مزار قائدؒ کے آنسو 61 برس سے سوال کر رہے ہیں

بابائے قوم قائداعظمؒ محمد علی جناح 11 ستمبر 1948 ء کو یہاں سے ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔ ہم نے انہیں کراچی کے ایک کونے میں دفن کر دیا۔ ان کی قبر پر چھوٹا سا چبوترا بنایا۔ ساتھ ایک الماری رکھ دی جس میں قائداعظمؒ کے زیر استعمال کچھ اشیاء تھیں اور بس یوں ہم نے یہ فریضہ اپنے کندھوں سے اتار دیا۔ پھر ہم قائداعظمؒ کی قبر کو ویسے ہی بھول گئے جیسے ان کے فرمودات کو آج تک بھولے ہوئے ہیں۔ تاہم مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ اپنے بھائی اور قوم کے محسن قائداعظمؒ محمد علی جناح کو کیسے بھول سکتی تھیں۔

انہوں نے قائداعظمؒ کو بھی یاد رکھا اور ان کی قبر کو بھی نہیں بھولیں۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی ان تھک کوششوں سے قائداعظم میموریل فنڈ معرض وجود میں آیا۔ اس کمیٹی نے 1952 ء میں تجویز کیا کہ قائداعظمؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کی یاد میں چار عمارتیں تعمیر کی جائیں جن میں سے ایک قائداعظمؒ کی قبر کی جگہ پر قائداعظمؒ کا مزار اور دوسری اس سے ملحق ایک مسجد تعمیر ہو۔ تیسرا ایک دارالعلوم مدرسہ ہو جو پنجاب میں قائم کیا جائے اور چوتھی سائنس اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹی اس وقت کے مشرقی پاکستان میں بنائی جائے۔

یہاں حاشیے کے طور پر ایک غور طلب بات یہ ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کے لیے اس وقت کے مشرقی پاکستان کو منتخب کیا گیا۔ تاہم اس تحریر کو فی الحال مزار قائدؒ پر ہی فوکس رکھتے ہیں۔ قائداعظمؒ کے مزار کے نقشے کی تیاری کے لیے حکومت پاکستان نے 1954 ء میں ایک ہندوستانی آرکی ٹیکٹ کو سلیکٹ کیا جسے بعد ازاں نامعلوم وجوہات کی بناء پر مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد 1955 ء میں اس کام کے لیے ترکی کے ایک آرکی ٹیکٹ کو سلیکٹ کیا گیا۔

اس ترک آرکی ٹیکٹ کو بھی بعد میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر مسترد کر دیا گیا۔ ہمارے مزاج اور روایت کے مطابق اندرونی چپقلشوں اور سازشوں کی بنیاد پر قائداعظمؒ کے مزار کے نقشے کی تیاری کا معاملہ بھی تاخیر کا شکار ہوتا گیا۔ پھر ایک اور چال چلی گئی اور حکومت پاکستان نے 1957 ء میں قائداعظمؒ کے مزار کے نقشے کی تیاری کے لیے ایک بین الاقوامی مقابلہ منعقد کروایا جس میں برطانوی آرکی ٹیکٹ کو منتخب کیا گیا۔ ان دنوں کے حکمرانوں کی نیتوں کے فتور، ذاتی نمائش اور خوشامدانہ رویوں نے قائداعظمؒ کے مزار کی تعمیر کو بھی نہ بخشا۔

ان تمام معاملات سے مایوس ہو کر مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے قائداعظمؒ کے مزار کے نقشے کی تیاری کے لیے حکومتی بین الاقوامی مقابلے کو ویٹو کر دیا اور قائداعظم میموریل فنڈ کا انتظام خود سنبھال لیا۔ اس کے بعد انہوں نے قائداعظمؒ کے دیرینہ دوست اور بمبئی کے مشہور آرکی ٹیکٹ یحییٰ مرچنٹ کو نقشے کی تیاری کا کام سونپ دیا۔ اسی دوران ملک میں ایوب خان کا مارشل لاء لگ گیا۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ اور فیلڈ مارشل ایوب خان کے باہمی نظریات سے ہم سب بخوبی آگاہ ہیں۔

ہسٹری کی آنکھیں ہمیشہ اس بات پر پرنم رہیں گی کہ اس فیلڈ مارشل ایوب خان نے ذاتی سیاسی مفادات کے لیے بابائے قوم محمد علی جناحؒ کی ہمشیرہ اور تحریک پاکستان کی مایہ ناز رہنما مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کو غدار کہا۔ اس فیلڈ مارشل ایوب خان نے جیسے اقتدار پر قبضہ کیا ویسے ہی اپنے نام کی تختی لگانے کے لیے قائداعظمؒ کے مزار کے کام پر بھی قبضہ کر لیا اور آج ہی کے دن یعنی 31 جولائی 1960 ء کو قائداعظمؒ کے مزار کا سنگ بنیاد رکھا۔

پہلی ستم ظریفی دیکھیے کہ دنیا کا وہ عظیم جمہوری رہنما جس نے ایک گولی چلائے بغیر عوام میں جمہوری شعور پیدا کر کے ایک ملک حاصل کیا اس کے مزار کا سنگ بنیاد ایک مارشل لاء ڈکٹیٹر نے رکھا جبکہ 11 برس کے بعد مزار کا افتتاح دوسرے مارشل لاء ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان نے 18 جنوری 1971 ء کو کیا۔ دوسری ستم ظریفی دیکھیے کہ اس عظیم قائدؒ کی عظیم ہمشیرہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ مزار قائدؒ کے سنگ بنیاد اور افتتاح جیسے دونوں اہم مواقع پر موجود نہیں تھیں۔

مزار کے سنگ بنیاد کے وقت تو انہیں ڈکٹیٹر ایوب خان نے اس اہم تقریب میں نظرانداز کیا جبکہ مزار کے افتتاح کے موقع پر دوسرے ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان کو انہیں نظرانداز کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی کیونکہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ بدنیت حکمرانوں سے تنگ آ کر 9 جولائی 1967 ء کو اپنے عظیم بھائی سے جا ملی تھیں۔ اب تیسری ستم ظریفی دیکھیے کہ بابائے قوم محمد علی جناحؒ کی وفات جن حالات میں ہوئی ان پر اب تک تو سوالیہ نشان ہے ہی محترمہ فاطمہ جناحؒ کی وفات کو بھی بعض محققین قتل کے مبینہ شبہے میں دیکھتے ہیں۔

اس سے بڑھ کر یہ کہ اس وقت کے بدنیت حکمرانوں نے کوشش کی کہ محترمہ فاطمہ جناحؒ کی تدفین ان کے عظیم بھائی قائداعظمؒ محمد علی جناح کے مزار کے احاطے میں نہ ہو لیکن عوام کے غیظ و غضب کے باعث ڈرپوک ڈکٹیٹر ہار گئے اور عوام کے جم غفیر نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کو ان کے عظیم بھائی قائداعظمؒ محمد علی جناح کے مزار کے احاطے میں ہی سپرد خاک کیا۔ قائداعظمؒ محمد علی جناح کے مزار کا سنگ بنیاد 31 جولائی 1960 ء کو رکھا گیا اور آج 31 جولائی 2021 ء ہے۔ اس دوران 61 برس بیت گئے لیکن قائداعظمؒ کے مزار کے اشک پونچھنے کوئی نہیں آیا۔ مزار قائدؒ کے بہتے آنسو اب بھی قوم سے بہت سے سوال کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words