قائد کی تصویر کے سامنے نازیبا تصویر ناجائز، البتہ تصویر کے سامنے کرپشن جائز ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایکسپریس ہائی وے پر موجود بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر اور ان کے فرمان ’ایمان، اتحاد، تنظیم‘ کے سامنے گزشتہ دنوں فوٹو شوٹ کرنے والے نوجوان لڑکا لڑکی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
چند روز قبل ایک لڑکا اور لڑکی کا فوٹو شوٹ منظر عام پر آیا تھا جس میں وہ دونوں بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر کے سامنے کھڑے تھے جس کے بعد سے ان پر سوشل میڈیا پر خاصی تنقید کی جا رہی تھی اور ان نوجوانوں کی فوری گرفتاری اور مقدمہ کا مطالبہ بھی کیا جا رہا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق ’اسلام آباد میں کورال چوک پر نصب قائداعظم کے پورٹریٹ کے سامنے لڑکے اور لڑکی کا ڈانس کرنا اور تصاویر بنانا ہمارے عظیم قائد کی عزت کی پامالی ہے۔‘
ویسے اس بات میں تو حقیقت ہے کہ پاکستان کی ثقافت کے مطابق یہ فعل نامناسب تھا اور اس حرکت سے باز رہنا چاہیے تھا۔ لیکن اگر کوئی نوجوان پہلی بار اس طرح کی غلطی کریں تو انھیں اس بات کا مارجن ضرور دینا چاہیے اور تنبیہ کر کے سمجھایا بھی جاسکتا ہے مگر فوری طور پر ایف آئی آر کٹوا دینا مناسب ردعمل نہیں۔
اس عمل کو غلطی کہا جاسکتا ہے اور اس پر سخت سرزنش بھی ہو سکتی تھی۔ مگر اب وہ قانونی معاملات میں الجھ جائیں گے اور ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ جائے گا۔ اس طرح ان کی جان بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں ایک سے بڑا ایک سر پھرا کھلے عام گھومتا ہے۔
ویسے قائد کی ان تصویروں کے سامنے ہونے والا نازیبا حرکات تو لوگوں کو نظر آجاتی ہے، بڑے دفاتر کے افسروں کو نظر آجاتی ہے اور ان کے خلاف صرف دو روز میں مقدمہ بھی درج ہوجاتا ہے مگر غور کریں تو قائد اعظم کی تصویر ہر بڑے دفاتر میں لگی ہوتی ہے اور ان تصاویر کے عین سامنے بلکہ اس تصویر کے سائے میں جب رشوت کا بازار گرم ہوتا ہے تو کسی کو نظر نہیں آتا۔ کیا یہ نازیبا حرکت نہیں کہلائی جائے گی؟
رشوت لینے والے بڑے بڑے افسر بڑی دیدہ دلیری سے قائد اعظم کی بڑی تصویر کے سامنے قائد اعظم کی تصویر والے کرنسی نوٹ وصول کرتے ہیں۔ کیا یہ کرنسی نوٹ عین تصویر کے سامنے لینا نازیبا حرکت نہیں؟ مشورہ یہ ہے کہ رشوت لیتے وقت تصویر کو کچھ لمحے کے لئے دیوار سے ہٹا لیں اور پاکستان کے کرنسی نوٹوں کے بجائے ڈالر یا سونے کے بسکٹ سے کام چلا لیں۔ ورنہ تو ہم آپ کو نازیبا ہی کہے گے۔
ایک صحافی ہیں اور ان کی بہت ساری خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر چیز میں فحاشی ڈھونڈ لیتے ہیں مگر جس مذہب کے دعویدار ہیں اس میں مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کو نہیں ڈھونڈ پاتے۔
کیا دہشت گردی کرنے والے؟ یا پھر انتہا پسندی پھیلانے والے؟ کافر کافر کا نعرہ بلند کرنے والے لوگ نازیبا نہیں؟ یہ حضرت کبھی اشتہار میں نازیبا چیز ڈھونڈ لیتے ہیں تو کبھی تصویر میں، لیکن جو مذہب میں نازیبا حرکتیں کرتے ہیں اس پر اپنی ظالمانہ تاویل دیتے ہیں اور اس کی مذمت کے لئے دو الفاظ کہنے پر ان کو موت پڑ جاتی ہے۔
بات مختصر یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر کے عین سامنے اور تصویر والے کرنسی نوٹ سے بہت سے نازیبا کام جاری ہیں اور کرنے والے بڑے بڑے اور پڑھے لکھے لوگ ہیں مگر ان کی پاور اتنی زیادہ ہے کہ ان پر کوئی مقدمہ نہیں کرتا۔
کوئی اسٹوڈنٹ یا نوجوان اپنی لاعلمی میں کوئی اس طرح کا نازیبا کام کریں تو اس پر فوری پرچہ نہیں ہوتا بلکہ سرزنش ہوتی ہے اور تنبیہ کی جاتی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے کام سے باز رہیں۔ البتہ یہ بات الگ ہے کہ بہت سے حلف یافتہ بڑی ڈھٹائی سے اپنی ہر قسم کی نازیبا حرکتیں ہر حال میں جاری رکھتے ہیں۔

