اب آپ برا کیوں مان رہے ہیں

باجی! آپ صرف عورتوں کے لئے لکھتی ہیں، مردوں کے لئے بھی لکھیے، مرد پر بھی ظلم ہوتے ہیں، ایک مظلوم بھائی کی درخواست۔

جی بالکل ہوتے ہیں لیکن مرد پر ظلم کرنے والے مرد ہی ہیں۔

لیکن عورتوں کا المیہ یہ ہے کہ موقع پاتے ہی عورتیں بھی عورتوں پر ظلم کرتی ہیں اور مرد جو مختلف رشتوں میں عورت کے قریب ہوتے ہیں، وہ کبھی پیار بھری دھونس اور کبھی جبر سے اپنی بات منواتے ہیں۔

ایک عمر یہی سنتے گزر گئی ”زمانہ خراب ہے“

لڑکیوں کو گھر سے نکلنے نہیں دیا جاتا تھا، قد نکالتے ہی سائیکل چلانے پر پابندی، پھر عبایہ پہننے کی پابندی، اسکول بھی کسی کے ساتھ آؤ جاو، کالج بھی گھر سے قریب کا منتخب کرو، ٹیوشن سینٹر بھی کوئی چھوڑنے جائے اور واپس لائے، امتحانی مرکز دور بنا دیا، ساتھ کوئی جائے۔

یہ سارے رویے نارمل انداز میں سماج میں روا رہے ہیں ہمارے شہر کراچی جیسے بڑے کاسمو پولیٹن شہر میں بھی اور ہم نے کبھی ان رویوں اور برتاو پر دھیان نہیں دیا، جو بڑے کہتے گئے ہم وہ کرتے گئے، اور بڑے بھی وہی کر رہے تھے جو ملک کے ہر چھوٹے و بڑے شہر میں جاری و ساری تھا۔

اب ہمارے بچے بڑے ہوئے تو ہم کو احساس ہوا کہ یہ سب کتنا دشوار ہے، اور ہم لوگ کتنے ناقابل اعتبار اور اوچھے ہیں کہ ایک دوسرے سے حفاظت چاہتے ہیں۔

گویا ہمارے بڑے ہم کو اس لئے کہیں اکیلے نہیں جانے دیتے تھے، کہ باہر شکاری تاک میں بیٹھے ہوتے تھے اور موقع ملتے ہی وہ ہم پر وار کر دیتے، اس چیز کو ہمارے سماج کے بڑوں نے ایسے ڈیفائن کیا کہ ہم ان کی باتوں میں آ گئے، ہمارے بڑے کہتے کہ

ہم تمھارا خیال رکھتے ہیں اس لیے ہر وقت تمھارے ساتھ رہتے ہیں۔

یہی بات چند برس پہلے ٹی وی کے ایک ٹاک شو میں ایک سیاسی لیڈر نے میزبان خاتون کو کہی، کہ ہم تو اپنی بچیوں کو اور آپ کو شہزادیاں سمجھتے ہیں اسی لئے چاہتے ہیں کہ آپ گھر میں رہیں، آپ کو نوکری کی کیا ضرورت۔

میزبان خاتون آج بھی ایک چینل پر ایک ٹاک شو کرتی ہیں اور وہ اس وقت بھی یہی کہتی تھیں، آج بھی یہی کہہ رہی ہیں کہ میرے والدین نے مجھے پڑھا لکھا کر شناخت دی بولنے کے قابل بنایا اور میں چاہتی ہوں کہ ملک کی تمام خواتین گھر میں بھی اور گھر سے باہر بھی ایسے ہی محفوظ رہیں۔

اب جب یہ کہا جا رہا ہے کہ ”عورت غیر محفوظ ہے“ تو بہت سے لوگ برا مان رہے ہیں، حالانکہ یہ تو سامنے کی بات ہے کہ عورت غیر محفوظ ہے تب ہی تو آپ اس کی حفاظت کرتے ہیں، سائے کی طرح ہمہ وقت اپنے گھر کی عورتوں کے ساتھ رہتے ہیں، اس کو گھر میں رکھنا چاہتے ہیں، اضافی ذمہ داری اپنے اوپر لادی ہوئی ہے کہ گھر سے نکلے گی تو ہم ساتھ جائیں گے، تا کہ کوئی اس کو راستے میں نہ چھیڑے، پبلک ٹرانسپورٹ میں ہراساں نہ کرے۔ ارے کوئی محبت کے لئے بہکا نہ لے،

ملازمت تو بالکل نہ کرے۔ زیادہ سے زیادہ گلی کے نکڑ پر موجود چھوٹے سے نام نہاد انگلش میڈیم اسکول کی ٹیچر بن جائے، بیوٹی سیلون کھول لے۔

ہمارے یہاں تعلیم کا بیڑہ غرق بھی اسی لئے ہوا ہے۔

لڑکیوں کو بچپن سے ہی کہا جاتا ہے کہ پڑھ لکھ بھی شادی ہی کرنی ہے تو کیا فائدہ تعلیمی مہارت کا بھی، اسی لئے لڑکیاں تعلیمی مدارج مکمل ہو نے کے بعد اگر شادی نہ ہو تو پرائیویٹ سیکٹر کے اسکول میں پڑھانے لگتی ہیں۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ صرف چند سو اساتذہ نے اپنی ذمہ داری احسن اور پیشہ ورانہ طور سے ادا کی اور کر رہے ہیں باقی سب وقت گزاری ہے۔

اب کچھ لوگ کہیں گے کہ شادی کے لئے لڑکیاں نخرے کرتی ہیں اس لیے شادی نہیں ہوتی، جب کہ نخرے کرنے میں ابھی بھی لڑکے کے گھر والوں کا پلڑا بھاری ہے بالکل اسی طرح جس طرح ہمیشہ سے تھا اور تقسیم کے وقت اتنی قتل و غارت گری کے باوجود لڑکے والے ڈیمانڈ کرتے تھے کہ جہیز میں سائیکل دے دو، یعنی صرف دین کا نام استعمال کر کے الگ ملک تو بنا لیا تھا لیکن جاہلانہ طرز معاشرت اور اطوار نہیں چھوڑے تھے، نہ آج چھوڑے ہیں، شادی جیسے مقدس و پاکیزہ بندھن میں بھی دھوکے بازی عام ہے، رشتہ کروانے کے لئے بنائے گئے میرج بیورو بھی ناقابل اعتبار ہیں اور لوگ سوشل میڈیا پر ہر وقت اسلامی احکامات کا پرچار کرتے ہیں۔

پچھلے بیس برسوں میں دنیا بہت تیزی سے بدلی ہے اور ہمارے سماج میں بھی اس بدلاو کے اثرات آئے ہیں لیکن ہم نے بے ڈھنگے پن سے صرف اسمارٹ ٹیکنالوجی استعمال کرنا سیکھی ہے اس کے اچھے اثرات کے بجائے برے اثرات پر ہماری توجہ زیادہ رہی ہے، ہم معاشی طور سے کم زور تھے لیکن ہم نے انٹرنیٹ پر معاش کے نت نئے طریقوں کے متعلق معلومات جاننے کے بجائے ”بے ہودگی اور پورن“ کے طریقے جاننے شروع کر دیے۔

ہم نے تعلیمی مہارت کے بجائے بدقماشی، الزام تراشی، بلیک میلنگ کی مہارت سیکھی، بے ہودہ ویڈیوز پھیلانے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں، اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ہم الزام بھی ٹیکنالوجی کو دے رہے ہیں، حالانکہ یہ ساری قبیح عادات ہم میں پہلے سے موجود تھیں، اب سوشل میڈیا و الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آ رہی ہیں، جرائم موجود تھے جن پر بے رحمی سے ”چپ رہو“ ”صبر کرو“ ”بدنامی نہ ہو“

” گھر بناو“ کا پردہ ڈال دیا جاتا تھا اور یہ سب اسی لئے ہوتا تھا کہ ”پدر شاہی“ نظام قائم رہے مرد کی اجارا داری اسی طرح چلتی رہے اپنی غلطیوں کا سزا عورت کو دیتے رہیں، اپنے گناہوں و جرائم کا خمیازہ بھگتنے کے لئے عورت کو پیش کرتے رہیں، اب جب عورت نے خود کہنا اور لکھنا شروع کر دیا ہے کہ ”عورت غیر محفوظ ہے“ تو ”اب برا کیوں مان رہے ہیں، آپ نے ہی تو عورت کو ہمیشہ یہی کہہ کر ڈرایا کہ باہر نہ نکلو، نکلو بھی تو لمبے لبادے کی تہوں میں چھپ کر نکلو، کسی سے بات نہ کرو، کسی سے محبت نہ کرو، مرد دھوکے باز ہے، مرد بے وفا ہے، مرد بھیڑیا ہے، مرد شکاری ہے۔

اب جب عورت یہ سمجھ گئی ہے کہ وہ شکاریوں کے بیچ میں غیر محفوظ ہے اور شکاری سے بچنے کے لئے قانونی سزا پر عمل درآمد کی بات کرنے لگی ہے تو لوگ برا مان رہے ہیں، حتی کہ عورتیں بھی برا مان رہی ہیں، اور کہہ رہی ہیں کہ سارے مرد ایسے نہیں ہوتے۔ ہم نے کب کہا کہ سارے مرد ایسے ہیں، لیکن وسیع پیمانے پر دیکھئے۔ ہر شعبہ میں ہر ادارے میں مرد ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مرد ہیں۔ عدالتوں میں مرد ہیں کیوں نہیں عدل و انصاف قائم کرتے؟ کیوں نہیں قانونی بالادستی دستی رائج کرتے؟ احتجاج کرنے کا مقصد ان کو ان کے فرائض کا احساس اور یاد دہانی کروانا ہوتا ہے۔

خبر نویس مرد ہیں، ہم لکھتے ہیں تا کہ خبر نویس اپنے جیسے با اختیار مرد کو بتائیں کہ احتجاج ہو رہا ہے۔ اور یہ احتجاج ہر مظلوم فرد، بچے، بچی، لڑکی اور عورت کے لئے ہوتا ہے۔

یہ لکھنا، ویڈیو لاگ کے ذریعے بولنا، ایک مہذب احتجاجی طریقہ کار ہے جو ہمارے اپنے خطے کی سماجی و ثقافتی روایات بھی دیتی ہیں اور ہم تب تک احتجاج کرتے رہیں گے جب تک ہمارے ملک کے آئین و قانون کے مطابق ہر مجرم کو سزا نہیں مل جاتی اور ہر نوعمر بچہ، بچی، لڑکی اور عورت محفوظ نہیں ہو جاتی۔ اور اس احتجاج میں اس ”مظلوم مرد“ کو بھی آواز ملانی چاہیے جو یہ بات سمجھتا ہے کہ سماج میں بے انصافی کا نظام ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words