نور مقدم قتل کیس: کب کیا ہوا اور پولیس کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟

اسلام آباد — پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سابق سفارت کار کی بیٹی نور مقدم کے قتل کو 10 دن سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اب تک قتل کی اصل وجوہات سامنے نہیں آ سکیں اور موقع واردات سے قاتل گرفتار ہونے کے باوجود بھی اس ہولناک قتل کی کئی گتھیاں اب تک سلجھنا باقی ہیں۔

مبینہ قاتل ظاہر جعفر کا لاہور میں پولی گرافک ٹیسٹ کروا لیا گیا ہے۔ ایک متمول گھرانے سے تعلق رکھنے والے شخص نے اپنی قریبی دوست کو اس قدر بہیمانہ انداز میں قتل کیوں کیا۔ وہ کیا حالات تھے جن میں یہ سنگین واردات رونما ہوئی۔ ان تمام سوالات کے جوابات سامنے آنا باقی ہیں۔

بیس جولائی کی شام ہوا کیا تھا؟

گزشتہ ماہ 20 جولائی کو عید الاضحیٰ سے ایک روز قبل شام سات بجے کے قریب پولیس کو ایک کال موصول ہوئی۔ جس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں ایک گھر میں ہنگامہ آرائی جاری ہے اور یہاں ایک قتل بھی ہو گیا ہے۔

اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی تو سنگین واردات دیکھ کر پولیس اہل کار بھی سکتے میں آگئے اور پولیس نے ملزم کو قابو کیا جو کسی طور قابو میں نہیں آ رہا تھا اور پولیس اہل کاروں پر ہی حملہ آور ہو رہا تھا۔

فوری طور پر پولیس کے اعلیٰ حکام کو اطلاع دی گئی اور مقتولہ کے ایک سابق سفارت کار کی صاحبزادی ہونے کے انکشاف پر اور بھی کھلبلی مچ گئی اور تمام اہم افسران اور فرانزک ماہرین موقع پر پہنچ گئے۔

ظاہر جعفر کو وہاں موجود پولیس نے ہاتھ اور پاؤں سے باندھ رکھا تھا اور اسی حالت میں اسے تھانے منتقل کر دیا گیا۔

مقتولہ نورمقدم کی لاش اٹھانے سے پہلے پورے کمرے کی تصویر کشی کی گئی اور فرانزک ماہرین سمیت پولیس کے تفتیشی افسران نے کمرے کی تصویریں بنائیں۔ قتل میں استعمال ہونے والی چھری ملزم ظاہر جعفر کے ہاتھ میں تھی، وہ قبضہ میں لی گئی جس پر ظاہر کے فنگر پرنٹس بھی موجود تھے۔

تفتیش سے منسلک بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ قتل کے دوران ایک سے زائد چھریاں استعمال کی گئیں کیونکہ قتل کے بعد گردن الگ کرنے کے لیے ایک چھری کارآمد نہیں تھی جس کے بعد ملزم نے دوسری چھری استعمال کی۔ کمرے میں موجود پستول قبضے میں لیا گیا جس میں گولی پھنسی ہوئی تھی۔

کمرے سے ہی نور مقدم کا موبائل فون اس کے کپڑے اور دیگر اشیا بھی برآمد ہوئیں جنہیں قبضہ میں لے لیا گیا اور موقع واردات کو سیل کر دیا گیا۔

اگلے روز دوبارہ فرانزک ماہرین موقع واردات پر پہنچے اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ فریج اور کچن میں موجود کھانے پینے کی اشیا کے نمونے لیے گئے۔ کمرے میں موجود گلاس، بیڈ شیٹس اور دیگر سامان بھی قبضے میں لیا گیا۔

اس روز ہوا کیا تھا؟

پولیس اب تک اس کیس میں اس روز رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں تفتیش کررہی ہے اور ملزم کے بیانات سمیت سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد بھی لی جارہی ہے۔ ظاہر جعفر کے خانساماں اور گارڈ کے بیانات بھی اہمیت کے حامل ہیں۔

پولیس حکام نے شبہہ ظاہر کیا ہے کہ اب تک کے بیانات اور شواہد کے مطابق یہ دونوں ملازمین بھی اس جرم میں ملوث ہیں۔ جنہوں نے ایک نہتی لڑکی کو مار کھاتے اور ملزم کی طرف سے اس پر تشدد کرتے دیکھ کر بھی پولیس کو آگاہ نہیں کیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق نور مقدم نے بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر باہر گیٹ کی طرف جانے کی کوشش کی لیکن گیٹ بند ہونے کی وجہ سے وہ باہر نہیں جا سکی۔ اس کے بعد اس نے گھر کے اندر موجود گارڈ کے کیبن کے اندر پناہ لینے کی کوشش کی۔

اس دوران گارڈ گھر سے باہر موجود رہا اور ملزم ظاہر جعفر اوپر سے دوڑتا ہوا آیا اور نور مقدم کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا اوپر لے گیا۔

کمرے کے اندر ظاہر جعفر نے اس لڑکی کو کیسے قتل کیا، یہ ملزم نے پولیس کو بتایا تو ہے لیکن اس کی ہولناک تفصیلات اب تک پولیس نے میڈیا سے شیئر نہیں کیں۔ تاہم قتل سے پہلے اور بعد میں اس کے کئی دوست جن میں خواتین بھی شامل تھیں، وہ اس کے گھر آئیں لیکن انہیں اندر جانے نہیں دیا گیا۔

گارڈ کی طرف سے ظاہر کے والدین کو آگاہ کیے جانے کے بعد ‘تھیراپی ورکس’ نامی ادارے کے تین اہل کار موقع پر پہنچے جنہیں ظاہر نے گھر کے ٹیرس پر آ کر سختی سے منع کیا اور کمرے کے اندر چلا گیا۔

نور مقدم کے قتل پر انسانی حقوق اور خواتین کی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں۔
نور مقدم کے قتل پر انسانی حقوق اور خواتین کی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں۔

اس پر امجد نامی ایک اہل کار سیڑھی لگا کر ٹیرس سے گھر کے اندر پہنچا تو ظاہر کے بیڈروم کی حالت دیکھ کر سکتے میں چلا گیا اور اسی دوران ظاہر نے اس پر بھی چھری سے حملہ کیا، شدید زخمی ہونے کے باوجود امجد نے مزاحمت کی اور ظاہر کو قابو کرنے کی کوشش کی۔

اس دوران دیگر دو ساتھیوں کے آنے پر انہوں نے ظاہر جعفر کو کنٹرول کیا اور رسیوں سے باندھ لیا۔

اس دوران ہنگامہ آرائی کی آوازیں سن کر پڑوسیوں نے پولیس کو کال کردی اور شام ساڑھے سات بجے کے قریب پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

زخمی امجد ابھی بھی اسپتال میں داخل ہے اور اس کی حالت کے پیشِ نظر پولیس اب تک اس کا بیان حاصل نہیں کر سکی۔

امکان ہے کہ اس کے بیان کے بعد اس قتل کی ایف آئی آر میں اقدامِ قتل کی دفعہ بھی شامل کر دی جائے گی کیونکہ صرف نور مقدم کا قتل نہیں ہوا بلکہ ایک اور شخص کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

اب تک کی عدالتی کارروائی

اندراجِ مقدمہ کے 10 روز بعد ملزم ظاہر جعفر اب تک پولیس کے جسمانی ریمانڈ پر ہے۔

اس دوران اسے چار مرتبہ عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ پولیس نے چاروں مرتبہ مزید تفتیش اور شواہد جمع کرنے کا کہہ کر جسمانی ریمانڈ حاصل کیا اور تفتیش اب تک جاری ہے۔

اس دوران پولیس نے ایف آئی آر میں ملزم کے والدین اور دو ملازمین کو اعانتِ جرم کے الزام میں دفعات شامل کر کے گرفتار کر لیا۔

دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا ہے لیکن جمعرات کو حراست میں موجود ملزم کے والد ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ کی طرف سے انگریزی اخبار ‘ڈان’ میں ایک اشتہار بھی شائع ہوا۔ جس میں اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نور کے والد شوکت مقدم اور اہلِ خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں اور قانون اپنا راستہ بناتے ہوئے انصاف فراہم کرے۔

پولیس حراست میں ہوتے ہوئے قتل اور اعانتِ جرم کے الزام میں گرفتار افراد کی طرف سے یوں تعزیتی اشتہار شائع ہونے پر بھی سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

عدالتی کارروائی میں اب تک پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم کے مطابق وہ مقتولہ سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن وہ انکار کر رہی تھی۔ جس کی وجہ سے اشتعال کے باعث یہ قتل ہوا۔

آخری مرتبہ عدالت میں پیشی پر پولیس نے تین دن کا ریمانڈ لیا اور کہا کہ اب اس ریمانڈ کے بعد بیشک ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا جائے۔

ملزم ظاہر جعفر نے پولیس کے سامنے تو بیانات دیے ہیں لیکن ان کی اب تک کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

ملزم کے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے دیے گئے بیان کی اہمیت ہے جسے مستند قانونی دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بعض ملزمان مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے بیانات کو بھی اعلیٰ عدالتوں میں پولیس کے زیر اثر دیے گئے بیان کا کہہ کر مکر جاتے ہیں۔

اس کیس میں ظاہر جعفر کا بیان ابھی ریکارڈ ہونا باقی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ کیس چلانے کے لیے پولیس اپنے چالان عدالت میں جمع کرائے گی جس کے بعد کیس کی باقاعدہ سماعت شروع ہوسکے گی۔

کیس میں اتنی کنفیوژن کیوں ہے؟

اس کیس میں اب تک سامنے آنے والے شواہد اور قتل کی وجوہات ایک دوسرے سے نہ ملنے کے باعث کئی سوالات جنم لے رہے ہیں اور دس دن کے بعد بھی پولیس اس کیس میں حتمی طور پر کوئی بھی جواب دینے سے گریزاں ہیں۔

مقتولہ نورمقدم کے والدکے وکیل شاہ خاور ایڈوکیٹ کے مطابق ملزم نے ابتدائی بیان میں شادی سے انکار کا کہا لیکن اس بارے میں کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آسکا۔ مقتولہ کا ملزم کے ساتھ کئی ماہ کے بعد رابطہ ہوا تھا۔

ملزم ظاہر جعفر کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ جن کے مطابق تھیراپی ورکس نامی ادارے کا نام سامنے آنے سے سمجھا جارہا تھا کہ ملزم کو ذہنی مریض بتا کر فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی، لیکن ملزم اسی ادارے میں لیول فور کا کاؤنسلنگ ماہر تھا اور اسلام آباد کے مہنگے اسکولوں کے بچوں کی کاؤنسلنگ کررہا تھا۔

پولیس کے ایک تفتیش کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس کے لیے بھی یہ چیز حیران کن ہے کہ اس قدر بہیمانہ انداز میں قتل شدید نفرت کے تحت کیا جاتا ہے۔

تفتیش کار کے مطابق عموماً اس انداز میں قتل کرنے والے یا تو ذہنی مریض ہوتے ہیں جو مقتول کو تکلیف دے کر لطف حاصل کرتے ہیں یا پھر شدید نفرت یا انتقامی جذبے کے تحت کی جانے والی قتل کی واردات میں ایسی سفاکی دیکھنے میں آتی ہے۔ لیکن اب تک ملزم جو وجوہات بتا رہا ہے وہ قتل کے اس انداز سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

اُن کے بقول اس قتل کے بارے میں ملزم کے والدین کا رویہ بھی حیران کن رہا ہے جن کے ساتھ ملزم کا رابطہ رہا کیوں کہ قتل سے پہلے انہیں آنے والی ٹیلی فون کال کے بعد انہوں نے تھیراپی ورکس کو تو کال کی لیکن خود بیٹے کو کال نہیں کی۔ البتہ قتل کے بعد ملزم نے پہلی کال والد کو کی جنہوں نے اپنے ایک دوست کو موقع پر جانے کا کہا۔

ملزم نے بعد میں والد کے دوست سے ٹیلی فون پر بات کی۔اس دوران وہ اپنے دوستوں سے بھی ٹیلی فون پر بات کرتا رہا۔

اس کیس میں اہم سوال نور مقدم اور ظاہر جعفر کے دوستوں کے کردار کا بھی ہے جو سوشل میڈیا پر ان دونوں کے بارے میں مختلف بیانات تو دے رہے ہیں لیکن پولیس کو کوئی بیان نہیں دے رہے۔

پولیس نے ظاہرجعفر کا فون ریکور کرنے کے بعد اس میں ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لی ہے اور اب بہت سے دوستوں کو بلایا جا رہا ہے۔ ان میں خاص طور پر ان دوستوں کو بلایا جا رہا ہے جنہیں ظاہرجعفر نے کال کی یا پھر وہ ظاہر کو کالز کرتے رہے۔

مقتولہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو مل چکی ہے لیکن کئی سوالات کے جواب حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہی ملیں گے۔ جس کا پولیس انتظار کررہی ہے۔ فرانزک لیبارٹری لاہور سے اس بارے میں رپورٹ آئندہ چند روز میں آنے کا امکان ہے۔

ملزم کی ذہنی صحت سے متعلق تھیراپی ورکس کو سیل کر کے وہاں کی انتظامیہ سے تفتیش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تاہم پولیس کے مطابق جس وقت ملزم کو گرفتار کیا گیا وہ اس وقت کسی نشے کے زیر اثر نہیں تھا اور مکمل طور پر ہوش و حواس میں تھا۔ ملزم کا پولی گرافک ٹیسٹ ہو چکا ہے جس کے نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔

ملزم ظاہر جعفر کو ہفتے کے روز دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جہاں ملزم کے وکیل انصر نواز ملک نے ریمانڈ کی مخالفت کی اور کہا کہ ملزم کا پولی گرافک ٹیسٹ ہو چکا ہے۔ تمام ریکوری ہو چکی اب مزید ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے۔ جس پر مقتولہ کے والد شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور ایڈوکیٹ نے بتایا کہ کیس کی تفتیش کے دوران 40 گھنٹوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے۔ جس میں اس کیس سے جڑے مزید کردار سامنے آئے ہیں اور ایسے میں پولیس کو مزید ریمانڈ کی ضرورت ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ محمد شعیب نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو دن کی توسیع کر دی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words