بائیڈن کے فون کا انتظار کیوں؟

پولیس کی لاٹھی سے میرا جسم پہلی بار جب آشناہوا تو میں چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ اپنے گھر سے رنگ محل مشن ہائی سکول جانے کو روانہ ہوا تو راستے میں تاریخی مسجد وزیر خان آئی۔ وہاں غصے سے بپھرا ہجوم موجود تھا۔ امریکی میگزین ”ٹائمز“ نے اس ہفتے اپنے صفحۂ اول پر ایک تصویر چھاپی تھی جو گستاخانہ ہونے کے سبب ہمارے مذہبی جذبات بھڑکانے کا سبب ہوئی۔ احتجاج کے اظہار کے لئے مشتعل ہجوم نے لاہور کے میوہسپتال کے پچھواڑے سے ہائی کورٹ تک جانے والی سڑک پر جانے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں ”بینک سکوئر“ آتا تھا۔ وہاں امریکی حکومت کے مرکز اطلاعات کا دفتر بھی تھا۔

ہمارے وہاں پہنچنے سے کئی گھنٹے قبل ہی مگر اس مرکز کو پولیس نے حفاظتی حصار میں گھیر رکھا تھا۔ اسے دیکھ کر ہجوم مشتعل ہو گیا۔ فیصلہ ہوا کہ حصار توڑ کر دفتر میں ہر صورت داخل ہوا جائے گا۔ پولیس کی نفری مگر ہماری تعداد سے کہیں زیادہ تھی۔ سمجھانے کی کوشش ناکام رہی تو لاٹھی چارج کا حکم ہوا۔ میں بھی اس کی زد میں آیا۔ کاندھے پر لاٹھی لگی تو زمین پر گرگیا۔ یوں آنکھ پر لگا وہ چشمہ بھی ٹوٹ گیا جو چند ہفتے قبل ہی پہلی بار لگوایا تھا۔ امریکہ کو اس دن کے بعد سے کئی برسوں تک اپنا ”ویری“ ہی تصور کرتا رہا ہوں۔

ہماری حکومتیں مگر میرے ”ویری“ کی اکثر قریب ترین دوست رہی ہیں۔ گستاخانہ تصویریں چھاپنے والے ملک کے فراہم کردہ ڈالر اور جدید ترین ہتھیاروں کی مدد سے غازی ضیاء الحق شہید نے کمیونسٹ روس کو نیست ونابود کرنے کے لئے افغان جہاد کی کمان سنبھالی تھی۔ سوویت یونین کو تباہ کرنے کے بعد مگر وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ امریکہ بھی اپنا کام نکال کر ہم سے غافل ہو گیا۔ جنرل ضیاء کے بعد جو جمہوری حکومتیں آئیں انہیں پاکستان کو ایٹمی قوت میں تبدیل کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتا رہا۔ انہیں ناکام بنانے کے لئے اقتصادی پابندیاں بھی لگادی گئیں۔ تقاضا یہ بھی ہوا کہ ہم اپنے ازلی دشمن یعنی بھارت سے تعلقات کو معمول پر لاتے ہوئے دوستانہ بنانے کی کوشش کریں۔ بالآخر نواز شریف کی دوسری حکومت میں اس جانب پیش قدمی ہوئی تو کارگل ہو گیا۔ امریکہ نے ہمیں اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ جنرل مشرف کو یہ رویہ پسند نہیں آیا۔ خود اقتدار پر قابض ہو گئے۔

امریکی صدر کلنٹن نے ان کی جرات کو حقارت سے نظرانداز کرنے کی کوشش کی۔ اس کی وائٹ ہاؤس سے رخصت کے بعد مگر نائن الیون ہو گیا۔ امریکی صدر بش اور ہمارے جنر ل مشرف اس کی بدولت ایک دوسرے کے Tight Buddyبن گئے۔ پنجابی میں اسے ”لنگوٹیے یار“ بھی کہا جاسکتا ہے۔ بش اور مشرف اقتدار سے رخصت ہوئے تو پاک۔ امریکی تعلقات میں دوبارہ سردمہری نمودار ہونا شروع ہو گئی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نون) کی حکومتیں امریکہ کو رام کرنے میں ناکام رہیں۔

ان کی حکومتیں جب جی حضوری میں مصروف تھیں تو ہمارے سیاسی افق پر عمران خان صاحب دیدہ ور کی طرح نمودار ہو گئے۔ قوم کو انہوں نے خودی کا سبق سکھایا۔ امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی بات منوانے کا عہد کیا۔ ان کی کاوشیں بالآخر رنگ لائیں۔ جولائی 2019 میں ٹرمپ اپنی رعونت بھلاکر انہیں وائٹ ہاؤس مدعو کرنے کو مجبور ہوا۔ اس کی اہلیہ نے ہمارے وزیر اعظم کے ساتھ بہت چاؤ سے سیلفی بھی بنائی۔ ٹرمپ نے ازخود یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ اس ”ثالث“ کے ہوتے ہوئے بھی مگر مودی سرکار نے 5 اگست 2019 والا قدم اٹھایا۔ مقبوضہ کشمیر اس دن سے آج تک دنیا کی وسیع ترین جیل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ”ثالث“ کی جگہ اب وائٹ ہاؤس میں جو بائیڈن بیٹھا ہے۔

بائیڈن حکومت نے افغانستان سے اپنی افواج نکالنے کا قطعی فیصلہ کر رکھا ہے۔ مسئلہ کشمیر نظربظاہر اس کا درد سرد نہیں۔ پاکستان سے تقاضا اب یہ ہو رہا ہے کہ طالبان کو افغانستان میں دائمی امن کے قیام میں مدد دینے کو رضا مند کریں۔ یہ تقاضا کرتے ہوئے فراموش کر دیا جاتا ہے کہ جن طالبان کو دنیا کی واحد سپرطاقت اپنے نیٹو اتحادیوں سمیت اربوں ڈالر کے زیاں اور جدید ترین اسلحہ کے استعمال کے باوجود قابو میں نہ لاپائیں انہیں پاکستان جیسا ملک کیسے ”بندے کا پتر“ بناسکتا ہے۔ امریکی رعونت مگر سادہ منطق دیکھنے کے بھی قابل نہیں۔ دریں اثناء یہ بات بھی مشہور ہو گئی کہ افغانستان سے رخصت کے باوجود امریکہ ہماری سرزمین پر افغانستان پر نگاہ رکھنے کے لئے فوجی اڈوں کا طلب گار ہے۔ عمران خان صاحب نے ”ابسلوٹلی ناٹ“ کہتے ہوئے گل ہی مکادی۔

پیر کی شام عمران حکومت کے ایک مخلص ودیندار وزیر جناب علی محمد خان صاحب نہایت فخر سے دہراتے رہے کہ عمران خان صاحب کی جانب سے ابسلوٹلی ناٹ کہنے کی وجہ سے امریکہ چراغ پا ہو گیا ہے۔ اس کی ناراضی کی وجہ سے ہم دس سے زیادہ قوانین لاگو کرنے کے باوجود فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے باہر نہیں آپائے ہیں۔ فکر کی مگر کوئی بات نہیں۔ قومی خودمختاری اور حمیت کے دفاع کو یقینی بنانے کے لئے آزاد قومیں ہر نوع کی مشکلات کا سامنا کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔ عمران خان صاحب کی خوددار اور ایماندار قیادت میں پاکستان ابسلوٹلی ناٹ والے موقف پر ڈٹا رہے گا۔

عمران حکومت کی بابت بے تحاشا تحفظات کے باوجود علی محمد خان صاحب کی دلیرانہ تقریر سنتے ہوئے میرادل باغ باغ ہو گیا۔ لاہور میں لگی پولیس لاٹھی کی ضرب بھی یاد آ گئی۔ ”دل پھر طواف کوئے ملامت“ کو مچلنے لگا۔ قومی حمیت کے جذبات سے جوان ہوئے میرے دل کو پریشان کرنے کے لئے مگر برطانیہ کے ایک جید اخبار فنانشل ٹائمز نے منگل کے روز ایک خبر چھاپ دی ہے۔

اس خبر پر اعتبار کریں تو ہمارے وزیر اعظم کے انتہائی پڑھے لکھے اور عالمی امور کے ماہر گردانے مشیر برائے قومی سلامتی جناب ڈاکٹر معید سوسف صاحب اس رنج میں مبتلا دکھائی دے رہے ہیں کہ اقتدار سنبھالنے کے آٹھ ماہ بعد بھی امریکی صدر نے ہمارے وزیراعظم کو روایتی خیرسگالی والا فون بھی نہیں کیا ہے۔ یوسف صاحب کو یہ گلہ بھی تھا کہ متعدد بار امریکی صدر کا فون وصول کرنے کے انتظامات بھی ہوئے۔ بائیڈن نے مگر رابطہ ہی نہیں کیا۔

یہ خبر پڑھتے ہی میرے جھکی ذہن میں فوراً سوال اٹھا کہ ابسلوٹلی ناٹ کہہ دینے کے بعد بائیڈن کے فون کا انتظار کیوں۔ وہ ہمارے وزیر اعظم سے رجوع کیے بغیر ہی اگر افغانستان کا معاملہ حل کر سکتا ہے تو ”ست بسم اللہ“ ۔ وہ جانے اور اس کا کام۔ معید یوسف صاحب کو بلکہ امریکی صدر کے مشیر برائے قومی سلامتی سے چند ہفتے قبل جنیوا اور اب واشنگٹن پہنچ کر ملاقات کی ہرگز ضرورت نہیں تھی۔ عمران حکومت کے ایک وزیر جو تحریک انصاف کے دیرینہ کارکن بھی ہیں پاکستان کی ”سب پہ بھاری“ قومی اسمبلی کو بتارہے ہیں کہ ابسلوٹلی ناٹ کہنے کے بعد امریکہ کو قطعی پیغام پہنچادیا گیا ہے۔

وزیر اعظم کے ٹیکنوکریٹ مشیر برائے قومی سلامتی مگر اصرار کر رہے ہیں کہ اپنے امریکی ہم منصب سے ان کی ”مثبت“ ملاقاتیں ہوئیں۔ پاکستان اور امریکہ ان ملاقاتوں کی وجہ سے باہمی تعلقات کو نہایت خاموشی اور بردباری سے بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے مجھ جیسے بے خبر اور بے اختیار شہری کس کی بات کا اعتبار کریں۔ علی محمد خان صاحب کے فرمودات کی روشنی میں قومی حمیت کے تحفظ کے لئے کمرکس لیں یا معید یوسف صاحب کی طرح بائیڈن کے دوستانہ ٹیلی فون کا انتظار کریں؟
بشکریہ نوائے وقت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words