے ٹوٹ کر درخت پر دم لینے کو بیٹھتا تو سفینہ کی جوان نگاہوں کو بھی پتوں سے ممتاز کرنا مشکل ہوجاتا۔ جب وہ ٹیں ٹیں کر کے اڑتا تو جانے کیوں سفینہ کھلکھلا کر ہنس پڑتی۔ اس عمر میں لڑکیاں یونہی بات بے بات ہنستی ہیں۔ نیچے فٹ پاتھ پر ایک کالی اور سفید بلی آپس میں اٹکھیلیاں کر رہی تھیں۔ شاید انہیں بھی موسم نے چھیڑ دیا تھا۔

بادلوں نے ریہرسل ختم کر کے شو شروع کر دیا تھا۔ پہلے ٹپ ٹپ بوندیں ٹپکیں جیسے دھیرے دھیرے پردہ سرک رہا ہو۔ اور پھر موسلا دھار بارش کا رقص شروع ہو گیا۔ سفینہ بارش کی دیوانی تھی۔ اس چھوٹی سی بالکونی میں جس قدر آسمان میسر آ سکتا تھا وہ اس سے پوری طرح محظوظ ہو رہی تھی۔ اسے گراؤنڈ فلور کے مقابلے میں اوپری منزلوں کے فلیٹ میں رہنا پسند تھا گھر نہ سہی حد نگاہ تو وسیع ہوتی تھی۔

”ماں، اے ماڑی۔ اس نے دلار سے ماں کو پکارا یہ تو جمعرات کی جھڑی ہے۔ اگلی جمعرات تک چلے گی۔“

کوئی جواب نہ پاکر اس نے مڑ کر کمرے میں جھانکا۔ جس قدر خوبصورت چھیل چھبیلا اور بانکا منظر بالکونی کے باہر تھا، اتنا ہی تیرہ اور آزردہ خاطر اندر کا سماں تھا۔ سفینہ نے دزدیدہ نگاہوں سے تاریکی کے بیچ ایستادہ جمیلہ کے ہیولے کو دیکھا۔ جھٹپٹے کے وقت تو یوں بھی اس چھوٹے سے فلیٹ میں اندھیرا اتر آتا تھا۔ بادل اور بارش نے گھنٹہ بھر پہلے ہی اجالا ہڑپ لیا تھا۔ سفینہ کا دل چاہتا تھا کہ جمیلہ اس کے ساتھ بالکونی میں آ کر بارش میں بھیگنے کا لطف لے۔ مگر وہ جانتی تھی کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔ جمیلہ کو بارش اور آندھی سے بہت خوف آتا تھا۔ جب بھی بارش ہوتی اس کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپنے لگتا وہ تسبیح اور مصلی لے کر اللہ سے پناہ مانگنے بیٹھ جاتی۔ یہ خوف لڑکپن سے جمیلہ پر حاوی تھا۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ جمیلہ نہیں جملی کہلاتی تھی۔ اور اسلام آباد میں نہیں بلکہ لاڑکانہ کی مسلم اسٹریٹ میں رہتی تھی۔ اس مسلم اسٹریٹ کے عین وسط میں ایک مندر اور دھرم شالہ تھا۔ مندر سے ملحق مکانات مندر کے ٹرسٹ کے زیر انتظام تھے اور ان کا کرایہ مندر کے ٹرسٹ کو جاتا تھا۔ پروہت بھگوان داس اس ٹرسٹ کے نگران تھے اور اپنی پتنی بھگونت دیوی کے ساتھ مندر کے ساتھ والے کمرے میں رہتے تھے۔ جملی کی سہیلی نمرتا بھی اپنی ماتا گوپی کے ساتھ مندر کے گھروں میں سے ایک میں رہتی تھی۔ گوپی اور اس کی عمر کی ہندو خواتین جب گھر سے نکلتیں تو ململ کے بڑے سے دوپٹے کا گھونگھٹ کاڑھ لیتیں۔ دیوالی کے روز دیواروں پر قطار اندر قطار مٹی کے روشن دیے دور سے یوں دکھتے جوں کہکشاں اتر آئی ہو۔

ہندو، سندھی، اردو اسپیکنگ، اور کاٹھیاواڑی سب مل جل کر اس گلی میں رہتے تھے۔ جملی کاٹھیاواڑی گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ ان کے ہاں ناموں کو مختصر کر کے پکارنے کا رواج تھا۔ بعض دفعہ تو عرفیت ہی زندگی بھر مستعمل رہتی اور اصل نام مفقود ہوجاتا۔ دوسرے تو درکنار خود صاحب اسم کو بھی شاید یاد نہ رہتا کہ پیدائش کے چھ دن بعد طمطراق سے رکھا ہوا نام کیا تھا۔ اقبال اکو بن جاتا اور اشفاق اچھو۔ حلیمہ حلو بائی اور زبیدہ جبیدہ سے جبی ہو جاتی۔

جینا بائی دراصل زینب بائی تھیں (واضح رہے کہ کاٹھیاواڑی ثقافت میں بائی خاتون کے احترام اور توقیر کے لئے استعمال ہوتا ہے ) ۔ اگر اسکول میں داخلہ نہ ہوتا تو شاید اسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس کا نام جملی نہیں جمیلہ ہے۔ اسے ناموں کا یہ تیا پانچہ بہت ناگوار گزرتا۔ اٹھویں میں آنے کے بعد اس نے اعلان عام کر دیا تھا کہ اسے جملی نہیں جمیلہ لکھا اور پکارا جائے۔ بھائی کے بچوں کو وہ پورے نام سے پکارتی تھی عبد الغفار اور شبانہ۔

اگرچہ اس گلی میں کچھ مکانات اونچے اور پکے تھے لیکن زیادہ تر مکان کچی اینٹوں سے بنے تھے۔ کچی اینٹ شکل میں ویسی ہی ہوتی تھی جیسی لال حویلی کی اینٹ مگر اسے بھٹے پر سرخ نہیں کیا جاتا تھا۔ یہ مکانات بہت قدیم تھے ان کی چھتیں بھی لوہے کے گرڈر کے بجائے لکڑی کے شہتیروں پر ٹکی تھیں۔ گرمی کے موسم میں جب لاڑکانہ کا درجہ حرارت پچاس اور باون ڈگری کو چھوتا، جب آم اور کھجور پر سونے کا رنگ چڑھتا یا جب چاول کی فصل میں نقرئی دانہ پڑتا تو اکثر طوفان باد و باراں قہر بن کر نازل ہوتا۔

جھونپڑے اکھڑ جاتے باغ اور فصلیں برباد ہوتیں۔ کچے مکانوں کی دیواریں لرزہ بر اندام ہوتیں۔ آئے روز کسی کی دیوار گرنے کی خبر اتی۔ خود جملی کی چھت کی چار دیواری اب تین دیواری رہ گئی تھی۔ گلی کی جانب چار فٹ کی دیوار نے پچھلی برساتوں کے استبداد کے آگے ماتھا ٹیک دیا تھا۔ خوش قسمتی سے اس وقت گلی میں کوئی ذی روح نہیں تھا۔ بارش میں چھتیں ٹپکنا تو ہر گھر کی کہانی تھی۔ بالٹی دیگچا اور تسلہ اپنے روایتی استعمال کی بجائے باورچی خانے، بچیوں کے جہیز کے ٹرنک والے کمرے اور برآمدے کے ٹپکے کے نیچے رکھا ہوتا۔

جملی ان طوفانوں سے بہت خوفزدہ ہوتی۔ جونہی مشرقی افق پر آسمان غبار آلود ہوتا اس کا دل یہ سوچ کر کانپنا شروع ہوجاتا کہ آندھی کے بگولے کو اس کی گلی کے کچے مکانوں کے آسمان تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ وہ بھاگ کر نیچے اترتی اور بانس کے تنکوں سے بنی جھاڑو سل کے نیچے دبا کر منہ ہی منہ کچھ پڑھتی۔ اسے کسی نے بتایا تھا ایسا کرنے سے آندھی ٹل جاتی ہے۔ پھر ایک روز دادا نے سمجھایا کہ مسلمان ہر حال میں اللہ سے پناہ مانگنے کا پابند ہے۔ اس روز کے بعد سے طوفان کے آثار دیکھ کر وہ تسبیح اور مصلی لے کر عبادت کرنے بیٹھ جاتی۔ وہ منحوس دن اس کی یاداشت میں کنکھجورے کی مانند پنجے گاڑے بیٹھا تھا۔

وہ بھی جمعرات کی جھڑی تھی اور ہفتہ بھر برسی تھی۔ بھیگی دیواریں اور سیلی چھتیں تازہ بنے ہوئے کچے گھڑوں کی مانند بودی ہو چکی تھیں۔ بجلی کا تعطل بحال نہیں ہوسکا تھا جانے یہ واپڈا کا بانکپن تھا یا واقعی کوئی بڑی فنی خرابی تھی۔ گھر کے باہر چبوترے پر بیٹھی جینا بائی منہ بھر بھر کر واپڈا والوں کو کوسنے دے رہی تھیں۔ جملی کی اماں اور بھابی سوئے ہوئے بچوں پر باری باری کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی پنکھیا جھل رہی تھیں۔

یہ پنکھیا سامنے والی سندھن امیراں ماسی نے خود بنا کر دی تھی۔ گرمی اور حبس سے گھبرا کر جمیلہ چھت پر چلی آئی۔ اس کی سہیلی ایمی (امینہ) برابر والی چھت پر ٹہل رہی تھی۔ جامع مسجد کے سامنے والی گلی میں مارواڑیوں کے گھر تھے ان کا پچھواڑا ایمی کی چھت کی طرف پڑتا تھا۔ دیوار پر لٹکی ثریا ایمی سے باتیں کر رہی تھی۔ ایمی بہت خوش تھی رجب میں اجو (عزیز) سے اس کی شادی طے پا گئی تھی۔ اجو ایمی کا ماموں زاد تھا اور پاکستان چوک کراچی میں پرنٹنگ پریس میں کام کرتا تھا جہاں شادی کارڈ چھپتے تھے۔

اجو کو ایمی کی ماں کے ہاتھ کے بنے ملیدے کے لڈو بہت مرغوب تھے جو وہ گیارہویں میں غوث پاک کی نیاز والے دن بناتی تھیں۔ ملیدے کے لڈو تو ہر کاٹھیاواڑی گھر میں بنتے تھے لیکن ایمی کی ماں کے لڈووں کی تو بات ہی اور تھی شکم سیر ہوجائے لیکن نیت نہ بھرے۔ ایمی کہہ رہی تھی وہ بہت سے لڈو بنوا کر ساتھ لے جائے گی۔ اس نے جمیلہ کو دیکھا تو اس کی طرف چلی آئی۔ جمیلہ اسے اجو کا نام لے کر چھیڑنے لگی ثریا ایمی کو جمیلہ کی طرف متوجہ دیکھ کر دیوار سے ہٹ گئی یا پھر اس کی قضا نہیں آئی تھی۔

اچانک ہوا کے جھکڑ چلنے لگے۔ ہوا کسی غضبناک منتقم کی طرح شڑاپ شڑاپ تھپیڑے مار رہی تھی آم اور کھجور کے لدے ہوئے درخت بھی پنیریوں کی طرح جھول رہے تھے۔ مارواڑیوں کی چھت کی دیوار ایمی کی چھت پر گری اور پھر ایمی سمیت چھت زمیں بوس ہو گئی۔ جمیلہ دیدے پھاڑے مٹی، کنکر اور ٹوٹے ہوئے لکڑی کے شہتیروں کے ڈھیر کو تک رہی تھی جہاں کچھ لمحوں پہلے اس کی سہیلی کھلکھلا کر ہنسی تھی جب وہ اجو کی کوئی شگفتہ شرارت سنا رہی تھی۔

جمیلہ تیزی سے نیچے بھاگی گویا وہ ایمی کو کھڑا کر کے کہہ پائے گی ”چلو وہیں سے سناؤ جہاں سے چھوڑا تھا،“ اسے اس بات کی پروا نہ تھی کہ برابر کی چھت گرنے سے اس کے اپنے گھر میں گہری دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ دھماکہ سن کر چہار جانب سے لوگ دوڑے اور زندہ دفن ہو جانے والوں کی قبر کشائی میں لگ گئے۔ اس پتلی گلی میں کوئی سواری نہیں آ سکتی تھی۔ شہر میں ایمبولینس کا خاطر خواہ انتظام نہیں تھا زخمیوں کو بابو چھولے والے کے ٹھیلے پر ڈال کر لے جایا گیا۔

ہسپتال پہنچنے تک ایمی مر چکی تھی۔ اس کی والدہ اور بہن زخمی تھیں۔ والد گھر پر نہیں تھے اس لئے محفوظ رہے ہفتوں بعد جب ایمی کی بہن گھر لوٹی تو ایک ٹانگ سے محروم ہو چکی تھی۔ لوگوں نے اسے لنگڑی پکارنا شروع کر دیا اور کچھ سال بعد لوگوں کو جیسے یاد ہی نہیں رہا کہ اس کا نام حاجرہ تھا اس کا ذکر لنگڑی کے نام سے ہوتا۔

بربادی کا وہ بھیانک منظر جمیلہ کی چشم تصور میں حنوط ہو گیا تھا۔ ذرا سی بوند پڑتی اور خوف سے اس کا دل بیٹھ جاتا۔ پل بھر میں ڈر کا آسیب بوند سے بوچھاڑ اور پھر طوفان کا روپ دھار لیتا اور پھر چھت اور دیواریں گرتی محسوس ہوتیں۔ وہ تسبیح اور مصلی لے کر اللہ سے پناہ مانگنے بیٹھ جاتی۔

اقبال سے شادی کے بعد وہ اسلام آباد آ گئی تھی۔ اس کا فلیٹ پکی عمارت میں تھا یہاں دور تک اسے کچی اینٹ کا مکان دکھائی نہیں دیا یہاں بارش ہریالی کا پیغام لاتی۔ درختوں کے پتے دھل کر ہوا کی تان پر خوشی کی بھمبیری بجاتے اور رنگین پھولوں کی خوشبو ہوا کو دان کرتے لیکن جمیلہ کبھی برسات سے لطف نہ اٹھا سکی۔ سفینہ اسے سمجھاتی ماں اب آپ کیوں ڈرتی ہیں اب تو آپ کچے گھروں میں نہیں۔ جمیلہ کا جواب نرالا ہوتا

وہ پوچھتی کیا سب کے گھر پکے ہو گئے ہیں۔ کتنے ہی اب بھی ہوں گے جہاں بارش آزار کا باعث بنتی ہوگی۔ جہاں لڑکیاں دوڑ کر بالٹی، دیگچی اور تسلہ چھتوں سے ٹپکتے پانی کے نیچے رکھتی ہوں گی ۔ گیلے کوئلوں پر پھونکیں مار۔ مار کر جلانے کی کوشش میں آنکھیں دھواں دھواں ہو جاتی ہوں گی ۔ ابھی بارش تھمتی نہ ہوگی کہ مسدود نالوں کا گندا پانی گھر میں در آتا ہوگا۔ اور وہ بستروں کے ٹرنک پر بیٹھ کر پانی اترنے کا انتظار کرتے ہوں گے جھونپڑ پٹی اور کچی آبادیاں اس شہر کے ایوانوں سے دکھائی نہیں دیتیں تو کیا ان کا وجود نہیں رہا۔ کاش ایسا ہوتا تو وہ ضرور بارش سے لطف اندوز ہوتی۔

Facebook Comments HS