نور مقدم کیس اور ہماری معاشرتی ذمہ داریاں

گزشتہ ہفتہ اسلام آباد میں جواں سال پڑھی لکھی لڑکی نور مقدم کا اس کے ایک دوست کے ہاتھوں المناک قتل کی واردات بہت سے گنجلک سوالات کو جنم دے کر معاشرہ میں خوف و ہراس کا باعث بھی بنا اور ہمارے معاشرتی رویوں کے ازسر نو جائزہ لینے کے کئی امکانات پیدا کر گیا۔ ملزم اور مقتولہ دونوں کھاتے پیتے، پڑھے لکھے اور معاشرتی طور پر با رسوخ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ دونوں کے تعلقات کی نوعیت کیا تھی اور کون زیادہ قصور وار ہے۔

بہرحال ایک بہیمانہ قتل ہوا ہے۔ قتل کی واردات کا طریقہ، گواہان کی چشم پوشی، والدین کی غفلت سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں جن پر بات ہو سکتی ہے اور ہونی چاہیے کہ اس طرح کے واقعات اچانک رونما نہیں ہوتے بلکہ ان کی پرورش میں کئی ماہ و سال گزرتے ہیں۔ اس واقعہ کے تناظر میں ہماری نوجوان نسل جو بظاہر زیادہ پڑھی لکھی معلوم ہوتی ہے اس کے طرز زندگی، اس کے عدم برداشت اور روپے پیسے سے پیدا ہونے والی نخوت، رعونت، بے راہروی، مذہب اور اخلاقی اقدار سے دوری کی جھلک نمایاں طور پر ابھرتی ہے۔

ہماری سوشل تقریبات خصوصاً شادی بیاہ کی تقریبات جو کبھی صرف فیملی ممبران کے لیے مخصوص ہوتی تھیں اب ان کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے جن سے کئی سماجی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ تاہم مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں مرد اور عورت کا ایک ساتھ کام کرنا اور مخلوط نظام تعلیم یہ سب کچھ وقت کی ضرورت بنتا جا رہا ہے اور اس پر اعتراض فوری طور پر مذہبی بنیاد پرستی، رجعت پسندی کے زمرہ میں آ جائے گا۔ یہاں لبرل ازم کا بھی بڑا چرچا ہے۔

لبرل ہونا کوئی بری بات نہیں۔ اسی طرح روشن خیالی بھی مثبت طرز فکر و عمل ہے۔ لبرل شخص تو متوازن شخصیت کا مالک ہوتا ہے۔ افراط و تفریط سے بچ کر مثبت رویے رکھنا، ہر قسم کے تعصبات سے پاک ہونا، دوسروں کے عیب ٹٹولنے کی بجائے اپنے عیبوں پر نظر رکھنا، منفی سوچ اور طرز فکر سے بچنا، دوسروں کو معاف کر دینا اور معاشرتی اعلٰی اقدار کی پاسبانی کرنا ہی تو لبرل اپروچ اور روشن خیالی ہے۔ عورت اور مرد کو برابری کی سطح پر تعلیمی اور دیگر میدانوں میں مواقع کا حاصل ہونا۔

عورت جو کہ صنف نازک ہے اس کا احترام کرنا یقیناً روشن خیالی ہے۔ مگر اس روشن خیالی کی آڑ میں معاشرہ کی طے شدہ اخلاقی اقدار کو روند دینا، عورت کو صرف سیکس اور ہوس کی نگاہ سے دیکھنا اور پرکھنا اور عورت کو کمتر حیثیت دینا اور عزت و غیرت کے نام پر عورت سے ہر ظلم روا رکھنا حتٰی کہ عورت کو اس کے بنیادی حقوق از قسم تعلیم، روزگار اور وراثت سے محروم رکھنا انتہائی پست ذہنیت کی عکاس ہیں۔

اب ذرا اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ہمارا یہ معاشرتی بگاڑ کیسے شروع ہوا اس کے ذمہ داران کون ہیں اور کیا ہماری سوسائٹی اس سلسلہ میں اپنا فرض پورا کر رہی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ معاشرتی طور پر ہمارے ہاں عورت کو کمتر اور کمزور سمجھا جاتا ہے اور اس کی بنیادی وجہ مردوں کا سوسائٹی میں غلبہ ہے اور یہ ایسا ہی چلا آ رہا ہے۔ البتہ چار پانچ دہائیوں میں عورت کی تعلیم نے اسے کافی حد تک خودمختار اور مردوں کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔

خصوصاً ہمارے شہری علاقوں میں اب یہ فرق کافی حد تک کم ہوتا نظر آ رہا ہے اور یہ معاشرہ کی نمو، ترقی اور آسودگی کے لیے نیک شگون ہے۔ البتہ یہ بات بڑے کرب سے محسوس کی جا سکتی ہے کہ موجودہ دور میں والدین زیادہ توجہ اپنے بچوں کی تعلیم پر دے رہے ہیں اور بڑے فخریہ انداز میں یہ کہتے ہیں کہ ان کے بچے فارن سے فلاں فلاں ڈگری لے کر آئے ہیں اور وہ انہیں بہترین ملکی غیر ملکی اداروں میں بھی تعلیم دلواتے ہیں مگر شاید ان کی تربیت کی طرف وہ توجہ نہیں دے پاتے جس کی تعلیم سے بھی زیادہ ضرورت ہے۔

تعلیم اور علم کی افادیت اور اہمیت سے انکار ممکن ہی نہیں کہ انسان اور حیوان میں بنیادی فرق ہی علم اور تعلیم کا ہے۔ ورنہ بھوک پیاس تو جانوروں کو بھی اسی طرح ہی لگتی ہے۔ البتہ تربیت والا معاملہ توجہ طلب ہے۔ خصوصاً حالیہ سالوں میں سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال اور غلبہ نے نوجوان نسل کے اخلاق و کردار کے بگاڑ میں اہم رول ادا کیا ہے۔ بلا شبہ غربت، افلاس، بے روزگاری معاشرہ میں بے چینی اور بے یقینی نوجوان نسل کی فرسٹریشن میں اضافہ کا باعث ہے۔

والدین کا ”ادارہ“ دن بدن کمزور ہوتا نظر آ رہا ہے۔ روشن خیالی کے نام پر اولاد کی تربیت کے پہلو سے اغماض برتتے ہیں۔ اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں تعلیمی اداروں میں نشہ کی علت اور پھر اس نشہ کے بد اثرات نوجوان نسل کے اخلاق و کردار کو تباہ کر رہے ہیں۔ اکثر والدین صرف بچوں کے ناز و نخرے دیکھنے کے لیے نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کی ہر جائز و نا جائز خواہش پوری کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کہاوت ہے کہ سونے کا نوالہ دے کر شیر کی آنکھ سے دیکھنا اب وقت کی ضرورت ہے۔ جب تک والدین اپنے فرائض کو نہیں پہچانیں گے اور موجودہ لبرل کردار پر نظر ثانی نہیں کریں گے، نوجوان نسل کے اس معاشرتی بگاڑ کو کوئی نہیں روک سکے گا۔

اولاد سے دوستی، بے تکلفی، ان کی جائز ضروریات پوری کرنا، ان کے آرام و آسائش کا خیال رکھنا سب والدین کی ذمہ داری ہے۔ مگر اولاد کی حرکات و سکنات پر نظر رکھنا۔ ان کے اخلاقی و معاشرتی رویوں کو ہمہ وقت باریک بینی سے جائزہ لینا۔ ان کی صحبت، دوستوں اور تعلق داروں پر نظر رکھنا۔ خصوصاً نشہ کی لت سے بچاؤ کی شعوری کوشش کرنا۔ ان کے اساتذہ سے ان کی تعلیمی رپورٹ اور کردار کے بارے میں متواتر باخبر رہنا، اپنے محلہ میں ان بچوں کی حرکات و سکنات کا نوٹس لینا، بچوں کے غیر ضروری اخراجات، تعیش پسندی اور دیگر منفی عوامل پر نظر رکھنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ اگر والدین کا ادارہ مزید کمزور سے کمزور تر ہوتا گیا تو شاید اصلاح احوال کی کوئی سبیل باقی نہ رہے۔

اسی طرح معاشرہ کے دیگر لوگوں کو بھی اپنی اخلاقی ذمہ داریاں جن میں بچوں کے اساتذہ کا بڑا اہم رول ہے۔ مانا کہ روپے پیسے کے چکر نے کافی معاشرتی رشتے کمزور کر دیے ہیں جن میں استاد کا مقام و مرتبہ بھی ہے مگر بہرحال اساتذہ ہی بچوں کے اخلاق و کردار کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

نور مقدم کیس اپنی تمام تر بھیانک، ہولناک، دہشت انگیز اور کربناک داستانیں چھوڑتا ہوا اس بے حس معاشرہ کو ایک جھٹکا ضرور لگا گیا ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ یہ معاشرہ ایک لمحہ کے لیے اپنی کھوئی ہوئی اخلاقی ساکھ کی بحالی کے لیے غور و فکر کرے۔ جہاں جہاں غلطیاں ہو رہی ہیں ان کی اصلاح کی شعوری کوشش کرے۔ اس میں والدین خواہ امیر ہوں یا غریب تعلیم کے ساتھ ساتھ اولاد کی تربیت پر بھی زور دیں۔ مذہب سے دوری بھی ایسے واقعات کی اہم وجہ ہے اس پر بھی گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ اولاد پر بہت ساری دولت لٹانے کی بجائے تھوڑی توجہ ان کی تربیت پر مرکوز کر لی جائے تو اب بھی حالات میں بہتری کی کافی گنجائش موجود ہے۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words