جنت سے پروین شاکر کا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا سے آئے بہت سے خطوط میں سے تمہارے خط کا جواب دے رہی ہوں۔ تمہیں پتا ہے ان ڈھیروں خطوط، جو میری ہم پیالہ شاعرات، جو دنیا میں میری چغلی کھانے کا ایک بھی موقع جانے نہ دیتی تھیں نے بھیجے ہیں، جنہیں میں ہاتھ لگانے سے اس لیے ڈرتی ہوں کہ الزام تراشیوں کا نیا سلسلہ ہی نہ شروع کر دیا ہو، اور نہیں تو کہیں جنت کے داروغہ سے ہی میری باتیں نہ گانٹھ دی گئی ہوں۔

کل فیض صاحب تشریف لائے۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد ایلس کا پوچھا تو اپنے وہی پرانے انداز میں بیٹھ ایک ہاتھ میں سگریٹ تو دوسرے ہاتھ میں شراب (جو میں گھر کے عقب میں بہتی تازہ نہر سے لائی تھی) تھامے کہنے لگے میاں افتخارالدین نے جنت کے حالات سے آگاہی کے لیے روزنامچہ The Eternal نکالا ہے بس آج کل اسی کے گوشۂ اطفال کے لیے سرکرداں رہتی ہے۔

باتوں سے باتیں نکلی تو ان سے ثروت حسین کی آمد کا معلوم ہوا۔ کہنے لگے یہاں سے اٹھ کر اسی کے پاس جانا ہے، کیا تم چلو گی؟ ثروت کا نام سنتے ہی کچھ ساعتوں کے لیے میرے دماغ پر اس کی خودکشی اور اس کے بعد ادبی حلقوں میں مجھ پر اٹھتے بے وفائی کے طعنوں کا منظر غالب آ گیا۔ مجھے خاموش دیکھ کہنے لگے دیکھو زبردستی نہیں ہے اگر نہ بھی جاؤ تو میں سمجھ سکتا ہوں۔ میرے کہنے پر کہ ’فیض صاحب آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ میری وجہ سے‘ میری بات کاٹتے ہوئے کہنے لگے تو پھر بس اٹھو ساتھ چلتے ہیں۔

ثروت کے ہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں چہرے پر اچھلتے زرد رنگ کے ساتھ حالت غیر لیے دبلا پتلا ثروت کے بجائے کوئی اور ہی شخص پلنگ پر بیٹھا معلوم ہوتا ہے۔ جسم پر واضح تبدیلی اس کی گردن کی وجہ سے تھی جو کافی کھچی کھچی اور لمبی معلوم ہوتی تھی میرے پوچھنے پر بڑی غضب ناک نظر پھینک کر کہنے لگا ”آسمان اور زمین کے درمیان لٹکنا آسان نہیں“ فیض صاحب نے اب تک کی بیتی کا حال پوچھا تو بولا آپ نے تو صرف کہا تھا کہ

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے

ہم نے تو کر کے دکھایا۔ میں نے حسب عادت منہ پر کہنے کے بجائے دل میں کڑھ کر سوچا ”افلاس سے فرار کو محبوب کی بے وفائی کا شاخسانہ قرار دینے کا اچھا طریقہ ہے“ ابھی میں خود سے دست و گریباں ہی تھی کہ اپنے اختصار نویسی کے فن کو برتتے ہوئے فیض صاحب کچھ یوں گویا ہوئے، ارے ہم نے یہ بھی تو کہا تھا:

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے

اور دریا کو کوزہ میں بند کر جواب طلب نظروں سے (جو پوچھ رہی تھیں : بتاؤ یہ ہی وجہ تھی نہ؟) ثروت کو تکنے لگے۔

کچھ دیر کھسیانا ہوئے چپ سادھنے کے بعد مجھ پر پھر سے اگرچہ پہلے سے بہتر مگر دشنام نظر مار کر کہنے لگا: یہاں مشرق کی ورجینیا وولف نے آ لیا۔ ”وہ کیسے“ فیض صاحب متجسس لہجے میں بلا توقف بولے۔ میں نے فیض صاحب کو یاد دلایا کہ یہ وہی ناول نگار ہے جس نے دریا میں کود کر جان دے دی تھی۔ اور ثروت بولا ’اور پتہ ہے جب میں نے اپنی ہمسائی سے پوچھا کہ تم وہی ہو نہ جس نے ”اورلینڈو“ ناول لکھا تھا تو مجھے چپ کرواتے ہوئے کہنے لگی ارے آہستہ اس سے پہلے کے ہم جنسی کا پرچا بھی کٹ جائے۔‘

ابھی یہ سب ہو رہا تھا تو دیکھا عمو جان جو باقیوں کے لیے احمد ندیم قاسمی ہیں منیر نیازی کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوئے۔ فیض صاحب چہرے پر کھنکی سی مسکراہٹ بکھیرے کہنے لگے : ارے آؤ منیر تمہارے کہے شعر کے لیے شاید ہی اس سے زیادہ کوئی مناسب جگہ ہو۔ منیر صاحب کے پوچھنے پر کہ کون سا شعر، فیض صاحب سنانے لگے

کج انج وی راہواں اوکھیاں سن
کج گل وچ غم دا طوق وی سی
کج شہر دے لوک وی ظالم سن
اس سے پہلے کے فیض صاحب آخری بند پڑھتے عمو جان ثروت کی جانب طنزیہ ہنسی ہنس کر بولے :
کج توانوں مرن دا شوق وی سی

یہ سن ثروت سے رہا نہ گیا اور صحیح لوگوں کی مناسب جگہ موجودگی کو غنیمت جان کر اپنے حریف کے خلاف منیر صاحب کو اتحادی بنانے کی مشق کرتے ہوئے کہنے لگے ”منیر صاحب آپ نے کیوں قاسمی صاحب کو شاعر ماننے سے انکار کر دیا تھا اور اکثر ’کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گا‘ والے شعر کو ان کے شاعر نہ ہونے کے ثبوت کے طور پر استعمال کرتے تھے“ میں نے عمو جان کے حق میں کچھ کہنا چاہا کہ فیض صاحب نے اشارے سے روک دیا شاید وہ جانتے تھے کہ ایسا کرنے سے میں بھی اس دشنام طرازی کی زد میں آ جاؤں گی۔ یوں محفل میں تلخی بڑھتے دیکھ میں نے اور فیض صاحب نے عافیت یہاں سے بھاگنے میں جان کر گھر کی راہ لی۔

جب ہم اڑتی بگھی پر سوار گھر کی سمت رواں تھے تو فیض صاحب کوچوان سے مخاطب ہو کر بولے راستے میں مجھے سجاد ظہیر کے ہاں چھوڑ دینا اور مجھے دیکھتے ہوئے کہنے لگے وہاں میجر اسحاق اور اکبر خان میرا انتظار کر رہے ہیں۔ میں یہ سن حیران ہوئی۔ میری مشکوک نظر کو بھانپ کہتے ”کیا کریں وہاں طبقوں کا دکھ تھا اور یہاں درجوں کا“ ۔ بس پھر یوں فیض صاحب کو ان کی منزل پر چھوڑ گھر پہنچی تو تمہارا خط پڑھا۔ تم نے خط میں جنت میں شیعہ کے حالات کا پوچھا تھا۔

سچ بتاؤں تو سنی مسلک سے ہونے کے ناتے تمہیں دکھ ہو گا کہ جیسا تمہیں بتایا گیا تھا ’کہ جنت کے پلاٹ تو صرف سنی حضرات کو ہی الاٹ ہوتے ہیں‘ ویسا کچھ نہیں۔ دنیا کی تخلیق کردہ چیزیں دنیا میں ہر رہ جاتی ہیں جن میں سے ایک تفرقہ بھی ہے۔ شیعہ تو دور یہاں کبھی فرقہ لفظ سے واسطہ نہ پڑا۔ یہاں ملا کے نہیں اللہ رسول کے بتائے دین کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں۔

بتول ترابی اور میرے درجے میں کچھ فرق ہے تو وہ یہاں نہیں آ سکتی، تم احسان کرنا کہ کسی آئے گئے کے ہاتھ اس کے مرثیوں (جنہیں میں دنیا میں شوق سے سنا کرتی تھی) کی کیسٹ بھجوا دینا۔ کاش تمہیں کچھ عرصہ پہلے خط لکھ پاتی اور یوں تم فاروقی صاحب یا شمیم حنفی کے ہاتھ کیسٹ بھجوا دیتے۔ بہرحال سنا ہے کرونا کے باعث آنے والوں کا تانتا بندھا ہے تو کوئی اور سہی۔ گیتو ملے تو میرا پیار اور میری سہیلی پروین قادر آغا کو میری طرف سے سلام نہ صرف اس کو بلکہ اس کے اس کام پر جو اس نے میرے جانے کے بعد میرے لیے کیا اور کر رہی ہے۔ یونہی خط لکھتے رہنا کہ تمہارے لفظوں سے مجھے میرے شہر اور درسگاہ کی خوشبو آتی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
علی رضا جٹ کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments