نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر کو سردرد ہونے پر پمز ہسپتال لے جایا گیا

بدھ کے دن سہ پہر کو نور مقدم قتل کیس کے ملزم ظاہر جعفر کو سر درد کی شکایت پر پمز ہسپتال لے جایا گیا۔ پمز ہسپتال کے ڈاکٹر وسیم خواجہ کے مطابق ظاہر جعفر کی صحت اچھی تھی اور کوئی پریشان کن بات نہیں تھی۔ پمز ہسپتال کے ڈاکٹروں کے مطابق ایک مختصر چیک اپ کیا گیا جس میں بلڈ پریشر اور درجہ حرارت نارمل پایا گیا۔

سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا جہاں کہا گیا کہ ظاہر جعفر کو دولت مند اور امریکی شہری ہونے کی وجہ سے اس خاص سلوک کا مستحق سمجھا گیا۔

فاطمہ بھٹو نے لکھا کہ ”اگر پاکستان کے قانونی نظام میں موجود ہر قیدی کو سر درد ہونے پر پمز نہیں لے جایا جاتا تو یہ طاقت کا بیمارانہ استعمال ہے۔ ظاہر جعفر کو اس کے سنگین جرم کے بعد اس طرح دولت اور اثر و رسوخ کے بل پر تمام مراعات ملنا اشتعال انگیز ہے“ ۔

نگہت داد نے لکھا ”بے بی ملزم کی طبعیت ناساز، باقی ملزموں اور قیدیوں کو بھی یہ سہولت میسر ہے یا صرف امیر ملزموں کے لیے یہ آپشن موجود ہے؟“

ظاہر جعفر کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کو اعانت جرم کے الزام میں 24 جولائی کو حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں اور نو اگست کو ان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنایا جائے گا۔ ان کے وکیل راجہ رضوان نے کہا کہ انہوں نے عوامی سطح پر اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ہم مظلوم خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں، اپنے بیٹے کے نہیں“ ۔ وکیل کے مطابق انہیں علم نہیں تھا کہ نور مقدم کی موجودگی میں ان کے گھر میں کیا ہو رہا ہے۔

اتوار کی رات عمران خان نے ٹی وی پر سوال جواب کے ایک پروگرام میں یقین دہانی کروائی کہ ”اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ دوہری شہریت کا حامل ہے اور امریکی شہری ہے اور بچ نکلے گا، تو مجھے آپ سب کو یہ کہنے دیں کہ کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا“ ۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words