آدھے چہرے والے صحافی، ادیب اور وکیل

یہ نوے کی دہائی کی بات ہے کہ خاکسار ملک کے ایک بڑے ایڈیٹر کے پاس ان کے آفس میں بیٹھا تھا کہ اس وقت کے ایک وفاقی وزیر کا فون آیا اور اس نے گلہ کرنے کے انداز میں کہا

”تمہارے دوست نے مجھ سے“ وہ ”( ایک معروف اداکارہ کا نام لے کر) ہتھیا لی ہے“

ایڈیٹر صاحب نے ہنس کر ادھر ادھر کی چند باتیں یوں کیں جیسے کہ ان کے لیے یہ روٹین کی بات ہو اور پھر فون بند کر کے خاکسار کو اس وفاقی وزیر سے گفتگو بارے بتایا اور اپنے اسلام آباد کے صحافی دوست کو دوچار پنجابی میں گالیاں دے کر اس اداکارہ کی شان میں بھی چند ”متاثر کن“ جملے ادا کیے اور پھر وہ کسی اور موضوع کی طرف ہو لیے اور خاکسار سوچتا رہ گیا کہ کیا ہمارے وزرا اور میڈیا کے لوگ اس نوعیت کی وارداتیں ڈالنے میں لگے ہوئے ہیں؟ پھر سوچا کہ اگر ملک کی سیاست اور صحافت زوال کی طرف گامزن ہیں یا بدنام ہیں تو اس کی وجوہات بھی اظہر من الشمس ہیں۔

ان ہی ایڈیٹر صاحب نے ایک بار خاکسار کو اپنی من موجی طبیعت کے کارن یہ بتایا کہ ایک بار میں اسلام آباد سے لاہور آئے اپنے اسی دوست صحافی کو ایک ”خاص محفل“ میں چھوڑنے گیا تو وہاں ایک بڑا فلمساز اور عوام کی شہر شہر تفریح کا سامان کرنے کے لیے ایک کرتبی ایونٹ والا اہم نام نشے کی حالت میں سامنے آ گیا اور ہمیں دیکھ کر کہنے لگا

”تم دونوں۔ (گالی دے کر) ہماری تصویریں بنانے آئے ہو گے تاکہ اخبار میں چھاپ کر ہمارا“ ریکارڈ ”لگا سکو“

ایڈیٹر صاحب کہنے لگے
”میں نے بڑی مشکل سے اسے بولنے سے چپ کرایا اور کہا کہ

”میں تو اس دوست کو چھوڑنے آیا ہوں، میرا تو ایسی محافل میں دینی بیک گراؤنڈ کی وجہ سے بیٹھنا تو بہت بڑی بات ہے، سن کر ہی کان سرخ ہو جاتے ہیں“

اس پر اس فلمساز نے مجھے نشے کی اسی کیفیت میں کہا

”ایک نئی لڑکی ( ایک اداکارہ کا نام لے کر جو ان دنوں نئی نئی انڈسٹری میں آئی تھی) آئی ہے، پٹر پٹر انگریزی بولتی ہے، آؤ، تمہیں اس سے ملواؤں“

ایڈیٹر صاحب کے بقول اس فلمساز کی بات سن کر میں نے کانوں کو ہاتھ لگائے اور وہاں سے نکل آیا۔

لیکن پھر ایسی باتیں سن کر کان سرخ ہو جانے کی بات کرنے والے ایڈیٹر صاحب نے خاکسار اور چند لوگوں کو ایک واقعہ سنایا کہ

”ایک روز میں اپنے ایک معروف قانون دان دوست کے ساتھ ایک بڑے ادیب کے گھر پہنچا تو ڈرائینگ روم میں جس جگہ ہمیں بٹھایا گیا وہاں سے اس کی نوجوان ملازمہ کچن میں کام کرتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی، میرا قانون دان دوست اس ملازمہ کے جسمانی خد و خال اور دیگر جنسی معاملات بارے ذومعنی سے تبصرے کرنے لگا اور پھر ایک دم اٹھا اور جاکر اس ملازمہ کو دبوچ لیا“

ایڈیٹر صاحب اب دنیا میں نہ ہیں، نہ ہی ادیب اور نہ ہی وہ قانون دان لیکن وہ قسمت کی ماری ملازمہ شاید کہیں کسی اور گھر میں ہوگی، شاید نہ ہو لیکن آج بھی خاکسار حیرانی سے سوچتا ہے کہ وہ ایڈیٹر صاحب ایسے واقعات سناتے ہوئے کس رنگ ترنگ میں ہوا کرتے تھے، وہ مزے لے لے کر ایسے قصے کہانیاں یوں سنایا کرتے تھے کہ جیسے کوئی بات ہی نہ ہو، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، ایسے لوگ جو اپنے ایسے گھٹیا، گھناؤنے اور کالے کرتوتس کی باتیں کبھی کبھی مخصوص موڈ میں کیا کرتے تھے، عوام الناس کے نزدیک ان کی شہرت کسی فرشتے کی سی تھی اور ان کا آدھا چہرہ دیکھنے والے کبھی بھی ان کا باقی آدھا چہرہ دیکھنے میں کامیاب نہ ہو سکے تھے۔

ایڈیٹر صاحب اب اللہ کے پاس ہیں اور جانے ان کی کہی گئی باتیں کس حد تک سچ تھیں کہ بعض لوگ اپنی ”چسکا لو طبیعت“ کے کارن بھی ایسی باتیں گھڑ گھڑا لیا کرتے ہیں لیکن جہاں تک خاکسار کا مشاہداتی تجربہ ہے اس کے مطابق حالات و واقعات سے لگتا نہیں تھا کہ مرحوم غلط بیانی کر رہے ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words