اسلام آباد میں جناح کی تصویر کے سامنے نوجوانوں کا فوٹو شوٹ زیر بحث، ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات پر تنقید
نور مقدم قتل کیس ہو یا سیکٹر ای الیون میں بارش کے بعد سیلابی صورتحال، گذشتہ کچھ ہفتوں سے پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد مختلف وجوہات کی بنا پر خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔ مگر اب ایک اور مسئلے نے لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ گذشتہ روز غیر روایتی لباس پہنے ایک لڑکا اور لڑکی کا فوٹو شوٹ منظرِ عام پر آیا جس میں وہ اسلام آباد ایکسپریس ہائی وے پر موجود بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر اور ان کے فرمان ’ایمان، اتحاد، تنظیم‘ کے سامنے کھڑے ہیں۔
بس نوجوانوں کی یہ تصویر آنے کی دیر تھی کہ سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کی جانب سے اس پر تنقید شروع ہو گئی اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جانے لگا۔
جب صحافی انصار عباسی نے جب اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کی توجہ اس جانب دلوائی تو انھوں نے فوری طور پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ: ’کسی کے پاس اگر اس بارے میں کوئی معلومات ہیں تو برائے مہربانی ہمارے ساتھ شیئر کریں۔‘
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مقامی انتظامیہ کے کہنے پر پولیس نے اسلام آباد کے تھانہ کھنہ میں اس واقعے کی رپٹ درج کر لی ہے، یعنی اس واقعے کا اندراج روزنامچے میں ہو گیا ہے اور یہ بات نوٹس میں آ چکی ہے۔
تاہم اس حوالے سے تاحال مزید کارروائی نہیں کی گئی۔
بی بی سی کی جانب سے رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے اس موضوع پر بات کرنے سے گریز کیا۔
‘آپ ان کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں‘
ایسے میں سوشل میڈیا پر کچھ افراد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد پر تنقید کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے سوشل میڈیا پر اعلان کر کے ان دو نوجوانوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔
بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ کو اس طرح کے ’معمولی واقعات‘ کا نوٹس لینے کی بجائے، دیگر اہم مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
جہاں اکثر صارفین ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ‘غیر ذمہ دارانہ’ ٹویٹ کی مذمت کرتے دکھائی دیے وہیں اکثر نے لڑکا اور لڑکی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
فاطمہ مسعود نے اس بارے میں ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ‘آپ اس ٹویٹ سے ان کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘
’میرے نزدیک ان کے قائد کی تصویر کے سامنے تصویر بنوانا غیر اخلاقی تھا، لیکن شہر میں اس سے بھی بڑے مسائل موجود ہیں، میرے خیال میں آپ ان پرغور کر لیں۔‘
ماریانا بابر نے کہا کہ ’اگر میرے پاس معلومات ہوئیں بھی تب بھی میں آپ سے شیئر نہیں کروں گی۔ اپنے اصل کام کی طرف توجہ دیں، اور جوڑوں کا پیچھا چھوڑ دیں۔‘
’شہریوں کے گلے کاٹے جا رہے ہیں، غیر قانونی تعمیرات کی جا رہی ہیں جن سے سیلاب آ رہے ہیں، میرے پسندیدہ بسکٹ سے زیادہ آسانی سے یہاں منشیات دستیاب ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
اسلام آباد: سیکٹر ای الیون میں بارش کے بعد سیلابی صورتحال کیوں پیدا ہوئی؟
نور کی رسم قل، پارک میں شمعیں روشن اور انصاف کا مطالبہ
نور مقدم کیس: وہ قتل جس نے اسلام آباد کو ہلا کر رکھ دیا
عثمان مرزا کیس: ملزمان کا ویڈیو بنانے کا اعتراف، بھتے کی رقم واپس دینے پر رضامندی
باسط نامی صارف نے لکھا کہ ‘بیٹھ جائیے، آپ کا کام لوگوں کی اخلاقی نگرانی کرنا نہیں ہے۔ ای الیون کا سیوریج کا نظام ٹھیک کرنے پر توجہ دیں۔’
تاہم کچھ صارفین نے ان نوجوانوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
محمد علی خان نامی ایک صارف نے لکھا کہ ‘ہمارے بانی کی تضحیک کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ حکومت کو جوڑے کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔‘
جبکہ صارف عبدالرحمان کے مطابق ‘اگر آپ نے تفتیش کرنی ہے تو قانونی طریقہ کار اپنائیں۔ تمام افراد کو بیچ میں لا کر ان افراد کی سکیورٹی کو خطرے میں نہ ڈالیں۔‘
صحافی محمد جنید نے لکھا کہ ‘ڈپٹی کشمنر صاحب، آپ کے ساتھ یہ معلومات کسی کو بھی شیئر نہیں کرنی چاہییں۔ اپنا اصل کام کریں جو آپ واضح طور پر یہاں نہیں کر رہے، اس ملک کو یرغمال بنانا چھوڑ دیں۔‘
وقاص نامی ایک صارف کا کہنا تھا کہ ‘جو بھی فرد ہماری تہذیب، مذہب اور قانونی ضابطوں کو توڑے گا اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔’
اسلام آباد میں اس لڑکا لڑکی کے خلاف قانونی کارروائی ہوسکتی ہے؟
سوشل میڈیا پر ایک حلقے کی جانب سے اس لڑکا لڑکی پر ’فحاشی پھیلانے‘ کے الزام پر کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
فوجداری قانون کے ماہر وکیل شبیر حسین کے مطابق محمد علی جناح کی تصویر کی ’بے حرمتی‘ سے متعلق ملک میں کوئی مخصوص قانون موجود نہیں ہے۔
تاہم وہ کہتے ہیں کہ ’کیونکہ ہمارے نزدیک محمد علی جناح کا درجہ قوم کے باپ کے جیسا ہے تو اس تصویر سے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس ضرور پہنچی ہو گی اور اسے قائد اعظم کی بے ادبی کے طور پر دیکھا گیا ہے۔‘
ان کے مطابق یہ تصویر سوشل میڈیا کے ذریعے شائع کی گئی ہے اور اس سے عوام میں ’بے چینی پھیلی اس لیے اس میں تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات اور پیکا کے قانون کے تحت سائبر کرائم سے متعلق کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں جناح کے مزار کی بے حرمتی اور پاکستان کے جھنڈے کی بے حرمتی سے متعلق قوانین موجود ہیں جن پر ماضی میں کارروائی بھی کی جا چکی ہے۔ تاہم ان کی تصاویر سے متعلق مخصوص دفعات موجود نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن صفدر کی جانب سے مزارِ قائد میں نعرے بازی کرنے کے باعث ان کے خلاف اس مزار کے تحفظ کے قانون کے تحت ایف آئی آر کا اندراج ہوا تھا۔ اور پھر انھیں ان کے ہوٹل کے اس کمرے سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ اپنی اہلیہ مریم نواز کے ہمراہ ٹھہرے ہوئے تھے۔
اس کے ساتھ شبیر حسین کا مزید کہنا تھا کہ نوجوانوں کو جناح کی تصویر کے سامنے فوٹو شوٹ سے روکا نہیں جا سکتا۔ ’یہ ایک عوامی مقام ہے اس لیے یہاں تصویر بنانے سے پہلے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘


