سب اچھا ہے

دودھ اور شہد کی نہریں پہلے بھی نہیں بہتی تھی۔ ذاتی مفادات، عناد، نرگسیت اور موروثیت پہلے بھی موجود تھی۔ لیکن تبدیلی کے نام پر آنے والی حکومت اور نئے پاکستان کے نام نہاد دعویداروں نے پرانی برائیوں کے تمام ریکارڈز کو توڑ ڈالا ہے۔

پچھلی حکومتوں کی بنسبت اس حکومت کے دوران سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی اشاریے منفی میں جا رہے ہیں۔ کوئی بھی ایسا قابل فخر کارنامہ نہیں جس پر یہ عوام دشمن حکومت ناز کر سکے۔

کرپشن بڑھ چکی ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار مہنگائی ڈبل جبکہ تیل مہنگا ترین ہو چکا ہے۔ مہنگائی ترین قیمت پر ایل این جی کی خریداری کی جا چکی ہے۔ لاکھوں لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔ معیشت کا ستیاناس ہو چکا ہے۔ غربت کی وجہ سے غریب تباہ حال ہو رہا ہے۔

ڈپلومیسی کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر۔ چین، امریکہ، افغانستان، ایران اور سعودی کے حوالے سے پالیسیاں تذبذب کا شکار ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلوار سے نمٹنے کے لیے نووارد نمائندگان جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہیں۔ یورپی یونین کی جی ایس پی سٹیٹس خطرے سے دوچار ہے۔ کشمیر کو ہڑپ کرنے کی بھارت کی بھونڈی کوشش پر ہماری خارجہ پالیسی کا روڈ میپ ہی نہیں۔

دہشت گردی کا جن پھر دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ داخلی معاملات پر شیخ رشید کے بیانات جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہیں۔ بلوچستان اور پی ٹی ایم کے حوالے سے معاملات کو بچگانہ طور پر ڈیل کیا جا رہا ہے۔

ادارتی مسائل اپنی جگہ، لیکن بدانتظامی رکنے کا نام ہی نہیں رہی۔ بڑے بڑے اداروں میں پسندیدہ افراد کی تعیناتی، وزیراعظم کے چہیتے زلفی بخاری کا کرپشن اسکینڈلز میں نام آنے کے بعد راتوں رات ملک سے فرار، دفاعی بجٹ میں کمی، پشاور میٹرو کی ڈوبتی ہوئی کشتی، ملکی اثاثوں کو گروی رکھنے کی روش، اور تباہی کی راہ پر گامزن ریلوے، پی آئی اے، اور سپورٹس کی تباہی حالی نے نئے عمرانی پاکستان کے کھوکھلے نعروں کو بری طرح بے نقاب کیا ہے۔

سیاسی معاملات میں جناب وزیراعظم صاحب کی انا پسندی، اپوزیشن سے دشمنوں کی طرح برتاؤ اور بات چیت سے گریز، گالم گلوچ کا عروج، سیاسی عدم استحکام، پارلیمنٹ کی بے قدری اور توقیری، اور اہم ترین ملکی اور بیرونی مسائل پر یکجہتی کے فقدان نے اس حکومت کے بچگانہ طرز عمل کو بری طرح عیاں کیا ہے۔

ان تمام مسائل، جمہوری گراوٹ، بدانتظامی، معاشی، معاشرتی، داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کے زوال کے بعد بھی نام نہاد میڈیا اور عمرانی بہروپیے شرم اور حیا سے عاری یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ سب اچھا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words